ہفتہ , 17 نومبر 2018

پنجاب کے نو منتخب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی مختصر داستان حیات

پیدائش: مئی 1969 ء
جائے پیدائش: ضلع ڈیرہ غازی خان
والد: سردار فتح محمد بزدار
مادر علمی: جامعہ بہاؤ الدین زکریا
تعلیمی اسناد: ایم اے

ابتدائی زندگی اور تعلیم:
وہ مئی 1969ء کو ڈیرہ غازی خان میں سردار فتح محمد بزدار کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پنجاب کے گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم ملتان کے گورنمنٹ کالج سے حاصل کی۔ انہیں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کی سند اور لا کالج، ملتان سے قانون میں بیچلرز کی سند حاصل ہے۔

سیاسی زندگی:
2001ء میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے 2002ء سے 2011ء تک تونسہ شریف کے تحصیل ناظم کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ ایک اور خبر کے مطابق انہوں نے 2008ء کے عام انتخابات کے بعد ہی پاکستان مسلم لیگ (ق) چھوڑ دی تھی اور یہ کہ وہ تونسہ شریف کے 2008ء تک تحصیل ناظم رہے تھے۔ ناظم کے طور پر اپنے میعاد عہدہ کے دوران میں ان پر 300 جعلی تقرریوں کا الزام تھا۔

انہوں نے 2013ء کے عام انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر پنجاب صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات 2013ء میں حلقہ پی پی -241 (ڈیرہ غازی خان-2) سے امیدوار تھے، لیکن ناکامیاب رہے۔ انہوں نے 22875 ووٹ حاصل کیے اور خواجہ محمد نظام المحمود سے نشست ہار گئے۔

انہوں نے پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء سے پہلے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شمولیت اختیار کی۔ مئی 2018ء میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہو گئی۔ وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پنجاب صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء میں حلقہ پی پی-286 (ڈیرہ غازی خان-2) سے الیکشن میں حصہ لیا اور جیت گئے۔ انہوں نے 26897 ووٹ حاصل کیے اور آزاد امیدوار سردار محمد اکرم خان کو شکست دی۔

17 اگست 2018ء کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کے لیے سردار عثمان بزدار کو نامزد کیا تھا۔ ان کی نامزدگی پر پاکستان تحریک انصاف کے اکثر اراکین نے حیرت کا اظہار کیا اور کڑی تنقید کی۔ مقامی میڈیا پر عثمان بزدار کے قتل میں ملوث ہونے کی خبر چلنے کے بعد اگلے دن عمران خان نے عثمان کے حق میں کہا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔ عثمان بزدار نے قتل کے الزامات کی تردید کی اور اسے ”پروپیگنڈا“ کہا۔ 19 اگست 2018ء کو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے۔ انہوں نے 186 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مد مقابل حمزہ شہباز شریف 159 ووٹ حاصل کر سکے۔

قتل نزاع:
1998ء میں الیکشن مہم کے دوران میں 6 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں عثمان بزدار، ان کے بھائی اور ان کے والد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، ملزمان کا مقدمہ جنوری 2002ء کو انسداد دہشت گردی عدالت میں سنا گیا اور عدالت نے
عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں کو مجرم بھی قرار دے دیا تھا تاہم عثمان بزدار اور ان کے والد و بھائی نے 750000 روپے دیت ادا کر کے فریقین سے صلح کر لی اور بری ہو گئے۔ 22 اگست 2018ء کو جیو نیوز نے خبر دی کہ سردار عثمان بزدار وہ شخص نہیں ہیں جو قتل میں ملوث تھا۔

اثاثے:
سردار عثمان بزدار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سنہ 2018ء میں جمع کی گئیں دستاویزات میں اپنے اثاثوں کی مالیت 25 ملین روپے ظاہر کی۔ ان کے پاس 2.4 ملین مالیت روپے کے تین ٹریکٹر اور 3.6 ملین روپے مالیت کی دو گاڑیاں ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دوھرا معیار

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی) ایک بندہ قتل ہوا تو پوری دنیا کہہ رہی ہے ...