جمعہ , 19 اکتوبر 2018

محترم وزیراعظم …سرکاری افسروں کے معاملات کون سلجھائے گا؟

(راؤ منظر حیات) 
چنددن پہلے منتخب وزیراعظم نے سرکاری افسروں کے ایک اجتماع سے پالیسی خطاب کیا۔انھیں حوصلہ اورہمت دینے کی بھرپورکوشش کی۔تحفظ دینے کی بات کی۔یہ بے حدخوش آئیند بات ہے۔سرکارکی بتیس برس کی نوکری میں یہ محسوس کیاکہ 1970ء کے بعد سرکاری ملازم اپنے مستقبل کے بارے میں کافی حدتک غیریقینی کا شکار ہو چکا ہے۔ عمران خان نے تمام سطح کے ملازمین کو اکٹھا کرکے بہترپیغام دیا۔

سکے کادوسراپہلوبھی بے حداہم ہے بلکہ کئی پہلو ہیں۔ نام لے کرمثال نہیں دے سکتا۔اس لیے کہ بات ذاتیات پر جاسکتی ہے۔خان صاحب کے سامنے بیٹھے چند سینئرافسران (سارے نہیں) نظام کے بہترین بینیفشریز ہیں۔انھوں نے مختلف صوبوں اورمرکزی حکومتوں میں خاصا مال بنایا۔ اب جب ایک ایسی منتخب حکومت آئی جواحتساب کرسکتی تھی۔تواسی حکومت کے چند نمایاں چہروں سے مل کر پھر اچھی پوسٹوں پرآگئے۔

ہرحکومت میں یہ افسران ہرطریقے سے سیاستدانوں،وزراء،وزراء اعلیٰ اوروزیراعظم کوقابوکرتے رہے اوراب ’’تبدیلی‘‘کاحصہ بن کرعمران خان کی ٹیم کا حصہ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔خان صاحب کیونکہ مرکزی حکومت چلانے کاعملی تجربہ نہیں رکھتے لہذاانھیں ابھی اندازہ نہیں کہ پچھلے متعددادوارکے چند چہیتے افسران معصوم شکل بناکران کے سامنے بیٹھے ہیں اور اندرسے قہقہے لگا رہے ہیں۔بہرحال خطاب درست سمت میں تھا۔

ایک اہم ترین جوہری نکتہ جس پرکوئی بات نہیں کرتا، جوموجودہ بیوروکریسی میں مرکزی حیثیت رکھتاہے، وہ ہے کہ ایک منفی حکمتِ عملی سے قابل اوراہل ترین سرکاری افسروں کوترقی سے محروم رکھاگیا۔کوئی مصنوعی بات نہیں کرنا چاہتا۔یہ سب کچھ لکھنااپنے فرائض میں سمجھتا ہوں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ سابقہ مرکزی حکومت اورپنجاب میں دس سالہ حکومت کویقین کامل تھاکہ دوبارہ صوبہ پنجاب اور مرکزمیں حکومت بنالیںگے۔سابقہ حکمرانوں کی طاقت کے سامنے الیکشن کمیشن سے لے کرضلعی انتظامیہ تک کسی عملی حیثیت کی مالک نہیں تھی۔پنجاب اورمرکزمیں سرکاری ملازموں کو ایک خاندان کے غلام سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں تھی۔اسکرپٹ میں یقین تھاکہ اگلاوزیراعظم،اسی خاندان سے ہوگااوراس سے آگے ان کی اولادحکومت کریگی۔اس کی تیاری تقریباًچھ سات سال سے شروع کردی گئی تھی۔

یہ کھیل پنجاب سے شروع ہوا اور پھر ہر طرف پھیلادیاگیا۔وہ تمام افسران جنکی قابلیت مسلمہ تھی مگرجو”ایک خاندان”سے غلامی کارشتہ نہیں رکھتے تھے،ان کی فہرستیں بنائی گئیں۔ان منفی فہرستوں میں وہ آزادخیال اورغیرجانبدارافسرشامل تھے، جنھیں اپنے کام پرعبورتھااور حقیقت میں مشکل سے مشکل ڈیوٹی سرانجام دے سکتے تھے۔گزشتہ پانچ برس میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں صرف ان وفاداربندوں کولگایاگیا جوپنجاب اور پھر سابقہ وزیراعظم ہاؤس سے احکامات لیتے تھے۔ سینٹرل سلیکشن بورڈمیں ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی بھی طرح اس منفی حکمتِ عملی سے انحراف کرسکے۔ ترقی کے تمام معاملات ان ہی فہرستوں کے حساب سے طے پائے گئے۔ خفیہ اداروں سے افسروں کے خلاف’’سورس رپورٹس‘‘بنواکرسینٹرل سلیکشن بورڈکے سامنے رکھی گئیں اوروہاں ناپسندیدہ افسروں پرترقی کے دروازے بندکردیے گئے۔

یہ زیادتی مسلسل جاری رہی۔ المیہ یہ ہے کہ عمران خان کے خطاب میں وہ افسران بھی موجودتھے جواس کھیل میں شامل تھے اورتالیاں بجارہے تھے۔یہ کھیل شاید ابھی محترم وزیراعظم کی انتظامی ٹیم کے سامنے نہیں آیایا انھیں اندازہ نہیں ہے۔

شائدآپ کاخیال ہوکہ خیالی باتیں کررہاہوں۔ قطعاً نہیں، ٹھوس مثالوں کے ساتھ گزارش کرناچاہتا ہوں۔ چند ہفتے پہلے اس معاملے پرمحترم چیف جسٹس کے علم میں لانے کے لیے دوکالم لکھے تھے۔سرسری طورپران تمام بے قاعدگیوں کاذکربھی کیاتھا۔شائد چیف جسٹس صاحب حددرجہ مصروفیت کی بدولت ان کالموں کوپڑھ نہ پائے ہوں۔ ہوسکتاہے کہ کٹاس راج مندرمیں پانی کامعاملہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی یعنی بیوروکریسی کے مسائل سے زیادہ اہم ہو۔ ان کالموں کے بعد درجنوں افسروں کے ای میلزاورفون آئے۔ ہر ایک کی ترقی روکی گئی تھی۔ہرایک کوخراب کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی تھی۔

ایک افسرنے بتایاکہ اسے چارسال ڈیرہ غازی خان تعینات رکھاگیا۔دفتراورسرکاری گاڑی بھی ابتداء میں مہیانھیں کی گئی۔حکم تھاکہ ہرصبح اس دفترمیں جائے جس کا وجودہی نہیں تھااورکسی طریقے سے بھی ڈیرہ غازی خان سے باہرنہ آئے۔چلیے،اس افسرنے یہ زیادتی توبرداشت کرلی۔ چارسال پہلے،اسے بھی بیس سے اکیس گریڈمیں جانے سے روک دیاگیا۔اسے سرکارسے ایک خط ملاکہ جب بلوچستان تعینات تھا،تواس نے بے حدمالی کرپشن کی ہے۔ افسرجرائم کی اس فہرست کودیکھ کرسَکتے میں آگیا۔اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ اپنے پورے کیرئیرمیں کبھی بلوچستان پوسٹ نہیں ہواتھا۔ایک دن کے لیے بھی وہ اس صوبے میں نہیں گیا تھا۔عدالت میںگیا،توپھروہی طوالت۔ہائیکورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دھکے کھاکھاکراب گھربیٹھ گیاہے۔

ایک خاتون افسرنے فون پربتایاکہ ان کی ترقی روکنے کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ایک بابوکاخط موصول ہوا کہ اس نے جنوبی پنجاب میں تعیناتی کے دوران بے حد جائیداد بنائی ہے اوروہ ساری ان کے شوہرکے نام ہے۔ ان کے شوہر اچھے زمین دارہیں اور ایک شریف انسان ہیں۔ خاتون نے جب سرکار سے پوچھاکہ میں نے کون سی جائیداد اپنے شوہرکے نام کی ہے توانھیں زمین کی ایک فہرست دی گئی کہ یہ آپ کی کرپشن کے ثبوت ہیں۔خاتون افسرنے جب یہ فہرست دیکھی توحیران رہ گئیں۔الزامات میں درج تمام زمین دوسوسال سے ان کے شوہرکے خاندان کے نام تھی اور ہروراثتی انتقال کی تاریخ موجودتھی۔یعنی اس زمین کو ان کے لیے الزام بنایاگیاجوموروثی تھی اوران کی شادی سے بھی ڈیڑھ سوسال پہلے کی تھی۔اس خاتون نے بھی تگ ودو کی۔مگرکوئی سننے والانھیں تھا۔کیس عدالتوں میں ہے اور اگلی کئی دہائیوں تک رہے گا۔بہرحال اس ناانصافی کا مداوا کرنے والاکوئی نہیں ہے۔

بالکل اسی طرح ایک سرکاری افسرجووسطیٰ پنجاب کے بے حداچھے خاندان سے تعلق رکھتاہے۔جوہرطریقے سے صاحبِ حیثیت ہے۔باپ داداکے زمانے سے پیسہ کی ریل پیل دیکھ رہاہے۔جوکئی برسوں سے کسی بھی پوسٹنگ لینے سے کتراتاہے۔جب اسے نامعلوم وجوہات کی بِناپرترقی سے روکاگیاتوردِعمل میں اسے’’ڈپریشن‘‘ہوگیا ۔اس مرض میں مبتلاہونے کے بعداسے روشنی سے خوف آنے لگا۔ کمرے میں دوتین تہہ دارپردے لگوانے کے باوجودہلکی سی روشنی بھی اس کے لیے سوہان روح بن گئی۔تمام کھڑکیوں کے شیشے بھی کالے کردیے گئے۔

صورتحال اس درجہ بگڑگئی کہ ڈاکٹروں نے جواب دیدیا۔لاہورکے بہترین تعلیمی اداروں اورقابلیت کے باوجود وہ اس مافیاکے سامنے بے بس ہوگیا جو افسروں کوترقی اورتنزلی دینے کے اختیاررکھتا تھا۔اب اس مرض کوچھ سات برس گزرچکے ہیں۔خاندانی زندگی تباہ ہوچکی ہے۔وہ سرکاری افسرسارادن کمرے میں بیٹھاسوچتا رہتاہے کہ اس کے ساتھ یہ زیادتی کیوں کی گئی۔اس کاجرم کیا تھا۔اس کااصل جرم یہ تھاکہ وہ ’’مخصوص لوگوں‘‘کی خوشامد نہیں کرسکتاتھا۔کام سے کام رکھتاتھا۔کبھی کبھی مجھ سے بات ہوتی ہے تواس کی باتیں سنکردل کٹتاہے۔ترقی نہ ہونے کی وجہ سے وہ دیوانگی کی سطح پرپہنچ چکاہے۔مگرآج تک اس نے کسی کوبددعانہیں دی۔درجنوں مثالیں ہیں جن میں افسروں کوبے بنیادرپورٹوں اورجھوٹے الزامات کے تحت ترقی سے محروم کیاگیاہے۔

یہ صرف پی اے ایس کے افسران کی کہانی نہیں ہے۔ اکاؤنٹس گروپ سے لے کرکسٹم گروپ تک،اورپولیس گروپ سے لے کرانکم ٹیکس تک،کوئی بھی اس طرح کی زیادتی سے بچ نہیں سکا۔تقریباًڈیڑھ سوسے دوسوافسران ایسے ہیں،جن کو مختلف سطح پر ان کے حق سے محروم کیاگیاہے۔

کیایہ وقت نہیں کہ محترم وزیراعظم،ان ناانصافیوں کاجائزہ لینے کے لیے ایک ٹاسک فورس،ایک کمیٹی،ایک کمیشن یاکوئی بھی فورم تشکیل دیں۔کیایہ مناسب لمحہ نہیں کہ دس سالہ ان مظالم پران کا دھیان جائے اوروہ راست فیصلے کرپائیں۔کیاواقعی ان کی تبدیلی کے خواب میں ان اہل ترین افسروں کی کوئی جگہ نہیں، جو ایماندار بھی ہیں اورمحنتی بھی۔جن کی کوئی لابی نہیں تھی اورجوصرف میرٹ پرکام کرنے پریقین رکھتے تھے۔ ذاتی خیال ہے کہ محترم عمران خان ان ناانصافیوں کاجلد یا بدیرجائزہ ضرورلیںگے۔باریکی سے ان معاملات کو ضرور کھنگالیں گے۔گزشتہ دس برس کے سرکاری جبر کو ہر طریقے سے انصاف میں بدل دینگے۔اُمیدہے،اس لیے کہ اُمیدپردنیاقائم ہے!بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...