جمعہ , 19 اکتوبر 2018

آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے

(تحریر: نذر حافی)
نبوت ختم ہوگئی، حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ عالمین کے آخری نبی اور اسلام تمام زمانوں کے لئے آخری دین ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کے وصال کے بعد دینِ اسلام کی حفاظت اور تبلیغ کے لئے مسلمانوں کے ہاں بارہ اماموں کا نظریہ پایا جاتا ہے۔ صحیح بخاری، صحیح ترمذی، صحیح مسلم، صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں ایسی احادیث موجود ہیں، جو نبوت کے بعد خلافت و امامت کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اہل سنت کی مشہور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلے میں یوں آیا ہے کہ ”جابر بن سمرة“ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فر مایا:”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔“ (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)”میرے بعد بارہ امیر ہوں گے۔ اس کے بعد ایک جملہ فرمایا کہ میں سن نہ سکا، میرے والد نے مجھے کہا کہ پیغمبر نے فرمایا تھا کہ وہ سب قریش میں سے ہیں۔“

نبوت کے بعد امامت کا تصور ختمِ نبوت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے اور یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اور اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو وہ کذاب اور جھوٹا ہے۔ نظریہ امامت پر سارا جہانِ اسلام متفق ہے اور یہ امامت کی تفصیل ہے کہ امام کو کیسا ہونا چاہیے؟ امام کا انتخاب کیسے ہوگا؟ امام معصوم ہوگا یا غیر معصوم وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ جہانِ اسلام کے معروف ترین اور مقبول ترین آئمہؑ میں سے ایک حسین ابن علیؑ ہیں۔ آپ کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی آپ سے عشق و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ سے عشق و عقیدت رکھنے والے جانتے ہیں کہ ۶۱؁ 61 ھ میں دینِ اسلام کی حفاظت کی زمہ داری آپ کے کاندھوں پر عائد ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسلام، دینِ ملوکیت بن چکا تھا، دینِ بادشاہت بن چکا تھا، ملوکیت و بادشاہت کسے کہتے ہیں، عصرِ حاضر میں اس کا نپا تلا جواب آپ کو خصوصی طور پر مولانا مودودی ؒ اور یا پھر شیخ الحدیث ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملے گا۔

حسین ابن علیؑ نے اکسٹھ ھجری میں دینِ اسلام کی اصلی تعلیمات کی حفاظت کے لئے اپنی ذمہ داری کو ادا کیا، اگر اس وقت حضرت امام حسینؑ کی جگہ خود پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ بھی ہوتے تو وہ وہی کچھ کرتے جو حسینؑ ابن علی نے کیا ہے اور یزید ابن معاویہ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بھی وہی کچھ کرتا، جو اس نے حسین ابن علیؑ کے ساتھ کیا ہے۔ چونکہ نبی اکرم ﷺ بھی اگرچہ تنِ تنہا رہ جاتے، لیکن وہ ہرگز کسی کو یہ اجازت نہ دیتے کہ وہ دینِ اسلام کو ملوکیت و بادشاہت میں تبدیل کرے اور یزید کبھی دینِ اسلام کو ملوکیت میں تبدیل کئے بغیر چین سے نہ بیٹھتا۔ حضرت امام حسینؑ نے ملوکیت سے ہیبت زدہ ایک ایسی فضا میں قیام کیا کہ جہاں لوگ ملوکیت کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ دوسری طرف امام حسینؑ یہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت دینِ اسلام کی حقیقی شکل اور تعلیمات کی حفاظت نہ کی گئی تو عالمِ بشریت ظہورِ اسلام سے پہلے والے زمانے یعنی زمانہ جاہلیت کی طرف پلٹ جائے گا، اسلامی قوانین لغو ہو جائیں گے اور اولاد آدم بھٹکتی پھرے گی۔ چنانچہ آپ نے ہر قیمت پر دینِ اسلام کو بچانے کا فیصلہ کیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے آپ کو اور آپ کے اعوان و انصار کو تہہ تیغ ہونا پڑا، لیکن اسلام کی تعلیمات ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئیں۔ جب آپ کی شہادت اور قربانی کی خبر جہانِ اسلام میں پھیلی تو لوگ نفسیاتی طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے۔ آپ کے قیام کی سب سے پہلی تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں کے اندر سے موت کا خوف ختم ہوگیا اور لوگ باطل کو باطل اور غلط کو غلط کہنا شروع ہوگئے، جس کی وجہ سے جہانِ اسلام کے اطراف و کنار میں مختلف قیام سامنے آئے۔ اس قیام، قربانی اور شہادت کی دوسری تاثیر یہ سامنے آئی کہ لوگوں نے اہلبیت ؑ سے عشق و محبت کا اظہار دوبارہ سے شروع کر دیا اور یوں جگہ جگہ جہاں پر امام حسینؑ کی قربانی کا ذکر ہوتا، وہیں دینِ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی تبلیغ بھی ہوتی اور یزید نے دینِ اسلام میں جو انحرافات ایجاد کئے تھے، ان کا بھی ذکر ہوتا۔

ہم ناصبیوں کی بات نہیں کرتے، ناصبیوں کے علاوہ مجموعی طور پر مسلمانوں نے دو طرح سے اس قربانی کو دیکھا، کچھ نے اس قربانی سے ہمدردی، عشق اور درد کا رشتہ قائم کیا اور کچھ نے اس سے ہمدردی، عشق اور درد کے ساتھ ساتھ تعلیم اور درس کا ناطہ بھی جوڑا۔ بالکل ایسے ہی جیسے اگر پانچ بچوں کا باپ فوت ہو جائے تو ان میں سے ہر ایک کا ردعمل مختلف ہوتا ہے، کوئی مہمانوں اور تعزیت کے لئے آنے والوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، فاتحہ پڑھتا ہے، اپنے باپ کی باتیں دہراتا اور مہمانوں کو سناتا ہے، دوسرا صرف روتا اور پیٹتا ہے، تیسرا کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، چوتھے کی نیند ختم ہو جاتی ہے اور پانچواں قبرستان میں جا کر قرآن خوانی کرتا رہتا ہے۔ یہ پانچوں اپنی اپنی طرز پر اور اپنی اپنی نفسیات کے مطابق اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں مرحوم کا زیادہ سگا بیٹا ہے اور فلاں کو زیادہ غم ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ سبھی کو غم ہے اور سبھی مرحوم کے حقیقی بیٹے ہیں۔

اسی طرح امام حسینؑ بھی تمام عالم اسلام کے رہبر و رہنما اور محسن ہیں اور سارے مسلمان آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی شہادت کے موقع پر اپنے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، جذبات کا یہ اظہار مختلف نوعیت کا ہوتا ہے، کسی کی مظلومانہ شہادت پر جذبات کا اظہار ایک فطری امر ہے۔ فطری امر ہونے کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں اور یوں پوری دنیا مل کر حسین ابن علی ؑ کو سلام پیش کرتی ہے۔ دنیا کا ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ آج اگر دنیا میں اسلام کی تعلیمات اور نام و نشان باقی ہے تو یہ امام حسینؑ کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ بقول شاعر

ڈوب کر پار اتر گیا اسلام
آپ کیا جانیں کربلا کیا ہے(یگانہ)

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...