اتوار , 18 نومبر 2018

شاہ سلمان اور بن سلمان کے خلاف باغی سعودی شہزادے اور شہزادیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے

(تسنیم خیالی)
گزشتہ ہفتے شاہ سلمان کے سگے بھائی شہزادہ احمد بن عبدالعزیز کی لندن میں سعودی فرمانروا اور ولی عہد اور آل سعود مخالف احتجاج کرنے والے افراد کے ساتھ گفتگو اور اپنے ہی بھائی اور بھتیجے کے خلاف بیان نے حکمران خاندان آل سعود کے اندر ہلچل مچادی ہے اور بغاوت کی ایک نئی لہر دوڑاٹھی ہے ، برطانوی ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے انکشاف کیا ہے کہ شہزادہ احمد اپنے بیان کے بعد سعودی عرب واپس آنے کا نہیں سوچ رہے، حالانکہ سعودی فرمانروا نے اپنے بھائی احمد کو فوری طور پر واپس آنے کے احکامات جاری کردیے مگراب اور بھی شہزادے سعودی عرب سے فرار ہونا شروع ہوگئے ہیں اور فرار ہونے والے خاندانوں کے یہ افراد شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے مخالف ہیں ۔

ٹویٹر پر سرگرم ’’العہد الجدید‘‘ نامی صارف نے انکشاف کیا ہے کہ شہزادہ احمد کے ساتھ آل سعود خاندان کے مزید افراد سعودی عرب سے فرار ہوکر شامل ہوگئے ہیں ، العہد الجدید کے مطابق فرار ہونے والوں میں ایک شہزادہ اور ایک شہزادی ہے ، شہزادے کا نام ’’سعد ‘‘ ہے اور وہ سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں جبکہ شہزادی کا نام ’’حصہ‘‘ ہے جو کہ شاہ عبداللہ کی بیوہ ہیں ۔

العہد الجدید نے ٹویٹر کے ذریعے اس بات پر اصرار کیا ہے مذکورہ شاہ عبداللہ کے بیٹے اور بیوہ سعودی عرب سے فرار ہوئے ہیں اور واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے،آل سعود خاندان کے اندر ہونے والی ہلچل اور بغاوت کی لہر سے یہ تأثر قائم ہوتا ہے کہ ملک کے باہر شہزادے اور شہزادیوں پر مشتمل ایک گروپ قائم ہونے جارہا ہے جسے ہم ’’شاہ سلمان اور بن سلمان مخالف آل سعود گروپ‘‘ کہہ سکتے ہیں ، اور ممکن ہے کہ آنیوالے دنوں میں سعودی عرب سے مزید شہزادے اور شہزادیوں کے فرار ہونے کی خبر منظر عام پر آئے جو آخر کا ر شہزادہ احمد کے ساتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

اس گروپ کی قیادت شہزادہ احمد ہی کریں گے اور یہ بھی ممکن ہوگا کہ اس گروپ میں متعدد باوزن اور طاقتور شہزادے بھی شامل ہوں ، دوسری جانب فرمانروا بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خاموش رہنے والے نہیں ، اور ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں سعودی شہزادوں کی گرفتاری کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیرون ملک مقیم شہزادوں میں سے بعض کی پراسرار طور پر مرنے کی خبریں بھی آئیں ۔

آنے والے ہفتوں میں آل سعود کے متعلق سعودی عرب کے اندر اور باہر بہت کچھ ہونیکی توقع ہے کیونکہ خاندان کے اندر اختلافات سنگین ہورہے ہیں، سعودی فرمانروا اور ولی عہد سےبیزاری انتہا کی سطح پر پہنچ چکی ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا احمد اور دیگر باغی شہزادے اور شہزادیاں فرمانروا اور ولی عہد کو قابو کرنے میں کامیاب ہوں گے؟ یا پھر شاہ سلمان اور بن سلمان غالب ہوں گے؟

یہ بھی دیکھیں

ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت کے محرکات

(محمد افضل بھٹی) نومبر کے پہلے ہفتے میں ماسکو میں افغان امن کانفرنس کا انعقاد ...