ہفتہ , 17 نومبر 2018

کربلائے یمن کے یزید

(تحریر: عمران خان)
ہمارے اندر کا انسان مر چکا ہے، ہمارے فطری انسانی جذبے اب کہیں اور رہن رکھے ہیں، وقت اور مقام کے ساتھ ہمارے عدل و انصاف کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ افسوس و رنج کے جذبات کہیں گہرے تو کہیں سرد پڑ جاتے ہیں۔ لمحہ بھر قبل جس ظلم کی داستان پہ ہم بے چین ہوکر اس کی روک تھام کا سامان ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، ظالم کا نام سامنے آتے ہی اگلے پل اسی ظلم کی تاویلیں تلاش کرنے میں جت جاتے ہیں۔ جس مظلوم کیلئے ہمارا دل پسیج رہا ہوتا ہے، اس مظلوم کا مسلک، مکتب معلوم ہونے پر ہم ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں۔

مسلک پتہ چلا جو مسافر کی لاش کا
چپ چاپ آدھی بھیڑ گھروں کو چلی گئی

معاشرے میں مرتی انسانیت کا قلق ہمیں ہمہ وقت ستائے رکھتا ہے مگر اپنے اندر کے انسان کی لاش برسوں سے اٹھائے گھوم رہے ہیں اور اس کا بوجھ تک محسوس کرنے کو آمادہ نہیں۔ فطرت سے تحفتاً ملنے والے ہمارے جذبات اس حد تک رہن رکھے ہیں کہ اغیار اب فیصلہ کرتے ہیں کہ کہاں ہونے والے ظلم پہ ہمیں رونا ہے اور کہاں ہونے والے ظلم پہ دبی دبی مسکراہٹ میں منافقانہ ’’اوہو‘‘ تک محدود رہنا ہے۔ کس ملک کے بچے کی موت پہ دھاڑیں مار مار کر رونا ہے اور کس ملک کے سینکڑوں بچوں کی یکمشت شہادت سے کنی کترا کے گزر جانا ہے کہ مبادا کہیں لفظ ’’افسوس‘‘ ہی ادا نہ کرنا پڑ جائے۔

ہر صاحب منصب کو اس وقت اپنے اندر اپنی ہی میت کی کھوج کرنی چاہیئے کہ جب وہ قندوز کے بچوں کا درد تو محسوس کرے مگر اسی افغانستان میں المہدی سنٹر میں ہونیوالی شہادتوں پہ پیج و تاب نہ کھائے۔ ہر وہ شخص اپنے اندر کی منافقت کا سدباب کرے کہ جب وہ ساحل پہ پڑی ایلان کردی کی معصوم میت پہ تو زار زار آنسو بہائے مگر یمن کے علاقے ضحیان میں سعودی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والے سکول کے درجنوں بچوں کا غم نہ کھائے۔ انسانی اقدار کی پاسداری کا ہر دعویدار اس وقت اپنے محاسبے کی ضرورت محسوس کرے کہ جب شام میں دہشتگردوں کے خلاف سرکاری فوج کے آپریشن پہ تو رنجیدہ و غمزدہ ہو جبکہ نہتے بحرینی شہریوں کیخلاف انہی کے ملک میں بیرونی افواج کے سفاکانہ آپریشن کا جواز تراشے یا اتحادی افواج کی یمن میں کارپٹڈ بمباری پہ تو خاموش رہے مگر حوثی قبائل کی جانب سے داغے گئے ایک آدھ راکٹ یا میزائل کو آل سعود کی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھے اور اس پہ اظہار افسوس بھی ضروری سمجھے۔

کیا عالمی انصاف کے اداروں کے پاس اس وقت اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کوئی ایک بھی بوسیدہ دلیل باقی رہ جاتی ہے کہ جب معصوم بچوں سے بھری سکول بس پہ جنگی طیارے بمباری کریں اور اس کے نتیجے میں 50 سے زائد بے گناہ شہری شہید ہوں اور ایسے جرم عظیم کے ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کوئی جنگی مقدمہ قائم نہ ہو۔ انسانی حقوق کی محافظت کی دعویدار کوئی تنظیم طاقت کے اس بے محابہ استعمال کے خلاف سراپا احتجاج بنکر باقاعدہ فریق کی حیثیت سے سامنے نہ آئے۔ کرہ ارض اور اس کے باسیوں کے تحفظ کا عزم لیکر وجود پانے والی اقوام متحدہ ایسے جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کی محض رکنیت تک معطل نہ کرسکے۔ یمن اور شام محض دو مجروع جنگ زدہ ملک ہی نہیں بلکہ عالمی اداروں اور منصفوں کے دہرے اور جانبدارانہ کردار و معیار کا چیختا ثبوت ہیں۔

شام، جہاں دنیا بھر سے جمع شدہ دہشتگرد سرکاری حکومت اور شام کے عوام کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیاں شروع کرکے نظام پہ قبضے کی کوشش کرتے ہیں، وہاں دنیا بھر کے عالمی ادارے شام کی باقاعدہ سرکاری جمہوری حکومت کے خلاف نہ صرف قراردادیں پیش کرتے ہیں بلکہ ان دہشتگردوں کو اقوام متحدہ تک رسائی دینے اور اعلانیہ فوجی و غیر فوجی امداد دینے کی بات کرتے ہیں۔ محض اس لئے کیونکہ شام کی یہ سرکاری و باقاعدہ حکومت امریکہ و اسرائیل دشمن ہے۔ اس حکومت اور یہاں کے عوام کا یہ جرم اتنا بڑا ہے کہ دنیا بھر کی افواج شام میں اپنے اپنے حصے کا آتش و آہن ڈال رہی ہیں۔ اس کے مقابلے میں یمن ہے، جہاں کی حکومت کے خلاف اسی ملک کے باقاعدہ شہری، اٹھتے ہیں اور اپنی حکومت سے امریکہ و اسرائیل کی کاسہ لیسی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسی عوامی جدوجہد سے عاجز آکر نام نہاد صدر (جو نہ ہی جمہوری ہے اور نہ ہی عوامی) باقاعدہ مستعفی ہوکر بیرون ملک بھاگ جاتا ہے اور وہاں پناہ لیتا ہے۔
اس مستعفی بھگوڑے کی حکومت کے دوبارہ قیام کیلئے کئی ملکی اتحاد تشکیل دیکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سربراہی میں یمن پہ جنگ مسلط کردی جاتی ہے۔ یہاں عالمی اداروں کو نہ ہی عوام کے مطالبے نظر آتے ہیں، نہ ہی بیرونی مداخلت اور نہ ہی نہتے، غریب عوام پہ وحشیانہ بمباری۔ مغربی میڈیا کی نام نہاد آزادی کی حقیقت ملاحظہ فرمائیں کہ یہ میڈیا شام میں دہشتگردوں کو دہشتگرد نہیں لکھتا بلکہ کبھی اپوزیشن مسلح دستے، کبھی سرکار مخالف گروہ اور کبھی باغی لکھتا ہے۔ یمن میں یہی مغربی میڈیا مستعفی و بھگوڑے صدر کو نہ ہی مستعفی لکھتا ہے اور نہ ہی بھگوڑا بلکہ ابھی تک اس کے نام کے ساتھ یمنی صدر کے الفاظ لکھتا ہے۔ عالمی اداروں کے اس دہرے اور منافقانہ طرز کی حقیقت محض اتنی ہے کہ شام میں امریکہ اور اسرائیل اپنی مخالف حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں اور یمن میں اپنی مطیع و فرمانبردار حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے سامنے عالمی اداروں کی عاجزی ملاحظہ فرمائیں کہ امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن نے انٹرنیشنل کرائم کورٹ کو نہ صرف غیر آئینی قرار دیا ہے بلکہ اس کے ججوں کی گرفتاری کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ جان بولٹن نے کہا ہے کہ اگر عالمی فوجداری عدالت امریکی، اسرائیلی یا اتحادی اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے گی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ امریکہ اپنے شہریوں، رضاکاروں اور افسران کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی افسران کے خلاف فیصلہ آیا تو عالمی فوجداری عدالت کے ججوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دیں گے۔ ججوں اور پراسیکیوٹرز کو گرفتار کرکے امریکی نظام انصاف کے تحت کارروائی کریں گے جبکہ عالمی فوجداری عدالت کو دی جانے والی مالی امداد بھی بند کر دی جائے گی۔ امریکہ کی جانب سے یہ دھمکی عین اس وقت دی گئی ہے کہ جب افغانستان میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی، بے رحمانہ سلوک اور زیادتی کرنے پہ امریکی افسران کو اسی کورٹ میں مقدمات کا سامنا ہے۔ وہ مغرب جو انصاف اور برابری کا مسلسل راگ الاپتا ہے، سوال یہ ہے کہ وہ عالمی فوجداری عدالت کی اس توہین کا کڑوا گھونٹ کیوں خوشی خوشی پی گیا۔؟ کیا یہ عمل عالمی انصاف کے تقاضوں پہ امریکی فوقیت تسلیم کرنے کا اظہار نہیں۔؟

دنیا کی سب سے بڑی تنظیم یو این یعنی اقوام متحدہ امریکی ویٹو کے سامنے بے بس ہے۔ آن دی ریکارڈ یو این میں ویٹو کا سب سے زیادہ استعمال امریکہ نے کیا جو کہ اسرائیل کے حق میں اور فلسطین، عربوں یا مسلمانوں کے خلاف تھا۔ اگر عالمی فوجداری عدالت کو امریکہ جوتے کی نوک پہ رکھ کر اس کے ججز کی گرفتاری کی دھمکیاں دیتا ہے اور خود کو ہر قسم کے عالمی قواعد و ضوابط سے مبرا گردانتا ہے۔ دنیا میں بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ یونیسف اگر بچوں کے حقوق پامال کرنے والے ملک سعودی عرب کا نام محض اس لئے مجرموں کی فہرست سے خارج کرتا ہے کہ سعودی عرب اس کا چندہ بند کر دے گا۔ اسی طرح عالمی بینک جو کہ پاکستان اور بھارت کے مابین معاہدہ سندھ طاس کا ضامن ہے، اگر ایک فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد اپنی ثالثی و ضمانت سے بری الذمہ ہونے کا اظہار کرے۔ آئی ایم ایف کے نام پہ قائم عالمی ادارہ دوسری و تیسری دنیا کے ممالک کو ایک معاشی پنجرے میں قید کرکے اس کی تمام چابیاں سرمایہ دارانہ نظام کے سرخیلوں کو تھما دے۔ تو اس کے بعد ان عالمی اداروں کی کیا ساکھ باقی رہ جاتی ہے یا ان کے پاس اپنے وجود کو قائم رکھنے کی کونسی دلیل باقی رہ جاتی ہے۔ ان کے منشور و نعرے خوش نما، مسحور کن سہی مگر ان کا عمل اور طریقہ کار فقط چند بڑی قوتوں کی خدمت پہ مبنی ہے۔

یمنی بچوں کی سکول بس کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عبداللہ المعلمی نے کمال ڈھٹائی سے اس غیر انسانی جرم کو جائز فوجی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سکول بس پہ جنگی طیاروں کا حملہ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھا۔ ریڈ کراس کی رپورٹ کے مطابق سعودی بمباری میں شہید ہونے والے بچوں میں بیشتر کی عمر دس برس سے کم تھی۔ خبر نہیں حملہ آور اتحاد اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں نے بین الاقوامی قوانین کی کونسی ایسی کتاب پڑھی ہے کہ جہاں سکول کیلئے جانے والے بچوں کا قتل عام جائز ہو۔ بچے بھی وہ کہ جن کی عمریں دس برس سے کم ہوں۔ کجا یہ کہ بچوں کے قتل عام پہ یمن اور دنیائے عالم سے یہ جارح اتحاد غیر مشروط معافی مانگ کر اپنے جنگی جرائم کی تلافی کرتا، الٹا ایک طرف اس حملے کو قانونی طور پر جائز قرار دینے کی بھونڈی کوشش کی بلکہ ریاض کے نمائندے نے سکیورٹی کونسل کے چیئرمین کو بھیجے گئے فوری خط میں کہا ہے کہ سعودی عرب کے فوجی اتحاد کی یہ کاروائی درحقیقت یمنی (حوثی قبائل) کے خلاف تھی، اس کے ساتھ ساتھ اس نمائندے نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یمنی قبائل بچوں کو فوجی تربیت دیکر میدان جنگ میں بھیجتے ہیں۔

گرچہ ریاض کے نمائندے نے حصول علم کی خاطر جانے والے بچوں پہ فوجی تربیت کے حصول کا الزام عائد کیا ہے مگر اس ایک الزام کے ساتھ یمن جنگ کے کئی حقائق کو واضح کر دیا ہے۔ ریاض بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کی فوج اور اس کے اتحادی ممالک کی فوج یمن میں یمن کے ہی لوگوں کے ساتھ مصروف جنگ ہیں، (شام کی طرح کئی ممالک سے بھیجے گئے دہشتگرد نہیں)۔ یمن کے غیور قبائل حملہ آور جارح اتحاد کیخلاف اتنے پرعزم ہیں کہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی تربیت جنگ کی دے رہے ہیں، (یعنی آل سعود کو اس جنگ کیلئے برسوں کی نہیں بلکہ عشروں کی حکمت عملی اور وسائل کی ضرورت پڑے گی)۔ سعودی حملہ آور جارح اتحاد کے خلاف لڑنے والے یمنیوں کے متعلق ریاض یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ ان نوجوانوں کی عسکری تربیت ان کے
اپنے قبائل ہی کر رہے ہیں، (یمنیوں کو شام کے دہشتگردوں کی طرح پڑوسی ممالک میں ٹریننگ حاصل کرنے کی سہولت میسر نہیں بلکہ اپنے زور بازو پہ کئی ملکی حملہ آور جارح اتحاد کا مقابلہ کامیابی سے کر رہے ہیں۔)

ریڈ کراس کی رپورٹ کے مطابق سعودی حملے میں شہید ہونے والے یمنی بچوں میں سے بیشتر کی عمر دس برس سے کم ہے۔ ریاض کے نمائندے کے خط میں کہا گیا ہے کہ یمنی قبائل بچوں کو تربیت دیکر میدان جنگ میں بھیج رہے ہیں۔ اگردونوں ہی درست ہیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ آل سعود کے حملہ آور جارح اتحاد کے سامنے قیام کرنے والے یمنیوں کے حوصلے کربلاء والے ہیں، جو عمر، وسائل کو کسی خاطر میں نہیں لاتے اور نہ ہی یہ پروا کرتے ہیں کہ دشمن تعداد اور سامان حرب و ضرب میں کتنا قوی ہے۔ البتہ اتنا جانتے ہیں کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، وہ مظلوم ہوکر بھی سرخرو اور فتح یاب ہوں گے جبکہ تعداد و طاقت کے نشے میں بدمست دشمن کے نصیب میں محض لعنت اور ناکامی رہیگی۔ یمنی قبائل کو بھی یہ یقین ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی خواتین کا انوکھا احتجاج، ’عبایہ الٹا پہنوں گی‘

کچھ سعودی خواتین نے ایک نئے انداز میں احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ خواتین ...