ہفتہ , 17 نومبر 2018

نیٹو اتحادکا خاتمہ قریب ہے

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی)
گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی میں وسطی یورپ کے ممالک کے ضم ہونے سے نیٹو اتحاد وسعت اختیار کر گیا،یہ صورت حال کئی سالوں تک جاری رہی اور بالآخر نیٹو اتحاد 28 ممالک پر مشتمل ہوگیا، بعض تجزیہ نگاروں کے نزدیک وسعت کے اس عمل سے نیٹو اتحاد مزید مضبوط ہوا البتہ معروف امریکی تجزیہ نگار اور مصنف مارٹن سٹیو کے نزدیک نیٹو اتحاد کی مضبوطی کی بات درست نہیں ان کے نزدیک نیٹو کی وسعت مزید طاقتور ہونے کی علامت نہیں ۔

سٹیوکے مطابق 1999 میں ہنگری، چیک اور پولینڈ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کی اور پھر 2004 میں 7 چھوٹے یورپی ممالک نے بھی اتحاد میں شمولیت اختیار کی، البتہ سٹیو (جو اپنی پیش گوئی کے حوالے سے کافی شہرت رکھتے ہیں )نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وسطی یورپ کے ممالک کی نیٹو میں شمولیت وسطی یورپ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور یہ سب کچھ نیٹو کے خاتمے کی ابتداء ثابت ہوسکتا ہے ، سٹیو کے مطابق وسطی یورپ کے ممالک کو روس سے ڈراکر نیٹو میں شامل کیا گیا ہے ، سٹیو کے مطابق نیٹو میں شامل ہونے والے وسطی یورپ کے ممالک سیاسی، معاشی ، عسکری اور دیگر تمام پہلوئوں سے کمزور ہیں ،سٹیو کہتے ہیں کہ نیٹو اتحاد نے امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کو محفوظ نہیں رکھااس کے برعکس اس اتحاد نے یورپی ممالک اورروس کے درمیان دوستی اور اچھے تعلقات کا خاتمہ کردیا ۔

بڑھنا مزید طاقتور ہونے کی نشانی نہیں :
مذکورہ بالا فرضیے کی مثال دیتے ہوئے سٹیو کہتے ہیں کہ آسٹروی اور ہنگروی سلطنت اٹھارویں اور انیسویں صدی میں وسطی یورپ پر براجمان تھی اور اس میں وسطی یورپ کے تمام ممالک ضم ہوچکے تھے، البتہ یہ ’’بڑھائو‘‘ آہستہ آہستہ کمزور ہوتا چلا گیا ، مشرق میں روسی سلطنت اور شمالی مغرب میں برطانوی سلطنت اس بڑھائوسے خوف زدہ ہوگئے اور بالآخر 1867 میں آسٹروی اور ہنگری سلطنت کے ساتھ ’’مصالحت ‘‘ نامی معاہدے پر دستخط کردیے اس معاہدے کا نام اپنی جگہ البتہ اس کے ذریعے آسٹروی اور ہنگری کی سلطنت کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا آسٹریااور ہنگری سٹیو کے مطابق اس سلطنت کی خاتمے کی وجہ ہی یہ بنی کہ یہ سلطنت رقبے میں بڑھتی جارہی تھی۔

پہلی عالمی جنگ کے دوران جرمنی جو کہ آسٹریااور ہنگری کا اتحادی تھا اس کوشش میں تھا کہ وسطی یورپ کے ممالک کو اپنی صف میں لا کھڑا کر ے اور دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کی کوشش تھی کہ وسطی یورپ کے ان ممالک پر اپنا تسلط قائم کرے، جرمنی دونوں جنگوں کے دوران وسطی یورپی ممالک کے ایک وسیع رقبے پر قابض رہا البتہ اس علاقے کے ممالک جرمنی کیلئے کچھ نہیں کرپائے اور یہ ممالک عالمی طاقتوں سے مقابلہ بھی نہیں کرسکے۔

سوویت یونین بھی وسطی یورپ کے ممالک پر مسلط رہا، سٹیو کے مطابق سوویت یونین جرمنی کو شکست دینے کے بعد اپنا سیاسی اثرورسوخ پولینڈ اور مشرقی یورپ پر منحصر رکھ سکتا ہے مگر افسوس کہ سوویت یونین نے مکمل طور پر وسطی یورپ کے ممالک پر قبضہ کرلیا اور اس ’’بڑھائو‘‘ نے خود سوویت یونین کو کمزور کردیا، سٹیو کے مطابق وسطی یورپ کے ممالک نے سوویت یونین کو لاچار کردیا۔

نیٹو اتحاد وہی غلطی پھر سے دہرارہا ہے:
سٹیو کے نزدیک وسطی یورپ کے ممالک ایک ایسے ’’مشترکہ دائرے‘‘کی مانند ہے جو بڑی غلطی طاقتور کے درمیان ہے اور ایسی کو ئی وجہ نہیں جو اس علاقے کے ممالک کو کسی ایک طاقت کے ساتھ اتحاد کرنے پر مجبور کرتے، سٹیو کے مطابق وسطی یورپ کے ممالک جس کے ساتھ اتحادکرجائیں (خواہ وہ اتحاد اپنی مرضی سے ہو یا زبردستی ) وہ ختم ہوجاتا ہے یا پھر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتا ہے ، تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے اور آج نیٹو بھی یہ غلطی کرچکا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی خواتین کا انوکھا احتجاج، ’عبایہ الٹا پہنوں گی‘

کچھ سعودی خواتین نے ایک نئے انداز میں احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ خواتین ...