ہفتہ , 17 نومبر 2018

مطلب ختم تعلق ختم!

(شیخ خالد زاہد)
اردو مختلف زبانوں کا مرکب بنتی چلی جا رہی ہے جس میں انگریزی لفظوں کی آمیزش اتنی بری طرح سے ہو گئی ہے کہ اردو میں معنی ہونے کے باوجود جب تک انگریزی میں نہ لکھیں جائیں تو سمجھ سے بالا بالا ہی رہ جاتے ہیں۔ اپنے پچھلے مضمون کے عنوان میں مجھے لفظ پیشہ ور استعمال کرنا تھا لیکن اس لفظ کے معنی کوئی کیا سمجھے تو انگریزی کے لفظ پروفیشنل کا سہارا لینا پڑا، جو کہ اپنی قومی زبان کیساتھ زیادتی کے مترادف ہے اور اپنے دل کیساتھ بھی۔ افسوس اور ندامت کی بات تو یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا شمار غیر تعلیم یافتہ قبیلے میں ہوتا ہے وہ بھی اسی روش کا شکار ہیں انہیں بھی پروفیشنل سے ہی سمجھ آیا ہو گا، انگریزی کے کچھ لفظوں نے یوں سمجھ لیجئے کہ اردو پر قبضہ کر لیا ہے۔ بلکل ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح۔

ہم آج اپنی قومیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں، ہم میں سے کتنے ہی ایسے پاکستانی ہونگے جنہیں پاکستان کے قومی لباس، پرندے، پھول، وغیرہ کے بارے میں علم نہیں ہو گا۔ ہم اس لاعلمی کو شرمندگی بھی نہیں سمجھ رہے ہاں البتہ پیشہ ور کا مطلب پروفیشنل کو بہت اچھی طرح سے سمجھ جاتے ہیں۔ موضوع پر آتے ہیں، مطلب پرست دوست، رشتہ دار اور کوئی بھی ہو بہت تکلیف دیتا ہے کیونکہ اس کا پتہ مطلب نکل جانے کے بعد ہی لگتا ہے۔ انسان تجربات سے سبق سیکھتا ہے اور مطلب پرستی تو ادب کے رجحان میں اضافہ کرنے کا باعث بھی ہے یعنی انکے لئے شاعری بھی کی جاتی ہے افسانے بھی لکھے جاتے ہیں۔

بڑی قوم بننے کیلئے جن خصوصیات کی ضرورت ہوتی ہے وہ تمام قدرت نے پاکستان کو دے رکھی ہے یعنی قدرت نے اپنے حصے کا کام کر رکھا ہے اب رہا سہا کام پاکستانیوں اور پاکستان کے حکمرانوں کا ہے۔ عنوان سے سب کو سمجھ تو آ گیا ہو گا کہ کیا پڑھنے کو ملنے والا ہے، امریکہ کبھی بھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں رہا۔ یہ اپنے مفادات کے دفاع کیلئے ہر ممکن حد تک جاتے رہے ہیں یہ امریکہ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ابھی تک پاکستان انکے بنے جانے والے جالوں میں نہیں پھنس سکا ہے جیسا کہ دوسرے ممالک پھنسے اور تباہ و برباد ہو کر رہ گئے ہیں پھر سال ہا سال سے نکلنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ یقیناً یہ امر امریکہ کے حکمت ساز اداروں اور ان میں بیٹھے حکمت سازوں جنہیں تھنک ٹینک بھی کہا جاتا ہے مسلسل ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

امریکہ کیلئے یہ بھی کسی معمہ سے کم نہیں کہ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے شاید ان کے تھنک ٹینک آج بھی سر جوڑے یہ سوچ رہے ہوں کہ آخر یہ کیسے ہو گیا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے پر معلوم نہیں امریکہ میں کتنے حکمت سازوں کو سزائیں بھی دی گئی ہوں۔ اب پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے کوئی نئے طریقے ڈھونڈنے ہونگے کیونکہ پاکستان اب کچھ محب وطن اور مخلص وطنوں کے ہاتھوں میں آ چکا ہے پچھلے ستر سالوں سے جس کی تلاش تھی پاکستان اللہ کی طرف سے وہ گو ہر نایاب مل گیا ہے۔

امریکہ اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ ہم پر قدغن لگا کر ہمیں گھٹنوں پر ٹیک دیگا تو یہ اسکی بھول ہے کیونکہ وہ بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ پاکستان میں رہنے والے بائیس کروڑ پاکستانی جب وطن اور مذہب پر کوئی بات آتی ہے تو بے دریغ آگ میں کودنے سے بھی نہیں ڈرتا اور امریکہ یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھتا ہے۔ پاکستان امریکہ کی مطلب ختم تعلق ختم والی خصلت سے بہت اچھی طرح سے واقف ہوچکا ہے، عرب ممالک میں امریکہ نے جو کچھ کیا ہے یہ اس دلیل کیلئے منہ بولتا ثبوت ہے، ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمیں اب بھی اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کہ امریکہ ایک مفاد پرست ریاست ہے اور وہاں کہ حکمران اپنے مفادات کی خاطر دنیا کے کسی بھی ملک کو نیست و نابود کرنے گریز نہیں کرتے خصوصی طور پر چھوٹے اور کمزور ممالک اس کی ذد میں زیادہ آتے رہے ہیں۔ مفاد پرستوں کا زور زیادہ دیر چلتا نہیں ہے کیونکہ سامنے والے اس بات کو سمجھ جاتے ہیں اور پاکستان تو بہت پہلے سے ہی یہ بات سمجھے ہوئے ہیں۔

ہماری حالیہ نئی حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ امریکہ ’’مطلب ختم، تعلق ختم والی‘‘ حکمت عملی پر روابط قائم کرتا ہے، اسے امریکہ کی بد قسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان سے مطلب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا بلکہ ہر روز بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس مطلب کا اصل آغاز افغانستان پرسوویت یونین کے قبضے سے شروع ہوا تھا اور بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ چکا ہے۔ اب ہماری نئی اور باضابطہ خارجہ پالیسی کا کمال ہو گا کہ وہ کس طرح سے اس مطلب کے دوست کو مطلب میں الجھائے رکھتی ہے۔ گو کہ حالا ت کی کشیدگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ امریکہ، ایران کے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور آجکل اس میں بہت زیادہ کشیدگی بڑھ چکی ہے اس کی ایک وجہ پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے مترادف بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ لیکن مطلب پرست اتنی آسانی سے اپنے مطلب کو چھوڑتے ہیں؟ امریکہ، پاکستان کو ڈرانے کی ہر ممکن کوشش کرتا چلا آ رہا ہے کبھی افغانستان میں اپنی کاروائیاں بڑھا کہ، کبھی انڈیا کو تھپکیاں دے کر تو کبھی ایران پر پابندیوں کی دھمکیاں لگا کر اور کبھی دہشت گردی کیخلاف جنگ کو تیز کرنے کا نعرہ لگا کر، لیکن اب پاکستان مطلب پرستوں سے نمٹنے کا ہنر سیکھ چکا ہے اور ایسے دوستوں کو خوب پہچان بھی چکا ہے۔

ہم سے کچھ اپنوں نے شکوہ کیا ہے کہ ہمارا قلم خان صاحب کی مدح سرائی کئے جا رہا ہے، تو ان کچھ اپنوں کیلئے اتنا لکھتا چلوں کے ستر سالوں کا جو بدبو دار، سڑا ہوا گند صاف کرنے کی کم از کم بات کرنے والا تو آ گیا ہے اور آپ خود بتائیں کیا اس سے پہلے کوئی ایسا شخص جو پاکستان کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بات کر رہا ہو، گزرا ہے۔ پاکستان جو مرکز یت کی اہمیت کھوتا چلا جا رہا تھا اور انفرادیت کی ڈگر پر چلایا جا رہا تھا اب مرکزیت کی جانب پھر سے پیش قدمی شروع کر چکا ہے، لسانیت اور فرقہ واریت کے بڑے بڑے شہتیر زمین بوس ہو گئے، تو بتائیں۔ جس ملک کی ستر سال جگ ہنسائی ہوئی ہے اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا سے ہم پاکستان کی مداح سرائی تب ہی کروا سکتے ہیں جب ہم خود یہ کام کریں گے۔ مثال کے طور پر اپنے پڑوسی ملک کو لے لیجئے مداح سرائی کی بنیاد پر ساری دنیا میں دھوم مچا رکھی جب کے قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے، کہ اقلیتوں اور عورتوں کا ہمارے پڑوسی ملک میں کیا حال ہے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی خواتین کا انوکھا احتجاج، ’عبایہ الٹا پہنوں گی‘

کچھ سعودی خواتین نے ایک نئے انداز میں احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے۔ خواتین ...