منگل , 11 دسمبر 2018

معرکہ حق و باطل

حق و باطل اور خیر و شر کا معرکہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ حق و باطل کے ان معرکوں میں ہزاروں شہادتیں ہوئیں تاہم آج تک کسی بھی شہادت کو اس قدر شہرت‘ مقبولیت اور ہمہ گیریت نصیب نہ ہو سکی جتنی کہ شہادت امام حسین ؑکو رفعت و بلندی اور عظمت نصیب ہوئی۔ حضرت امام حسین ؑکی عظمت و رفعت کا راز یہ تھا کہ انہیں آغوش مصطفےٰؐ میں پرورش پانے کا شرف حاصل ہوا۔ آنحضرت کو آپ کے ساتھ جو والہانہ محبت اور پدرانہ شفقت تھی کائنات میں ایسی محبت و پیار کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت یعلی بن مرہ (ترمذی) الجلد ثانی میں ارشاد فرماتے ہیں کہ سرور کائنات اپنے نواسے حسینؓ کو آغوش میں لئے بیٹھے تھے اور فرما رہے تھے کہ حسین ؑمنی وانا من الحسین۔ حسین ؑمجھ سے ہے اور میں حسین ؑسے ہوں۔ آنحضرت کی حسنین شریفین‘ کریمین سے والہانہ محبت اور بے پناہ شفقت محض نواسے اور بیٹے ہونے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ ان ہستیوں کا وہ شاندار اور روشن مستقبل تھا جس میں ان دونوں شہزادوں کو عظیم اسلامی خدمات سرانجام دینے کے لئے وہ مثالی کردار ادا کرنا تھا جو ازل سے ان ممتاز ہستیوں کا مقدر بن چکا تھا شہادت امام عالی مقام کو ایک خاص امتیاز اور منفرد مقام حاصل ہے نگاہ مصطفےٰ دیکھ رہی تھی کہ آپ کے وصال کے بعد ایک ایسا وقت آئے گا کہ مسلمانوں پر ظالمانہ ملوکیت و آمریت کی یلغار ہو گی اور اس غیر اسلامی اقدار کی حفاظت اور اسلامی نظام حکومت کے استحکام کے لئے ایک ایسی بلند و بالا اور عظیم شخصیت کی ضرورت ہو گی جو دین حق سے والہانہ عقیدت رکھتا ہو جو حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لئے تن من دھن اور عزت و آبرو کی بازی لگا دے اس لئے آپ کی نگاہ اقدس نے حق و باطل کی اس معرکہ آرائی کے لئے اپنے لخت جگر حسین ؑکا انتخاب فرمایا اور اس عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے ان کی تعلیم و تربیت کا حق خود ادا کیا تاکہ آئندہ چل کر وہ اسلام کے عادلانہ و منصفانہ نظام حکومت پر ظالمانہ ملوکیت اور آمریت کی یلغار کو روکنے کیلئے جہاد کا فریضہ ادا کر سکیں۔

یزید لعین کا دور حکومت تاریخ اسلام کے دور اول میں دین حق کے خلاف اپنی نوعیت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا فتنہ تھا یزیدی دور کا فتنہ نفاق کا آئینہ تھا یہ اسلام کے سر پر وار کرنے کی بجائے اسکی جڑیں کاٹنا چاہتا تھا امام عالی مقام نے اس فتنے کی ہولناکی کو بروقت محسوس کیا اور غیرت ایمانی کا سورج ڈوبتا پایا تو اپنی اور اپنی اولاد کی رگوں میں دوڑتا خون نبوت لے کر لپکے اور ارض کربلا میں بہتر سروں کی فصل بو کر اسلام کی عظمت و حقانیت کا فلک بوس مینار تعمیر کر کے یہ ثابت کر دیا کہ (شاہ است حسین۔ بادشاہ است حسین۔ دین است حسین‘ دین پناہ است حسین۔ سرداد نہ داد دست دردست یزید۔ حقا کہ بنائے لا اﷲ است حسین) تاریخ کے کسی بھی دور میں امت مسلمہ واقعہ کربلا اس کی تفصیلات اور اس کی اہمیت کو فراموش نہیں کر سکتی یہ شہادت تاریخ اسلام کا وہ سرمایہ ہے جو اپنے دامن میں یقین۔ ایمان‘ سفر جہاد اور عبرت و بصیرت کا عظیم دوست رکھتی ہے۔ ہم رہتی دنیا تک سید الشہداءؑکی عظیم ہستی اور پرعظمت روح کو خراج عقیدت اور ہدیہ محبت پیش کرنے کا حق یہ ہے کہ ہم ان کی شاندار سیرت اور مثالی کردار کی روشنی میں دین حق کی سربلندی احیاءاور بقاءکی خاطر ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی کا مقدس جذبہ اپنے اندر پیدا کریں اور بوقت ضرورت امام عالی مقام کی طرح پیروی کرتے ہوئے اپنا تن‘ من ‘ دھن‘ عزت و آبرو اور سب کچھ راہ حق میں قربان کر دیں۔بشکریہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...