پیر , 30 نومبر 2020

شمالی کوریا کا سالانہ پریڈ میں بیلسٹک میزائلوں کی نمائش سے گریز

پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریا نے اپنے 70 سالہ جشن کے دوران منعقدہ فوجی پریڈ میں اپنی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش نہیں کی۔ یہ اطلاع شمالی کوریا سے موصول ہونے والی رپورٹوں سے سامنے آئی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے اس موقعے پر قوم سے خطاب کیا یا نہیں۔ اس پریڈ کو شمالی کوریا کے اسلحے کے ذخائر کو جاننے اور ایٹمی اسلحے کے خاتمے کے عہد کے تناظر میں بغور دیکھا جا رہا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کم جونگ ان اس سالانہ پریڈ میں فوجی ساز و سامان کے مظاہرے میں احتیاط برتیں گے۔ شمالی کوریا سے امریکہ تک رسائی اور جوہری ہتھیار لے جانے کی اہلیت رکھنے والی بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی نمائش اس موقعے پر شاید اشتعال انگيزی سے تعبیر کی جاتی۔

پریڈ کی کوئی فوٹیج جاری نہیں کی گئی لیکن وہاں موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے، اور این کے نیوز، جس کے پاس شمالی کوریا کے سرکاری ٹی وی کی تصاویر ہیں، دونوں کا کہنا ہے کہ پریڈ میں کسی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی نمائش نہیں کی گئی۔

جون میں امریکی صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان نے کوریا جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا مبہم سا معاہدہ کیا تھا لیکن اس کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں گئی تھی، نہ ہی اس کے متعلق دیگر تفصیلات دی گئی تھیں۔

اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے دورے جاری رہے لیکن حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا شمالی کوریا کا دورہ آخری مرحلے پر منسوخ کر دیا گیا۔

اس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر بات چیت کو معطل کرنے کا الزام لگایا ہے تاہم یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں پیش رفت جاری رکھنے کے پابند ہیں۔سیول میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا بیکر نے کہا کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی نمائش سے بات چیت کا مستقبل اور کوریائی جنگ کے خاتمے کا اعلان مشکل میں پڑ جاتا۔

شمالی کوریا پانچ سالوں میں پہلی بار عوامی کھیلوں کا انعقاد کر رہا ہے۔ ‘اریرانگ ماس گیمز’ شمالی کوریا کا وسیع پیمانے پر کیے جانے والے پروپیگنڈے کا رنگا رنگ منظر پیش کرتی ہیں۔ رواں سال کے کھیلوں میں شمالی کوریا کی علامتی تاریخ پیش کی جا رہی ہے جس کا عنوان ‘شاندار ملک’ رکھا گیا ہے۔

گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سیٹلائٹ سے لی جانے والی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے کھیل، جو ستمبر بھر جاری رہیں گے، بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہو رہے ہیں۔

گذشتہ منعقدہ کھیلوں میں بڑے بڑے سٹیڈیم سنکرونائزڈ جمناسٹس اور گروپ ڈانس کے مظاہروں سے بھرے نظر آئے تھے۔ ان کھیلوں کی رنگارنگ تقاریب بہت دلکش نظر آتی ہے، لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو اس میں شرکت کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلی کو ایک بار پھرحراست میں لے لیا گيا

مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ایک …