پیر , 10 دسمبر 2018

مقام حسینؑ اہل سنت مآخذ کی روشنی میں

(مصنف :سید محمد رضوی)
محرم وہ مہینہ ہے جس میں حق وباطل کی وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جو رہتی دنیا تک آزادی وحریت کے متوالوں کے لئے ظلم وجبر سے مقابلے کی راہ دکھاتی رہے گی۔

حقیت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی
کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا

حق وباطل کے اس معرکے میں ایک طرف فرزند رسول جگر گوشہ بتول (ع)حضرت امام حسین (ع)تھے ،تو دوسری طرف ظالم وجابر اور فاسق وفاجر حکمراں یزید پلیدتھا ۔حضرت امام حسین (ع) نے یزید کے خلاف علم جہاد اس لئے بلند کیا کہ اس نے بیت اللہ الحرام اور روضۂ نبوی کی حرمت کو پامال کرنے کے علاوہ اسلام کی زریں تعلیمات کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہر قسم کی برائیوں کوفروغ دیا ،اورایک بار پر دور جاہلیت کے باطل اقدارکو زندہ کر کے اس دین مبین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی ،جس کی خاطر پیغمبر اکرم نے 23برس تک اذیت وتکلیف برداشت کی تھی ۔ حضرت امام حسین دین اسلام کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے اپنے خون مطہر ہ سے اسلام کے درخت کی آبیاری کی ،اسی لئے ایک معاصر عربی ادیب نے کہا ہے:

اسلام قیام کے لحاظ سے محمدی ہے اور بقا کے اعتبار سے حسینی مذہب ہے۔ آج ہم اپنے اس پروگرام میں احادیث رسول وسنت نبوی کی روشنی میں اہل سنت کے معتبر ماخذ سے حضرت امام حسین کے اعلی مقام ومنزلت پرروشنی ڈالیں گے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ایک حدیث نقل کی ہے جس کو ان کے علاوہ دیگر اکابرین اہل سنت من جملہ ، ابن ماجہ ، ابو بکر سیوطی ۔ترمزی ، ابن حجر ، حاکم ، ابن عساکر ، ابن اثیر ، حموینی ، نسائی وغیرہ نے بھی مستند حوالوں کے ساتھ حضور اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :الحسن ولحسین سیدا شبا ب اہل الجنۃ’’ حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔

اس حدیث کے راویوں میں حضرت علی کے علاوہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں ،جن میں حضرت عمر وابو بکر ، ابن مسعود ، حذیفہ ، جابر بن عبداللہ ، عبد اللہ بن عمر ، قرہ ، مالک بن الحویرث بریدہ ، ابو سعید خذری ، ابوہریرہ ، انس ، اسامہ اور براء قابل ذکر ہیں۔

حضرت امام حسین کے بارے میں پیغمبر اکرم کی ایک اور مشہور حدیث ہے:
’’حسین منی وانا من حسین ‘‘(حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں)

اس حدیث میں آپ کے ساتھ امام حسین کے خونی رشتے کے علاوہ دونوں بستیوں کے روحانی اور معنوی روابط کی صراحت ملتی ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ دین اسلام جس کی بنیا د رسول خدا د نے رکھی تھی ، اس کا تحفظ حضرت امام حسین نے کیا۔ اس حدیث کو شیعہ مآخذ کے علاوہ تواتر کے ساتھ سنی مآخذ میں بیان کیاگیا ہے ،اور بعض مآخذ میں اس جملے کے ساتھ دیگر جملے بھی نقل کئے گئے ہیں ،جن میں حضرت امام حسین کے ساتھ حضور اکرم ﷺکی شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’جس نے حسین سے محبت کی ،اس نے اللہ سے محبت کی ‘‘نیز فرمایا ہے:خدایا جس نے ان دونوں حسنین سے دشمنی کی میں بھی اس کا دشمن ہوں، بعض سنی مآخذ میں ایسے الفاظ بھی اس حدیث کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضور ان لوگوں سے صلح وآشتی چاہتے ہیں جو حضرات حسنین کریمین کے ساتھ امن وسلامتی سے رہیں ،اور ان کے ساتھ آپ نے جنگ کا اعلان کیا ہے ،جو حسنین کے ساتھ جنگ وجدال کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔‘‘حسین مجھ سے ہے ،اور میں حسین سے ہوں‘‘والی حدیث کو نقل کرنے والے سنی اکابرین میں ابن ماجہ ، ترمزی ، ابوہریرہ ، نسائی ، ابن اثیر ، سیوطی ، امام احمد بن حنبل اور طبر ی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

حضرت امام حسین کی عظمت اور پیغمبر اکرم کی ان سے فرط محبت کا اندازہ ابو ہریرہ کی اس روایت سے بھی کر سکتے ہیں۔ ابن عبد البر قرطبی نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:’’میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا ہے ،کہ پیغمبر اکرم امام حسین کے دونوں ہاتھوں کو تھامے ہوئے تھے۔ اور امام حسین کے دونوں پاؤں پیغمبر اکرم کے پاؤںپرتھے ، آپ نے فرمایا :اوپر آمیر ا بیٹا، امام حسین اوپر چلے گئے ،اور آپ نے سینہ پیغمبر پر پاؤں رکھا ، اس وقت آپ نے فرمایا :حسین منہ کھولو ، اس کے بعد حضور نے امام نے حسین کو چوما اورفرمایا :پروردگار اس سے محبت کر ، اس لئے کہ میں اس کو چاہتا ہوں، اہل سنت کے مآخذ اور مشہور سنی محدثین ومؤ رخین کی روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسنین سے دوستی مومنین پر فرض ہے اوران سے محبت کے بغیر کسی سخص کا ایمان کامل نہیں ہوتا، اور ان سے مقابلہ کرنے والا یا بغض رکھنے والا ان مآخذ کی روشنی میں خدا اور رسول خدا کا دشمن قرار پاتا ہے۔ ترمزی ، ابن ماجہ ، ابن حضر ، امام احمد بن حنبل ، حاکم ، ابوبکر سیوطی ، ابو سعید خدری ، سبط ان الجوزی ، عباس خلیفہ ہارون الرشید ، مؤ رخ طبری حضرات وغیرہ نے عبداللہ بن عمر ،یعلی بن مرہ ، سلمان فارسی وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے ایسی احادیث نقل کی ہیں ،جن کا مفہوم یہ ہے کہ حضور نے ان لوگوں سے محبت ودوستی کا اظہار فرمایا ہے جو حسنین کریمین سے محبت ودوستی رکھتے ہیں ،اور ان لوگوںکے ساتھ نفرت وعناد کا اعلان فرمایا ہے ،جو امام حسن وامام حسین سے دشمنی رکھتے اور بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز ان احادیث میںان لوگوں کے لئے جنت نعیم کی بشارت دی گئی ہے جو حسنین سے محبت کرتے ہیں ،اور ان لوگوں کے جہنم واصل ہونے کی خبر دی گئی ہے جو ان دونوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض حوالوں میں حضرت حسین کے ماں باپ کا بھی ذکر ہے اور یہ ارشاد نبوی نقل کیا گیاہے کہ ’’جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں (حسنین )اور ان کے ماں باپ سے محبت کی ، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے برابر مقام پائے گا۔ ‘‘ان مفاہیم کی حامل احادیث میں ایک وہ حدیث بھی شامل ہے جس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمر ہیں اور اس کوابن عبد البر ، ابو حاتم اور محب طبری نے روایت کی ہے ۔ حدیث میںکہا گیا ہے کہ حضور نے امام حسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

من احبنی فلیحب ہذین(جس نے مجھ سے محبت کی، اسکو چاہئے کہ ان دونوں سے بھی محبت کرے)
مذکورہ احادیث نبوی کی روشنی میںیہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل بیت رسول کے ساتھ دشمنی رسول خدا کے ساتھ دشمنی کے متردف ہے ،اور ان سے محبت کا مطلب خدا ورسو ل سے چاہت کا اظہار ہے۔ ان احادیث کے مفاہیم کوایمان کے اصول وشرائط کے تحت پرکھنا چاہئے ،کیوںکہ تکمیل ایمان کی شرط عشق رسول ہے، جس کے بغیر مسلمان اخروی فلاح نہیں پا سکتا چنانچہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔

اسی طرح آل محمد سے عشق ومحبت کے بغیر عشق رسول ادھورا ہے ،جس کا مقصد ایمان میں نقص ہے، لیکن کربلا میں یزید لعین نے ہزاروں افراد کا لشکر بھیج کر ، نہ صرف اہل بیت رسول کی توہین کی، بلکہ رسول اللہ کے اس نواسے کو بے دردی سے شہید کیا،جس کی محبت کو پیغمبر اسلام نے امت پر فرض قرار دیا تھا ،ہم محرم الحرام اور عزاداری حسین کے ساتھ ان ایام میں مسلمان عالم کے علاوہ حق وحقیقت او رحریت وآزادی کے علمبر دار وں کو تسلیت پیش کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...