ہفتہ , 22 ستمبر 2018

چین امریکا تجارتی جنگ، پاکستان کا چین میں تجارتی مواقع سے بھرپور استفادے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے چین اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے پاکستانی مصنوعات کی چین کو برآمدات کے فروغ کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔’’ایکسپریس‘‘ کو دستیاب دستاویز کے مطابق وزارت تجارت نے چین کے ساتھ پیدا ہونے والے نئے تجارتی مواقع سے بھرپورفائدہ اٹھانے کا جائزہ لینے سے متعلق آج (جمعہ) اعلی سطح اجلاس طلب کرلیا ہے۔دستاویز کے مطابق وزارت تجارت کے آفیسر فواد حسن کے دستخطوں سے جاری کردہ لیٹر میں کہا گیا ہے۔

کہ اجلاس کی صدارت وفاقی سیکریٹری تجارت یونس ڈاگھا کریں گے جبکہ اجلاس میں کینولا میل، ریپی سیڈ (توریا) میل، سن فلاور میل اور سویا بین میل کی برآمد کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔اس کے علاوہ ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (ڈی پی پی) کی جانب سے پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والے کینولا، سویا بین، ریپیسیڈ اور سن فلاور کے پھوک کی برآمد پر عائد پابندی کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور چین و امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے امریکا سے سویا بین کی درآمد اور اس سویا،

بین سے تیل حاصل کرنے کے بعد بچنے والے پھوک کی چین کو برآمد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پانچ پاکستانی مینوفیکچررز کی ایڈہاک بنیادوں پر رجسٹریشن کرانے کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور اجلاس میں زیرو ریٹنگ پر پھوک کی برآمد اور برآمد کنندگان کے لیے ڈیوٹی و ٹیکسوں کے ریفنڈ کے پروسیجر پر بھی غور ہوگا۔اس بارے میں جب وزارت تجارت کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان امریکا اور برازیل سمیت دیگر ممالک سے سب سے زیادہ سویا بین سیڈ درآمد کرتا ہے، اس کے علاوہ ریپیسیڈ،

سن فلاور اور کینولا سیڈ بگی درآمد کیے جارہے ہیں جبکہ مقامی سطع پر بھی اب ان کی پیداوار شروع ہوگئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تین لاکھ ٹن سے زائد سویا بین و دیگر سیڈ منگوارہا ہے جس میں سے 40 فیصد کُکنگ آئل نکلتا ہے اور باقی 60 فیصد پھوک بچتا ہے جوکہ پولٹری فیڈ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پولٹری انڈسٹری شدید بحران سے دوچار ہے جس کے باعث پاکستان میں پولٹری فیڈ کی مینوفیکچرنگ بھی متاثر ہوئی ہے اور پاکستان کے پاس کینولا میل، ریپی سیڈ (توریا) میل، سن فلاور میل اور سویا بین میل وافر مقدار میں موجود ہے۔

سویا بین، کینولا، ریپیسیڈ اور سن فلاور کے پھوک کا سب سے بڑا خریدار چائنا تھا اور پاکستانی خام مال کی کوالٹی بہتر ہونے کی وجہ سے چین یہ خام مال پاکستان سے منگواتا تھا اور چین کی جانب سے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے انڈیا سے سویا بین، کینولا، ریپیسیڈ اور سنفلاور کے پھوک کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی مگر بعض پاکستانی برآمد کنندگان نے انڈین سویا بین و کینولا پھوک منگوا کر پاکستانی خام کے طور پر چائنا بھجوانا شروع کردیا تھا جس کے باعث چین نے پاکستانی سویا بین، کینولا،

ریپیسیڈ اور سن فلاور کے پھوک کی درآمد پر پابندی عائد کردی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب انڈیا نے کوشش کرکے چین کی جانب سے انڈین سویا بین و لینولا پھوک پر عائد کردہ پابندی ختم کرالی ہے مگر پاکستان پر ابھی پابندی عائد ہے اور اب پاکستان کی پولٹری انڈسٹری کے بحران سے دوچار ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ لہٰذا اب اگر پاکستان بھی کوشش کرکے جبکہ چین کی جانب سے پاکستانی خام مال پر عائد پابندی ہٹوانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کو صرف سویا بین، کینولا، ریپیسیڈ اور سن فلاور کے پھوک کی برآمد کی مد میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوسکے گا۔

اور انڈسٹری بھی بحران سے نکل آئے گی۔اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آج (جمعہ) وفاقی سیکریٹری تجارت کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس بلایا گیا ہے جس میں وزارت تجارت کے حکام کے علاوہ، وزارت نیشنل فُوڈ سیکیورٹی، پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے حکام، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، وزارت صنعت و پیداوار اور پولٹری ایسوسی ایشن کے ساتھ ساتھ آل پاکستان سالوونٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشنز کے نمائندے شریک ہوں گے۔ اجلاس میں کینولا میل، ریپی سیڈ (توریا) میل، سن فلاور میل اور سویا بین میل کی برآمد کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔اس کے علاوہ ڈپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن،

(ڈی پی پی) کی جانب سے پولٹری فیڈ میں استعمال ہونے والے کینولا، سویا بین، ریپیسیڈ اور سن فلاور کے پھوک کی برآمد پر عائد پابندی کی وجوہات کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور چین و امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ سے امریکا سے سویا بین کی درآمد اور اس سویا بین سے تیل حاصل کرنے کے بعد بچنے والے پھوک کی چین کو برآمد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پانچ پاکستانی مینوفیکچررز کی ایڈہاک بنیادوں پر رجسٹریشن کروانے کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

گیس کی قیمتوں میں اضافے کی نئی سمری اقتصادی کمیٹی کو ارسال

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای ...