جمعرات , 18 اکتوبر 2018

سعودی شیعہ خاتون اور انسانی حقوق کی کارکن إسراء الغمغام کی مختصر سوانح حیات

تاریخ پیدائش: 1989( 29سال)
جائے پیدائش: القطیف ، سعودی عرب
شوہر موسی الہاشم
إسراء الغمغام سعودی عرب میں سرگرم انسانی حقوق کی خاتون کارکن ہیں جنکا تعلق القطیف کے علاقے میں آباد شیعہ مسلمانوں سے ہے ، 2011ء میں ’’عرب بہار‘‘ تحریکوں کے آغاز ہوتے ہی إسراء نے اپنے شوہر اور القطیف کے دیگر شہریوں کے ساتھ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں احتجاجات کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک میں شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو بند کیا جائے اور شیعہ شہریوں کو ان کے تمام شہری حقوق دیے جائے علاوہ ازین مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے علاقوں میں خستہ حالی کا خاتمہ کیا جائے۔

سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے لئے إسراء انتہائی سرگرم کارکن رہیں انہوں نے شیعہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم اور امتیازی سلوک کی کئی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شائع کیں ۔

2013ء میں عرب بہار کی لہر گھٹ جانے کے بعد سعودی عرب میں شیعہ مسلمانوں کے مظاہرے کم ہونے لگے اور سینکڑوں افراد بشمول خواتین کو جیلوں میں پھینکا جانے لگا، 6ستمبر 2015 ء میں سعودی فورسز نے اسراء کی رہائش گاہ پر اچانک چھاپہ مارتے ہوئے انہیں اور ان کے شوہر کو گرفتارکرکے ابتدائی طور پر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

اسراء پر یہ الزام عائد ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے لوگوں کو حکومت کے خلاف بھڑکارہی ہے علاوہ ازین سعودی حکام اسراء پر یہ الزام بھی عائد کررہے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کو سعودی حکومت کے خلاف استعمال کررہی ہے ،گرفتاری کے دو سال اور چند ماہ بعد سعودی پراسیکیوٹر نے عدالت سے اسراء اور دیگر چار افراد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

اس مطالبے کے بعد اسراء الغمغام وہ پہلی سعودی خاتون بن گئی ہیں جنہیں انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے پر سعودی عرب میں سزائے موت دینے کا امکان ہے کہإسراء الغمغام کی سزائے موت روکنے کے لئے ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کے عالمی ادارے متحرک ہیں اور بار بار سعودی حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں وہ اسراء اور دیگر سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کرے۔

یہ بھی دیکھیں

بن سلمان کو معزول کر کے اسے جیل بھیج دیں۔ نیویارک ٹائمز

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مشہور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن ...