پیر , 17 دسمبر 2018

چین امریکہ کے آگے اٹھ کھڑا ہوا، ٹرمپ قبل از وقت چیخ پڑا

رائی الیوم نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی)
چین نے کسی بھی بڑے ملک اور سپر پاور کی طرح اپنی عزت وآبرو کے لئے اٹھ کھڑے ہو کر امریکی درآمدات پرجوابی کارروائی کرتے ہوئے 60 ارب ڈالر تک کے اضافی ٹیکس عائد کردیے ہیں ، یہ کارروائی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کا جواب ہے جس میں انہوں امریکہ کیلئے چینی برآمدات پر 10-20 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا ہے جو کہ 200ارب ڈالر بنتے ہیں ، یہ بات درست ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ اقتصادی جنگ سے سب سے زیادہ نقصان چین ، یورپی یونین ، کینیڈا اور میکسیکوجیسے ممالک کا ہوگا ، کیونکہ چین کےلئے سالانہ امریکی برآمدات کی قیمت 130 ارب ڈالر ہے جبکہ امریکہ کے لئے برآمد ہونے والی سالانہ چینی اشیاء کی قیمت 500ارب ڈالر ہے اور اس وقت چین امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے ۔

اس صورت حال کے باوجود چینی قیادت کا ٹرمپ اور اس کے اقدامات کے سامنے خاموش رہنا ممکن نہیں جس کا انہوں نے اچھی طرح سے ثبوت بھی دے دیا ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹرمپ اس چینی اقدام کے باعث چیخ پڑے ہیں، حالانکہ اس اقتصادی وتجارتی جنگ کا آغاز انہوں نے خود کیا ہے ، ٹرمپ نے ٹویٹر پر چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے اس حالیہ اقدام کے ذریعے نومبر میں امریکی سینٹ اور ایوان زیرین کے ہونے والے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہا ہے ، کیونکہ اس اقدام سے ٹرمپ کے ان ووٹرز کو نشانہ بنایا جارہا ہے جنکا تعلق کسان اورمزدور طبقے سے ہے نیز ان ووٹرز کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جو ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ہیں (ٹرمپ کے ووٹ بینک میں کسان ، مزدور اور ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ افراد کا بہت بڑا حصہ ہے ) اور امریکہ سے چین برآمد ہونے والی سرفہرست اشیاء گندم، گوشت اور ٹیکسٹائل ہے ۔

صدر ٹرمپ جو نسل پرست انتظامیہ کی قیادت کررہے ہیں اور کم از کم آدھی دنیا کو اپنی نسل پرست اور انتہا پسند سیاست کے باعث اپنے ملک کا دشمن بنا بیٹھے ہیں اس بات کا ادراک کرنے لگے ہیں ’’امریکہ پہلے ‘‘ کے عنوان سے انہوں نے جو اقتصادی جنگ شروع کی ہے وہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مانند ہے جس کا ثبوت اس جنگ پر خود امریکہ کے اتحادی ممالک جیسا کہ یورپی یونین ، کینیڈا اور میکسیکو کے ردعمل ہیں۔

نومبر میں ہونے والے کانگریس اور ایوان زیرین کے انتخابات ٹرمپ انتظامیہ اور پالیسیز کے لئے حقیقی چیلنج ہے ، اور ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت (جوکہ 40 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے ) کو دیکھتے ہوئے تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو بھاری نقصان ہونے جارہا ہے ،ٹرمپ ایک احمق ، نسل پرست ، جلد باز اور بیوقوف صدر ہیں ،جنکی تاریخ اسکینڈلز سے بھری پڑی ہے اور چندروز قبل ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے مشہور امریکی صحافی بوب روڈ وررڈ کی شائع ہونے والی کتاب میںدرج معلومات ٹرمپ کی ’’صفات ‘‘کو ثابت کرتی ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...