پیر , 17 دسمبر 2018

کربلا سے ہم سیکھتے کیا ہیں؟

(تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

اے لبیک یاحسینؑ کہہ کر اپنے عزیزوں سے قطع تعلق کرنیوالوں، حسینؑ کہہ رہا ہے کہ انہیں معاف کر دو اور انکی ضروریات کا خیال کرو۔ آج دوست دوست کو دھوکہ دے رہا ہے، کربلا دوستی کی معراج کا نام ہے۔ سالار کربلا چراغ بجھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو جانا چاہے چلا جائے، جب اس جملے کو کئی بار دہرایا جاتا ہے تو ایک دوست اٹھتا ہے اور کہتا ہے، اے میرے مولا اگر ایک ہزار بار قتل کیا جاؤں اور میری لاش کو جلا کر ہوا میں اڑایا جائے، تو بھی ایک ہزار ایک بار زندہ ہونے پر آپکی ذات پر قربان ہونیکی ہی خواہش کرونگا۔ غیر موجودگی میں غیبت اور موجودگی میں خوشامد کرنیوالے دوستوں کے اس زمانے میں کربلا اس بات کی متقاضی ہے کہ دوست ایسے ہوں۔

کربلا ایک عظیم مقصد کے لئے برپا ہوئی، ایسا نہیں جیسا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا۔ نبی اکرمﷺ کو جبرائیلؑ نے پیدائش کے وقت ہی خبر دے دی تھی کہ آپ ؐ کا یہ نواسہ شہید کر دیا جائے گا اور اس جگہ کی بھی نشاندہی کر دی گئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے مختلف مواقع پر اس کی مزید وضاحت بھی فرما دی۔ اسلام کے بالکل آغاز پر یزید جیسے لوگوں کا خلیفہ بن جانا اور اس وقت خلیفہ اسلام کا ترجمان ہے، کا ایک مستحکم نظریہ موجود ہونا، اس بات کا متقاضی تھا کہ ایسا اقدام ہو کہ اسلام کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں۔ کئی بڑے مصنفین نے لکھا کہ اگر اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب ہوتا تو یزید کی صورت میں قائم ہونے والی بنی امیہ کی ننگی آمریت کے سامنے نہیں ٹھہر پاتا۔ یہ نواسہ پیغمبر امام حسینؑ کی لازوال قربانی تھی، جس نے اسلام کی عمارت کو مستحکم بنیادیں فراہم کیں۔ اس کے بعد ہر ظالم و جابر کو یہ معلوم ہوگیا کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جا سکتا۔

آج کے پوسٹ ماڈرن ازم کے دور میں ہم کربلا کے منانے پر اتنا اصرار کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ ہم کربلا سے کیا سیکھتے ہیں؟ اور وہ کیا ہے، جس کے لئے اتنی بڑی قربانی دی جا سکتی ہے؟ آج ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، خاندانی نظام تباہی کے دہانے پہنچ چکا ہے۔ معاشرے میں پہلے پہلے اولڈ ہوم بننا شروع ہوئے تو ایک ردعمل نے جنم لیا اور اسے اچھا نہیں سمجھا گیا، اب اسے قبول کر لیا گیا ہے اور ہر بڑے شہر میں کئی کئی اولڈ اولد ہومز بن چکے اور چھوٹے شہروں میں بھی یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اب تو یہ سلسلہ پرائیویٹ طور پر بھی شروع ہوا چاہتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے سرمایہ دارانہ نظام نے بڑی تعداد میں ہمارے معاشرے کی بہنوں، بیٹیوں کو آزادی کے نام پر گھر سے باہر نکالا اور اب بچوں کے سنبھالنے کے لئے سنٹرز بن گئے ہیں، جہاں بچہ جمع کرا جائیں اور شام کو یا رات کو واپس لے لیں۔ اس کے معاشرے پر اور آنے والی نسل پر کیا اثرات ہوں گے؟ اس پر ہم نے سوچا ہی نہیں۔

آج معاشرے میں ایک مرلہ زمین پر ایک بھائی بھائی کو قتل کر دیتا ہے، ایک بہن رشتہ کے تنازعے پر پوری زندگی بات نہیں کرتی اور اسی طرح ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے بیس بیس سال بھائی اس لئے بہن کے گھر نہیں جاتا کہ اس نے جائیداد میں حصہ لے لیا تھا۔ آج بیٹی باپ کو مصیبت سمجھتی ہے اور باپ بیٹی کو بوجھ سمجھ رہا ہے۔ حالات اتنے ابتر ہوچکے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک بزرگوں اور بڑوں کے سامنے اونچا بولنا گستاخی سمجھا جاتا تھا، آج محفل میں بچے باپ کو کہتے ہیں ابا جی خاموشی ہو جائیں، کسی بندے کو بات کرنے دیں۔ آج کے اس دور میں جب رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار، تعلقات کی نوعیت مفادات کے دائرے میں گھوم رہی ہے، ایسے میں کربلا ہمارے لئے ایک ایسا سائبان ہے، جس کے سائے میں ہم اپنے خاندان کو بچا سکتے ہیں۔

کربلا انسانی تعلقات کی معراج کا نام ہے، ایک دشمن لشکر راستہ روکنے کے لئے آتا ہے اور پیاسا ہے، ہم ہوتے تو کیا کرتے؟ یقیناً گاجر مولی کی طرح کاٹ دیتے اور اگر زیادہ دریا دلی کا مظاہرہ کرتے تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتے، مگر کربلا کا معمار کہتا ہے کہ میں نے انسانیت کو سبق ِ اقدار دینا ہے، لہذا سب کو پانی پلانے کا حکم دیتا اور خود بھی اٹھ کر پانی پلانے لگتا ہے، دشمن کے لشکر کے جانوروں کو بھی پانی پلاتا ہے۔ اے لبیک یاحسینؑ کہہ کر اپنے عزیزوں سے قطع تعلق کرنے والوں، حسینؑ کہہ رہا ہے کہ انہیں معاف کر دو اور ان کی ضروریات کا خیال کرو۔ آج دوست دوست کو دھوکہ دے رہا ہے، کربلا دوستی کی معراج کا نام ہے۔ سالار کربلا چراغ بجھا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو جانا چاہے چلا جائے، جب اس جملے کو کئی بار دہرایا جاتا ہے تو ایک دوست اٹھتا ہے اور کہتا ہے، اے میرے مولا اگر ایک ہزار بار قتل کیا جاؤں اور میری لاش کو جلا کر ہوا میں اڑایا جائے، تو بھی ایک ہزار ایک بار زندہ ہونے پر آپ کی ذات پر قربان ہونے کی ہی خواہش کروں گا۔ غیر موجودگی میں غیبت اور موجودگی میں خوشامد کرنے والے دوستوں کے اس زمانے میں کربلا اس بات کی متقاضی ہے کہ دوست ایسے ہوں۔

دس محرم کا دن بھی رشتوں کے تقدس کا دن ہے، بھائی اور بھائی کے تعلق کو دیکھنا ہو تو سردار کربلا اور حضرت علمدارؑ کے تعلقات کو دیکھیں، انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے، دشمن لشکر کا ایک سردار کہتا ہے، میرے بھانجے میرے پاس آؤ، میں نے تمہارے لئے امان لے لی ہے، حضرت عباسؑ فرماتے ہیں کہ میں تمہاری بات نہیں سنوں گا، نبیؐ کی بیٹی کے بیٹے کے لئے امان نہیں اور میرے لئے امان ہے؟ حضرت امام حسینؑ حکم دیتے ہیں کہ عباس ؑجاؤ اور اس کی بات سن لو، یہ رشتہ داری کا تقاضہ کرکے بلا رہے ہیں۔ حسینؑ حسینؑ ہے، جسے دشمنی سے زیادہ اقدار عزیز ہیں، ایسا کیوں نہ ہو؟ یہ اقدار الہیٰ اقدار ہیں اور انہیں کو بچانے کے لئے حسینؑ نکلا ہے۔ آج جو بیس بیس سال تک باہم نہیں ملتے، ان کے لئے کربلا کا پیغام یہ ہے کہ دشمنی ختم کرکے ایک ہو جاؤ۔ آج بہن اور بھائی کا رشتہ کمزور پڑ گیا ہے، لہذا کربلا کی بہن اور بھائی ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں۔

حسینؑ کی بہن رات کو بچوں کو بتا رہی ہیں کہ تم جعفر طیارؑ کے پوتے ہو، کل جنگ میں اپنے ماموں پر قربان ہو جانا۔ چھوٹے چھوٹے مال و متاع کے لئے رنجشوں کے پہاڑ بنانے والوں کے لئے یہ بہن اور بھائی کا تعلق نور کے پہاڑ کی مانند ہے، جو رہنمائی کر رہا ہے کہ بہن بھائی کا تعلق مال و دولت سے بہت بلند ہوتا ہے۔ باپ اور بیٹی کے تعلقات دیکھنے ہوں تو سیدالشہداؑ اور حضرت سکینہؑ کے تعلقات کا مشاہدہ کیا جائے کہ کیسے ایک باپ اپنی بیٹی پر اور بیٹی باپ پر فدا ہے، میاں بیوی کے تعلقات دیکھنے ہوں تو بھی کربلا کی خواتین و حضرات کا کردار مشعل راہ ہے، جہاں بچوں کو باپ پر قربان ہونے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ بیٹے اور باپ کے تعلقات دیکھنے ہوں تو حضرت علی اکبرؑ اور اور امام حسینؑ کے تعلقات ہمارے جوانوں اور والدین کے لئے مشعل راہ ہیں کہ کیسے باادب بیٹے اور باعظمت والد کے درمیان تعلقات تھے۔

کربلا تو زندگی کے ہر گوشہ کی رہنمائی کرتی ہے، ایک چیز اسلام پر قربان ہونے کا جذبہ ہے، اسی لئے حضرت امام حسینؑ نے پوچھا کہ تمہارے نزدیک موت کیسی ہے تو ہاشمی جوان نے کہا تھا کہ شہد سے میٹھی اور کسی نے کہا تھا کہ جب ہم حق پر ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، ہم موت پر جا پڑیں یا موت ہمارے اوپر آ پڑے۔ ہم اسلامی احکام کو حقیر سمجھتے ہیں اور کربلا اصحاب الحسینؑ کے نزدیک ان کی اتنی اہمیت تھی کہ ابو صمامہ صیداوی نے اول وقت میں نواسہ پیغمبرﷺ کو نماز یاد کرائی تو دعا دیتے ہوئے فرمایا کہ تم نے نماز کو یاد کیا، اللہ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے۔ یاحسینؑ کے نعرہ لگانے والوں سے کربلا یہ تقاضا کرتی کہ اسلامی احکام میں تاخیر کے بہانے تلاش نہ کرو بلکہ حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کی طرح اول وقت میں نماز سمیت تمام فرائض کو ادا کرو۔

بہت سے دوست پوچھتے ہیں، عاشورا کیسے منائیں؟ جناب عاشورا ایسے منائیں، جیسے اللہ کے نبیؐ نے منایا تھا، انہوں نے کیسے منایا تھا؟ ایک صحیح حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ تاجدار کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کربلا کی مٹی دے کر فرمایا، ام سلمہ رضی اللہ عنہا! یاد رکھنا اور دیکھتے رہنا کہ جب یہ مٹی خون میں بدل جائے تو سمجھ لینا میرا حسین ؑ شہید ہوگیا ہے۔،(گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم میں تھا کہ ام سلمہ، شہادت حسین ؑ کے وقت زندہ ہوں گی) ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے وہ مٹی سنبھال کر رکھی، حتی کہ ہجری کے 60 برس گزر گئے، 61 کا ماہ محرم آیا۔ 10 محرم الحرام کا دن تھا، دوپہر کا وقت تھا، میں لیٹی ہوئی تھی، خواب میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے ہیں، ان کی مبارک آنکھوں سے آنسو رواں ہیں، سر انور اور ریش مبارک خاک آلودہ ہے، میں پوچھتی ہوں یا رسول اللہ! یہ کیفیت کیا ہے؟ میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روتے ہوئے فرماتے ہیں ام سلمہ! میں ابھی ابھی حسین کے مقتل (کربلا) سے آ رہا ہوں۔ مسلمانو دس محرم کے دن نبیﷺ کی سنت پر عمل کرو اور حسینؑ پر گریہ کرو، اپنی داڑھی پر خاک ڈالو اور بالوں کو پریشان چھوڑ کر نبی کی سنت میں عزادار بن جاؤ۔

بشکریہ: اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...