ہفتہ , 22 ستمبر 2018

اے حُر تمہیں یہ سفر مبارک ہو!

(سیدہ سائرہ بانو)
کہتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر ایک حُر بستا ہے۔ جو لوگ حُر کے معنی جانتے ہیں شاید میں ان کو اپنی بات باآسانی سمجھا سکوں۔ حُر یعنی انسان کے اندر ایک اور جیتا جاگتا وجود جو اسے ہر اچھے برے سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ یہ حُر انسان کو بیدار کیے رکھتا ہے۔ انسان پھر انسان ہے۔ اچھے برے کی تمیز سے غافل بھی ہو جاتا ہے اور اگر یہ غفلت بڑھ جائے تو بے حسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ تب انسان کا ذہن بھی خود بینی کا مرکز اور قیدی بن جاتا ہے اور اسے واضح نظر آنے والی چیزیں بھی دکھائی نہیں دیتیں۔ حُر انسان کو اسی قید سے آزاد کرنے والے وجود کا نام ہے!

واقعہ کربلا کے "حُر” کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ بظاہر حُر (آزاد) نظر آنے والا سپہ سالار خودبینی کا اسیر ہو چکا تھا اسی لئے حُسین ابنِ علی علیہ السلام کے مرتبہ اور اعلی مقام کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کا راستہ روکنے کے لئے دارالامارہ سے نکل پڑا۔ عین اسی وقت ایک پسِ پردہ آواز نے اسے روک دیا۔ بڑے عجیب الفاظ تھے جو اسے کہہ رہے تھے: "اے حُر تمہیں یہ سفر مبارک ہو!” حُر ایک پل کو ٹھٹکا کہ یہ کیسی ندا ہے کیونکہ میں تو امام حسین علیہ السلام کے خلاف قیام کے قصد سے نکل رہا ہوں۔ اس پر مبارک باد کیسی! حُر واقعہ کربلا کا وہ یادگار کردار ہے جس نے امامِ وقت کے حضور بہت بڑی جسارت کی اور ان کے گھوڑے کی لگام کو پکڑ کر آگے جانے سے روکا تھا۔ عجیب صورتحال تھی کہ حُر جس ہستی کے خلاف قیام کر رہا تھا اسی کی امامت میں نماز بھی ادا کی۔ درحقیقت یہ حُسینیت کا کرشمہ ہے کہ جس نے یزیدیت کو ہمیشہ پسِ پشت رکھا۔ بہر حال حُر کے اندر کا "حُر” اسے بیدار کرنے کے لئے کمربستہ تھا۔ جب امام حسین علیہ السلام نے حُر کے سپاہیوں اور گھوڑوں کی پیاس کو سیراب کرنے کے لئے مَشکوں کے مُنہ کھول دیے تو اندر کے حُر نے اسے آواز دی اور کہا کہ اگر تم سمجھو تو یہ اُسی مبارک سفر کا آغاز ہے جس پر تم نکلے ہو۔ کیا تم یزیدیت سے حُسینیت کی طرف سفر کرنا نہیں چاہتے؟ حُر نے اس بات پر توجہ دی جس کے نتیجہ میں اسے فیصلہ کرنے میں آسانی ہوئی اور وہ روزِ عاشور لشکرِ یزید کو چھوڑ کر لشکرِ حسین علیہ السلام سے جا ملا۔ اگر حُر بن یزید ریاحی کے اندر کا حُر انہیں بیدار نہ کرتا تو شاید ان کو شہادت کے وقت امامِ وقت کی گود نصیب نہ ہوتی اور نہ ہی امام حسین علیہ السلام کی جانب سے یہ اعزاز ملتا کہ اے حُر۔ تم اِس دنیا میں بھی آزاد ہو اور اُس دنیا میں بھی!

جناب حُر بن یزید ریاحی علیہ السلام کا حسینیت کی طرف آ کر خود کو حقیقی معنوں میں آزاد کرا دینا یہ پیغام دیتا ہے کہ ہر انسان کو اپنے اندر کے حُر کی سرگوشیوں اور آوازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ اگر اس کے الفاظ کو اہمیت دیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم بھی حضرت حُر بن یزید ریاحی علیہ السلام کی طرح دنیا سے آزاد رخصت ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

شہیدوں کا پیغام

(مصنف:سید انوار احمد بلگرامی) حسین (ع) نام ہے کامل آزادی کا ،حریت کاملہ کا ،حسینیت ...