جمعرات , 15 نومبر 2018

امریکہ کو لاحق دو بنیادی خوف

(تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی)
دو "اسٹریٹجک خوف” ایسے ہیں جنہوں نے امریکہ کے مستقبل اور خطے سے متعلق خارجہ پالیسی کو شدید انداز میں متاثر کر رکھا ہے۔ یہ دو خوف اسرائیل کی صہیونی رژیم اور سعودی عرب کی آل سعود رژیم کا ممکنہ انجام ہے۔ ان دو خوف پر غلبہ پانے کیلئے واشنگٹن کے پاس موثر راہ حل موجود نہیں۔ مالی طاقت، فوجی طاقت اور اتحاد سازی کی طاقت اب تک ان دو اسٹریٹجک خوف کو دور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ ہر زمانے سے زیادہ "امریکہ کی موثر طاقت” ظاہر کرنے کیلئے سیاسی پروپیگنڈے اور نفسیاتی ہتھکنڈوں کا محتاج ہے۔ درحقیقت یہ امریکہ کے پاس واحد راہ حل ہے۔ اس بارے میں چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

1)۔ چالیس سال پہلے تک چند نکات کے علاوہ ہمارا پورا خطہ امریکہ کے سیاسی، فوجی، اقتصادی اور سکیورٹی اثرورسوخ کے زیر اثر تھا۔ ایران، ترکی، مصر، سعودی عرب، پاکستان، اسرائیل کی جعلی رژیم، اردن، لبنان، مراکش، شمالی یمن، عمان، بھارت وغیرہ، برصغیر سے لے کر براعظم افریقہ کے مغربی حصے تک امریکہ کے حقیقی اور مکمل قبضے میں تھا اور کوئی بھی اقدام کرنے کیلئے یہی کافی تھا کہ امریکی سفیر اس کا ارادہ کر لیتا۔ اگر امریکی سفیر کا یہ ارادہ دن کے وقت ظاہر ہوتا تو رات ہونے سے پہلے اور اگر رات کے وقت ظاہر ہوتا تو صبح ہونے سے پہلے اس کی تکمیل ضروری تھی ورنہ کوئی نہ کوئی حکومت تبدیل ہو جاتی تھی۔ ایران کے سابق فرمانروا محمد رضا پہلوی کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایک دن محمد رضا پہلوی انتہائی پریشان اور خوفزدہ حالت میں آیا اور میرے سامنے پڑی ایک سادہ سی کرسی پر بیٹھ گیا۔ جب میں نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ابھی ابھی امریکی سفیر نے مجھے فون کیا ہے اور کہا ہے کہ تمہیں ایران سے باہر جانا ہو گا! آج ہمارے خطے کی یہ صورتحال ہے کہ چند نکات کے علاوہ کوئی حصہ امریکہ کے مکمل قبضے اور اثرورسوخ کا شکار نہیں ہے۔ سعودی عرب، اسرائیل، متحدہ عرب امارات وغیرہ۔ اور ان چند محدود موارد میں بھی یہ بات یقینی حد تک نہیں کہی جا سکتی کہ واشنگٹن ان ممالک میں موجودہ حکومت کو گرنے سے بچانے یا نئی حکومت برسراقتدار لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2)۔ خطے میں امریکی اثرورسوخ کی اصلی بنیاد اس کی فوجی طاقت پر استوار تھی۔ یہ فوجی طاقت بھی 1938ء سے 1979ء یعنی دوسری عالمی جنگ سے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کارآمد تھی اور اس نے حقیقی معنی میں امریکی طاقت کی "منفرد قبضے” کی صورت میں تصویر پیش کر رکھی تھی۔ امریکہ نے اس دوران یورپ میں بحیرہ ایڈریاٹیک سے لے کر بحر ہند کے مشرق میں واقع ڈیئے گوگارشیا جزیرے تک مستقل فوجی ٹھکانے اور بیس کیمپس تعمیر کر رکھے تھے جبکہ طیارہ بردار جنگی کشتیوں کی صورت میں اس کے پاس موبائل فوجی ٹھکانے بھی موجود تھے۔ جیسا کہ اب بھی امریکہ کے پاس بڑی تعداد میں فوجی ٹھکانے موجود ہیں جن کی تعداد مذکورہ بالا جغرافیائی حدود میں 300 سے زائد ہے۔ آج یہ بھاری بھرکم اور شدید اخراجات کا حامل فوجی سیٹ اپ اپنی ماضی کی افادیت کھو چکا ہے۔ خطے میں امریکہ مخالف قوتوں کی فوجی اور دیگر میدانوں میں امریکہ کے خلاف مسلسل کامیابیاں اس فوجی سیٹ اپ کے بے فائدہ ہونے کا بہترین اور اہم ترین ثبوت ہے۔ جب امریکہ کے مستقل اور متحرک فوجی ٹھکانوں نے حزب اللہ لبنان کا ہر طرف سے محاصرہ کر رکھا تھا وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں فتح سے ہمکنار ہوئی۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ امریکہ کے فوجی ٹھکانے اور سیٹ اپ اپنی 1938ء سے 1979ء والی افادیت مکمل طور پر کھو چکے ہیں۔

مزید برآں، اسٹریٹجی اور ٹیکٹکس کے لحاظ سے بھی امریکہ کی فوجی طاقت بنیادی چیلنجز کا شکار ہو چکی ہے۔ اسٹریٹجی درحقیقت "زیادہ سے زیادہ مفادات کے حصول اور بنیادی خطروں کو کم کرنے کیلئے فراہم وسائل اور مواقع کی درست مدیریت کا فن” ہے۔ امریکہ کے اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں کی جانب سے اپنے عہدے سے سبکدوشی کے فوراً بعد سامنے آنے والے بیانات کے علاوہ آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے خطے میں امریکہ کے "مفادات” نہ صرف زیادہ سے زیادہ تکمیل نہیں ہو رہے بلکہ شدید طور پر خطرے میں پڑے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف حالیہ سالوں کے دوران امریکہ کو درپیش بنیادی خطرات میں نہ صرف کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ ان میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آج حتی امریکہ کے فوجی ٹھکانے بھی شدید خطروں سے دوچار ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں امریکہ نے طالبان کے خاتمے کا نعرہ لگاتے ہوئے فوجی مداخلت کی ہے لیکن آج اس ملک میں امریکی فوجی کمانڈر طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ افغانستان کے صرف 25 فیصد حصے پر قابض اس گروہ کو اس بات پر راضی کر سکے کہ افغانستان میں موجود امریکی فوجی بیسز جنکی تعداد انتہائی محدود ہے، کو اپنے حملوں کا نشانہ نہ بنائے۔

جب امریکہ نے عراق پر فوجی قبضہ کیا تو وہاں اس کے تین لاکھ سے زیادہ فوجی موجود تھے۔ اس کے باوجود جب امریکہ نے عراق سے فوجی انخلاء کا ارادہ کیا تو اعلی سطحی امریکی کمانڈرز نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ عراقی شیعہ مسلح گروہوں کی جانب سے انہیں یہ یقین دہانی کروائیں کہ ان پر عراق سے نکلتے وقت کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا تاکہ وہ کسی جانی نقصان کے بغیر عراق چھوڑ کر وطن واپس آ سکیں۔ یاد رہے 2007ء میں امریکہ اور عراق کے درمیان سکیورٹی معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے تمام امریکی فوجیوں کے انخلاء پر اتفاق رائے کیا گیا تھا۔ اس وقت امریکی فوج اور پینٹاگون کا نظریہ یہ ہے کہ امریکہ کے پاس موجود زمینی، سمندری اور ہوائی فوجی ہتھیار خاص طور پر بھاری بھرکم فوجی سازوسامان جیسے طیارہ بردار جنگی جہاز دشمن کے مقابلے میں مددگار اور مفید واقع ہونے کی بجائے امریکی مسلح افواج کیلئے وبال جان ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے پینٹاگون کے ایک فوجی ماہر نے فاش کیا کہ امریکی نیوی میں شامل جنگی جہازوں کی عمر چالیس سے اسی برس اور متوسط طور پر 65 سال ہے۔ اس نے نتیجہ گیری کرتے ہوئے وضاحت کی: "طیارہ بردار جنگی جہاز جو مہنگے ترین فوجی وسائل تصور کئے جاتے ہیں، پرانے ہونے کے علاوہ سالانہ 1.2 ارب ڈالر کے اخراجات کا بھی باعث ہیں جبکہ یہ جنگی جہاز دشمن کی جانب سے بہت آسانی اور کم اخراجات کے بدلے حملوں کا نشانہ بن کر غرق ہو سکتے ہیں۔” اس فوجی ماہر نے مزید کہا کہ امریکہ کے ہوائی اور سمندری فوجی ہتھیار نہ صرف امریکی فوج کو پیشقدمی میں مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ میدان جنگ میں لڑنے والے کمانڈرز کیلئے وبال جان بن جاتے ہیں۔ ایک اور امریکی فوجی ماہر نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ مغربی ایشیا میں اس قدر مستقل اور موبائل فوجی اڈوں کا مالک ہے وہ کسی کے خلاف جارحانہ انداز نہیں اپنا سکتا کیونکہ اگر اس کے یہ فوجی ٹھکانے ختم کر دیئے جائیں تو دنیا میں کوئی اسے فوجی طاقت کے طور پر قبول نہیں کرے گا۔ اس نے مزید کہا کہ اس خطے میں ہمارے مخالفین کے پاس کم سطح کے فوجی وسائل ہیں لیکن وہ امریکہ کی فوجی ناکارآمدی سے بخوبی آگاہ ہیں لہذا ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے اہداف حاصل کرتے ہیں۔

3)۔ گولڈا مئیر سرکاری اعلامئے کے مطابق اسرائیل کی تشکیل کا بنیادی فلسفہ براعظم ایشیا میں مغربی مفادات کا تحفظ اور ان کا پھیلاو ہے۔ اسی طرح برطانیہ کے انتہائی بااثر عہدیدار بالفور نے بھی اسرائیل تشکیل پاتے وقت انتہائی واضح انداز میں کہا کہ اسرائیل ایشیا میں مخالفین کے خلاف ہمارا ہراول دستہ ہے۔ البتہ آج جو تصویر یورپی اور امریکی حکام کے ذہن میں اسرائیل سے متعلق پائی جاتی ہے وہ ان میں سے کسی سے بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ اب اسرائیل مزید مغرب کا ہراول دستہ نہیں رہا جیسا کہ شام کے بحران میں بھی اسرائیل صدر بشار اسد کی سرنگونی اور اسلامی مزاحمتی بلاک سے ایک اہم اور اسٹریٹجک مورچہ چھیننے میں مغرب کی کوئی مدد نہ کر سکا۔ اسی طرح امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعات کے دوران اغوا اور جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے باوجود اسرائیل مغرب کی موثر مدد نہ کر سکا۔ البتہ یہ الگ بات ہے کہ ان تمام ایشوز میں اسرائیل کو بھی خاص کردار سونپا جاتا ہے۔

اسرائیل آج اپنی سکیورٹی اور تحفظ کی پالیسیوں کا محتاج ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مزید "جارح” پوزیشن میں نہیں رہا اور وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ غزہ کے محصور علاقے میں شہری آبادی پر بمباری کر دے یا شام میں سرگرم دہشت گرد عناصر کی فوجی مدد کر دے۔ اسرائیل آج سمندر میں بھی اپنے گرد چار دیواری بنانے کی فکر میں ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمندر سے بھی ممکنہ حملوں کا نشانہ بننے سے خوفزدہ ہے اور ان کا مقابلہ کرنے میں اپنی نیوی اور سمندری فوجی طاقت کی ناکامی سے واقف ہے۔ امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اسرائیل نابودی کی جانب گامزن ہے۔ اس وقت مقبوضہ فلسطین کے شمالی حصوں یعنی حیفا سے لے کر لبنان اور شام کے سرحدی علاقوں تک کے حصے میں اسرائیلی باشندے رہنے کو تیار نہیں اور وہ دھڑا دھڑ حیفا کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ نحاریا، صفد، کریات، شمونہ وغیرہ سویلین آبادی سے خالی ہو گئے ہیں اور بھوت بنگلہ بن چکے ہیں۔

ان علاقوں میں بسنے والے یہودی باشندے شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے خلاف انجام پانے والی 33 روزہ جنگ تموز کے بعد ان علاقوں میں کسی قسم کی مسلح جھڑپ بھی انجام نہیں پائی۔ حیفا کی آبادی اس وقت دس لاکھ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے اور ہلکا سا فوجی خطرہ اس ساری آبادی کو مزید دور والے علاقے خاص طور پر دارالحکومت تل ابیب کی جانب دھکیل سکتا ہے جس کا نتیجہ اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑے سماجی اور سکیورٹی بحران کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔ امریکہ اس بارے میں شدید خوفزدہ اور پریشان ہے کیونکہ امریکی حکمت عملی میں اسرائیل کی بقا اور تحفظ کو ریڈ لائن کے طور پر مشخص کیا گیا ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ خود کو اسرائیل کو حتمی نابودی سے بچانے میں ناتوان اور بیچارہ محسوس کر رہا ہے۔

4)۔ اس وقت آل سعود رژیم بھی امریکہ کیلئے شدید اور بنیادی پریشانی کا باعث بن چکی ہے۔ 1953ء میں ملک عبدالعزیز کے برسراقتدار آنے کے بعد سے لے کر آج تک آل سعود رژیم نے خطے سے متعلق مغربی اور امریکی پالیسیوں میں ان کے دائیں بازو کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ مغرب نے آل سعود رژیم کی مدد سے ہی نڈھال خلافت عثمانیہ کو عرب علاقوں میں شکست فاش سے دوچار کیا، آل سعود رژیم کی مدد سے ہی خطے میں اسرائیل کی غاصب اور جعلی ریاست کی بنیاد رکھی اور آل سعود رژیم کی مدد سے ہی خود کو درپیش مسلسل مالی بحرانوں پر غلبہ پایا۔ مغربی استعماری طاقتوں نے آل سعود رژیم کی مدد سے ہی مغربی اور مشرقی ایشیا میں اپنے مخالفین کا صفایا کیا، سعودی حکومت کی مدد سے ہی ایران کے خلاف نیم مردہ اتحاد تشکیل دیا۔ ریاض نے ان گذشتہ تقریباً 85 برس کے دوران ہمیشہ خطے کی عوام کے خلاف دشمنانہ اقدامات اور پالیسیوں میں مغربی ممالک اور اسرائیل کا مکمل ساتھ دینے کے علاوہ ان کو ہونے والے تمام نقصانات کا بھی ازالہ کیا ہے۔

سابق امریکی صدر رچرڈ نیکسن کے دور میں امریکی حکام واضح طور پر سعودی عرب کو اپنی خارجہ پالیسیوں کے "مالی ستون” کے طور پر یاد کیا کرتے تھے۔ اسی طرح چند سال پہلے 1972ء میں امریکہ کا وزیر خارجہ رہنے والے معروف امریکی اسٹریٹجسٹ ہنری کیسنجر نے سعودی حکام کو اپنا گودام منیجر قرار دیا تھا۔ لیکن اب امریکہ آل سعود رژیم اور حتی موجودہ جغرافیائی حدود کے ساتھ سعودی عرب کی بقا کے بارے میں شدید شک و تردید کا شکار ہے۔ امریکہ سعودی عرب کے بارے میں ایک تضاد کا شکار ہے۔ وہ ایک طرف سعودی عرب میں قبائلی طرز حکومت، آمریت، خاندانی سلطنت اور روایتی مدیریتی نظام کو مستقبل قریب میں حکمفرما نظام کی تبدیلی کی حتمی وجہ قرار دیتا ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو "پرامن انداز میں تبدیلیوں” کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے لہذا واشنگٹن سعودی عرب میں کوئی بھی تبدیلی لانے سے شدید ہراساں ہے۔

سابق سعودی فرمانروا ملک عبداللہ کی وفات کے بعد امریکہ نے سعودی عرب میں طے شدہ سیاسی تبدیلیوں پر مبنی منصوبہ آزمانے کی کوشش کی۔ ہر سطح پر تیز اور بے سابقہ تبدیلیاں، حساس عہدے سپرد کرتے وقت خاندانی روایات سے چشم پوشی، وسیع پیمانے پر شہزادوں کی گرفتاری اور سب سے اہم یہ کہ سیاسی ماضی سے عاری اور ناتجربہ کار نوجوان کو برسراقتدار لانا۔ یہ تمام اقدامات درحقیقت ایک تجربہ تھا۔ لیکن گذشتہ دو تین ماہ کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان کی گوشہ نشینی اور ملک سلمان بن عبدالعزیز کی ملکی امور میں واپسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے۔ درحقیقت سعودی عرب کی باگ ڈور ایک 33 سالہ جوان اور قبر میں پاوں ڈالے بوڑھے کو سونپے جانے کے درمیان فاصلے کے پیچھے اصلی عامل ان حادثاتی واقعات سے متعلق امریکی پریشانی تھی جن کا ایک نمونہ تہامہ کے شاہی محل میں محمد بن سلمان پر قاتلانہ حملے کی صورت میں ظاہر ہوا۔

امریکہ بخوبی آگاہ ہے کہ آنے والا عشرہ مغربی ایشیا کے مستقبل اور اس کی تقدیر کیلئے فیصلہ کن عشرہ ہے جبکہ گذشتہ سیاسی سیٹ اپ اور پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے بعد معرض وجود میں آنے والے ورلڈ آرڈر کی باقیات اور سرد جنگ کے زمانے میں حکمفرما اصول مزید فائدہ مند اور کارآمد نہیں رہے۔ اب امریکہ کے حریف ممالک اور قوتیں اگرچہ امریکہ جیسے عظیم اور البتہ آوٹ ڈیٹڈ وسائل سے برخوردار نہیں ہیں لیکن وہ ہلکا پھلکا ہونے کے ناطے خطے میں امریکہ اور اس کی محدود باقیماندہ پٹھو رژیموں کی خالی جگہ پر کرنے اور خطے کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

بریگز ٹ معاہدہ تکمیل کےآخری مراحل میں ہے: برطانوی وزیراعظم

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ بریگزٹ ڈیل مکمل ہونے کے ...