بدھ , 21 نومبر 2018

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر)

قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری سپیچ کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کر چکے ہیں۔ ہم نے خاص طور پر وکٹری سپیچ میں خارجہ امور کے جن خطوط کا ذکر کیا گیا انھیں اپنا موضوع سخن بنایا تھا۔ اس سپیچ کے بعد عمران خان کے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے مابین بھی خارجہ امور کے حوالے سے کئی ایک نئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ان میں اگرچہ بہت سے پہلو ہماری توجہ کا استحقاق رکھتے ہیں تاہم آج کی نشست میں ہم سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کی تشکیل نو کے امکان پر بات کریں گے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ عمران خان نے اپنی وکٹری سپیچ میں مشکل مواقع پر سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کی مدد کا ذکر کیا اور کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں جنھیں مزید مضبوط بنایا جائے گا، جب کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں پاکستان فریق بننے کے بجائے ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس کے بعد سعودی عرب کے پاکستا ن میں متعین سفیر کی بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات اور اس میں شاہ سلمان کی طرف سے مبارکباد کی خبر کو خاصی اہمیت حاصل ہوئی۔ بعدازاںسعودی عرب کی طرف سے تہنیت کے مزیدپیغامات آنا شروع ہوئے جو اہم بھی ہیں اور معنی خیز بھی۔

اس میں تو سعودی عرب کو بھی شک نہیں ہوگا کہ عمران خان کی قیادت میں قائم ہونے والی حکومت مسلمان ممالک کے مابین جاری آویزشوں میں جانبدارانہ کردار ادا نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں عمران خان کا نقطہ نظر بہت واضح ہے وہ افغانستان کے معاملات میں امریکی ایما پر پاکستان کی مداخلت کے خلاف بہت کچھ کہہ چکے ہیں اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے منفی اثرات کا بہت مرتبہ ذکر کر چکے ہیں۔ ماضی میں بھی جب سعودی عرب نے یمن کے خلاف اپنی جنگ میں پاکستان سے تعاون کے لیے کہا تو یہ عمران خان ہی تھے جنھوں نے پارلیمنٹ میں بڑھ چڑھ کر پاکستان کے غیر جانبدار رہنے کی قرارداد کی منظوری میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اب انھوں نے پھر واضح کردیا ہے کہ وہ صلح اور ثالثی کے لیے کردار ادا کریں گے۔ اس کے باوجود سعودی عرب کے بادشاہ کی طرف سے دو مرتبہ انھیں فون کرکے مبارکباد کا پیغام دیا جا چکا ہے۔ سعودی ولی عہد نے بھی مبارکباد کے لیے فون کیا ہے۔ دیگر سعودی حکام کی طرف سے بھی مبارکباد کے پیغامات مل رہے ہیں۔ ان میں تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان کا پیغام تہنیت بھی شامل ہے۔ مبارکبادی کے پیغامات کی یہ رم جھم ماضی سے خاصی مختلف معلوم ہوتی ہے۔ بعید نہیں کہ اب سعودی عرب کو ثالثی کے لیے ہی پاکستان کی خدمات درکار ہوں جس کا عندیہ عمران خان اپنی مذکورہ تقریر میں دے چکے ہیں۔

سعودی عرب اس وقت داخلی اور خارجی طور پر بہت سی مشکلات میں گھر چکا ہے۔ یمن کا محاذ اس کے لیے سب سے زیادہ مشکل اور مہنگا معلوم ہوا ہے۔ سعودی اور اماراتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ وہ دو ہفتوں میں صنعا میں قائم حوثیوں کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے لیکن یہ دو ہفتے پھیلتے پھیلتے اب اڑھائی برس تک پہنچ چکے ہیں۔ دوسری طرف جنگ کا دائرہ بھی پھیلتا چلا جارہا ہے۔ یہ جنگ مزید مہنگی اور مشکل ہوتی چلی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سعودی عرب کو اوسطاً ہر روز اس جنگ پر دس ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ رہے ہیں جب کہ سعودی معیشت پہلے ہی زوال پذیرہے جس کے بہت سے شواہد سامنے آچکے ہیں۔ اسلحے کی بے ہنگم اور بے تحاشا خریداری نے سعودی معیشت کو نڈھال کر دیا ہے۔ اس اسلحے نے اس کی طاقت میں اضافہ کرنے کے بجائے اسے کمزور کردیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں، وہ مختلف حیلوں سے کئی مرتبہ جنگ بندی کی کوشش کر چکا ہے، کبھی تو وہ یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیتا ہے۔ ان حالات میں عمران خان کی حکومت سعودی عرب کے لیے فیس سیونگ کا کوئی راستہ نکالنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان ترکی اور ایران سے اپنے قابل اعتماد روابط کو بھی بروئے کار لا سکتے ہیں۔ ایران اور ترکی مل کر روس اور چین سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔ قطر کے ساتھ خواہ مخواہ کی آویزش کا خاتمہ بھی ایجنڈے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ سعودی ولی عہد کے مبارکباد کے پیغام اور وزیراعظم عمران خان کے جواب میں پاک سعودی تعلقات کے بعض نئے زاویوں کا سراغ بھی ملتا ہے، چنانچہ سعودی ولی عہد نے عمران خان کو ٹیلی فون کرکے انھیں انتخابات میں جیت میں مبارک باد دینے کے علاوہ مستقبل میں مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گفتگو کے دوران میں سعودی ولی عہد نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی زیر نگرانی سعودیہ میں کرپشن کے خلاف موثر مہم چلائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہترین گورننس کرپشن کے خاتمے سے ہی ممکن ہے۔ ہم بھی ولی عہد کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاک سعودی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ عنقریب دونوں ملکوں کے سربراہ ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے۔ اس پیغام اور جوابِ پیغام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک تعلقات کو اب نئی سمت دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ شاید وہ دن اب گزر گئے ہیں کہ جب پاکستان پر سعودی عرب کی سرحدوں سے باہر کی جنگوں میں مدد اور شرکت کے لیے زور دیا جاتا تھا۔ اب تجارتی تعلقات کو بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا۔ سعودی ولی عہد نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا ہے، پاکستان کی اپنی بھی یہی خواہش ہو گی۔ یہ برابری کی سطح پر تعلقات کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ نیز اگر سعودی عرب خطے میں اپنی جارحانہ پالیسیوں کو ترک کردے تو اس کو داخلی استحکام بھی حاصل ہو سکتا ہے اور ہمسایہ ممالک میں بھی مزید پذیرائی حاصل ہو سکتی ہے۔ شاید بعض لوگ اسے امید کے خلاف امید قرار دیں لیکن اچھی امید باندھنے میں کیا برائی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ دنیا میں سب کا ہمسایہ ہے

(محمد مہدی)  امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے انعقاد کے ساتھ ہی امریکی سیاست اور ...