جمعرات , 15 نومبر 2018

محکمہ زراعت کے افسرانِ بالا سے مؤدبانہ التماس

(ایاز امیر)
راول بالا چکوال تحصیل کا ایک جانا پہچانا گاؤں ہے۔ اس کے ایک رہائشی ظہیرالدین بابر کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے۔ وہ تعلیم کے لئے ایران گیا اور قم کی ایک مشہور درسگاہ میں کچھ سال گزارے۔ عراق میں جو تاریخی مقامات ہیں جہاں زیارت کیلئے شیعہ لوگ جاتے ہیں وہاں بھی ایک آدھ بار گیا۔ پاکستان میں ایک این جی او کے ساتھ منسلک ہوا جو مختلف مقامات پہ زمینیں ٹھیکے پہ لے کر اُنہیں جدید زرعی طریقوں سے ڈویلپ کرتی ہے۔ ایک ایسی زمین اِس این جی او نے تھانہ بوسال تحصیل جند میں لی تھی جس کی دیکھ بھال ظہیرالدین بابر کے سپرد تھی۔ وہاں وہ کچھ عرصے سے کام کر رہا تھا کہ اچانک 20 اکتوبر 2016ء کو ایک ریڈنگ پارٹی آئی جس میں چار پانچ گاڑیاں تھیں، 20-15 اشخاص سادہ کپڑوں میں تھے جبکہ ایک وردی میں ملبوس پنجاب پولیس کا انسپکٹر تھا۔ دو جوانوں نے ایلیٹ کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ ظہیرالدین کو اُٹھا لیا گیا اور اُس دن سے لے کر آج تک اُس کا کوئی اَتاّ پتہ نہیں۔ خاندان والے جہاں جہاں دستک دے سکتے ہیں اُنہوں نے دی لیکن بے سود۔ گویا ظہیرالدین صفحہ ہستی سے کہیں گم ہو گیا۔

مشکل سے تھانہ بوسال میں وقوعہ کا پرچہ درج ہوا لیکن پولیس بے بس تھی۔ اُٹھانے والے پراسرار بندے تھے ، پولیس کیا کرتی۔ گھر والوں نے ہاتھ پیر تو مارنے ہی تھے ، اس لئے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی۔ اُس کا بھی کیا بننا تھا؟ پولیس والے ہائی کورٹ کے سامنے بیان دیتے رہے کہ تفتیش جاری ہے اور مبینہ مغوی کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

ایسے گمشدہ افراد کیلئے ایک کمیشن بھی قائم ہے جس کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہیں جو نیب کے بھی چیئرمین ہیں۔ اُن کے سامنے بھی لواحقین داد و فریاد کرتے پیش ہوئے اور جو سینہ کُوبی کر سکتے تھے اُنہوں نے کی ۔ جسٹس صاحب نے تسلیاں دیں اور یقین دلایا کہ اُن کا گمشدہ فرد جلد یا بدیر سامنے آ جائے گا۔ جسٹس صاحب نے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائشوں میں ڈالتا ہے اور ایسی ایک آزمائش سے وہ گزر رہے ہیں۔ کچھ کہنا مشکل ہے کہ لواحقین کی اِن باتوں سے کیا تسلی ہوئی۔

قدرتی طور پر لواحقین کا شک محکمہ زراعت کی طرف گیا۔ لیکن کیا کرتے ، کہاں دستک دیتے ؟ محکمہ زراعت کے دروازے تو ہیں لیکن اکثر اندھیروں میں۔ ہر ایک کی نظروں سے اُن کو دیکھا نہیں جا سکتا۔ کوئی دروازہ نظر بھی آجائے تو وہاں ہر کوئی پہنچ نہیں سکتا۔ چکوال فوجی علاقہ ہے اور تقریباً ہر گاؤں سے تعلق رکھنے والے مختلف رینکوں پہ فوج میں ہیں ۔ جہاں کوئی بس چلتا لواحقین جا پہنچتے اور اپنی کہانی بیان کرکے فریاد کرتے۔ لیکن کوئی بھی بات بَن نہ پائی ۔ ایک بیان جو پولیس والوں نے لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پیش کیا اُس سے کچھ عندیہ ملا کہ اصل معاملہ کیا ہے ۔ آر پی او راولپنڈی کے دفتر سے جاری کردہ خط میں یہ تحریر تھا کہ گو مغوی کا کچھ پتہ نہیں چلا لیکن دورانِ تفتیش یہ معلوم ہوا ہے کہ ظہیرالدین بابر نوجوانوں کو عراق اور شام بھیجنے میں ملوث رہا ہے۔

ظہیرالدین بابر کا ذاتی ریکارڈ بالکل صاف ہے ۔ کبھی کسی مقدمے میں ملوث نہیں رہا ۔ گاؤں کے کسی لڑائی جھگڑے میں اُس کا نام سامنے نہیں آیا ۔ میں نے خود علاقے کے لوگوں سے پتہ کیا ہے اور سب اُس کی شرافت کی گواہی دیتے ہیں ۔ مان بھی لیا جائے کہ عراق اور شام نوجوانوں کو بھیجتا رہا ہے تو اگر یہ واقعی قوانینِ پاکستان کی رُو سے کوئی جرم بنتا ہے تو اِس میں کیا تامل ہے کہ اُس پہ مقدمہ بنایا جائے اور مجاز عدالت کے سامنے پیش کیا جائے ؟ دو سال غائب رکھنا، یہ کہاں کی حکمت اور منطق ہے؟

جب نام نہاد جہادِ افغانستان جاری تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان ملکوں سے ایک خاص اسلامی نقطہ نظر رکھنے والے اُس میں حصہ لینے پاکستان کی طرف آئے۔ پشاور اور افغان بارڈر کے ساتھ دیگر مقامات اُن نام نہاد جہادیوں کے مرکز بنے رہے۔ پاکستان نے اُن لوگوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے نہ صرف کھلی چھٹی دے رکھی تھی بلکہ اسلحہ اور تربیت سے لے کر ریال و ڈالر تک اُن کی ہر طرح کی معاونت کی ۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے لوگ ہیرو اور مجاہدینِ اسلام کہلائے۔ نام نہاد جہادِ افغانستان کا اثر پاکستان پہ کیا پڑا‘ ہم جانتے ہیں۔ افغانستان میں تو کوئی بہتری نہ آئی لیکن اُس جہاد کا بوجھ اٹھانے سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ جو دہشت گردی کی فصل پاکستان کو بعد میں کاٹنی پڑی اُس کی جڑیں بھی اس جہاد سے جا ملتی ہیں۔

اول تو یہ بات ٹھوس شہادتوں کے ساتھ سامنے نہیں آئی کہ ظہیرالدین بابر اور اُس جیسے اور عراق اور شام نوجوان بھیجنے میں ملوث رہے ہیں۔ یہ بات تو تب ہی وثوق سے کہی جا سکے گی جب معاملہ کسی عدالت کے سامنے آئے۔ لیکن مفروضے کے طور پہ اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو ہمارے محکمہ زراعت اور اُس سے منسلک دیگر اداروں کو اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ امریکی حملے کے بعد عراق میں پاکستانی مفادات تو داؤ پہ نہیں لگے ہوئے تھے۔ عراق کی سُنی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ امریکیوں کے خلاف عزمِ بغاوت لے کر اُٹھا۔ شیعوں کے اپنے مفادات تھے۔ اُن کی کئی تنظیموں کو ایران کی طرف سے مدد مہیا ہو رہی تھی۔ سارے معاملے میں پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ ہم نے عراقی عوام کی کیا مدد کرنی تھی، ہم امریکی حملے کی مناسب الفاظ میں مذمت نہ کر سکے۔ جب داعش یا اسلامی ریاست وجود میں آ چکی تھی اور اُس نے عراق کے ایک بہت بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا تو ایرانی امداد نے داعش کو شکست دینے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ پاکستان کا اس کارروائی میں بھی کوئی حصہ نہ تھا۔ ہم تو اپنی مصیبتوں میں پھنسے ہوئے تھے۔

رہا شام تو وہاں اور ممالک کا کردار رہا ہے۔ جو تنقید بھی صدر بشارالاسد پر کی جائے ایک بات تو ماننی پڑے گی کہ شام کی خانہ جنگی میں اُس نے بہت ہمت دکھائی۔ مخالف فوجیں دمشق کے کئی حصوں میں داخل ہو چکی تھیں‘ تب بھی بشارالاسد اور اُس کی فیملی کبھی دمشق کو چھوڑ کے نہیں گئے۔ لڑتے رہے اور بالآخر روس، ایران اور حزب اللہ کی مدد سے اور اپنی ہمت سے باغیوں پہ سبقت لینے میں کامیاب ہو گئے۔ باغیوں کو کہاں کہاں سے مدد آ رہی تھی ہم جانتے ہیں۔ امریکہ کی امداد تو تھی ہی لیکن ایسے عرب ممالک بھی شامی باغیوںکی بھرپور مدد کرتے رہے جن کا یہاں نام لینا شاید مناسب نہ ہو۔ دنیا میں جنگیں ہوتی ہیں، نوجوان اور دیگر رومانوی ذہن رکھنے والے لوگ اُن میں جا کے حصہ لیتے رہتے ہیں۔ اِس میں کیا خرابی ہے؟ 1936-39ء کی سپین میں جاری خانہ جنگی میں بہت سارے باہر کے لوگ آ کے شامل ہوئے تھے۔ ہٹلر کی جرمنی جنرل فرینکو کے پیچھے تھی اور دوسری طرف ری پبلکن سائیڈ پہ لڑنے والے بہت سے آئیڈیلسٹ (idealist) مختلف ممالک سے آئے۔ اُن کی ایک خاص یونٹ بھی بنی جس کا نام تھا ”انٹرنیشنل بریگیڈ‘‘۔ میں نہیں کہہ سکتا کتنے پاکستانی شام کے محاذوں پہ گئے یا کوئی گئے بھی یا نہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا بھی تو کون سے پاکستانی قانون کی خلاف ورزی اس حرکت سے ہوئی ہو گی؟

لیکن اِس بحث سے قطع نظر دو سال کسی شخص کو غائب رکھنے کی کیا منطق ہے؟ پاکستان میں دہشت گردی میں کوئی ملوث ہو تو پھر اور بات ہے۔ ایسے اشخاص کے لئے کوئی رُو رعایت نہیں ہو سکتی۔ کوئی ہندوستان کا ایجنٹ ہو اور اُس کیلئے جاسوسی کر رہا ہو تو پھر ایسی لمبی گمشدگی کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن یہ کہ کوئی فلاں مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور شام یا عراق میں پتہ نہیں کیا کرتا رہا ہے، یہ کیا بات ہوئی؟ مجھے ذاتی طور پہ ظہیرالدین بابر سے زیادہ محکمہ زراعت کی فکر ہے ۔ ایسی بے جا لمبی گمشدگیاں محکمہ زراعت کے امیج کیلئے اچھی نہیں۔ اس لئے مؤدبانہ اپیل ہے کہ ظہیرالدین کے مسئلے کو ہمدردی سے دیکھا جائے۔بشکریہ روزنامہ دنیا

یہ بھی دیکھیں

حضرت محمدؐ: امن اور اتحاد کے ایک عظیم پیغامبر

(محمد اکرم چوہدری) وہ مہینہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنی مخلوق کے لیے ...