پیر , 17 دسمبر 2018

کیا پیوٹن اسرائیل سے بدلہ لیں گے اور کس طرح لیں گے؟

عبدالباری عطوان (ترجمہ تسنیم خیالی)

روسی وزارت نے اپنے ایک بیان میں اسرائیل کو شام میں ایک روسی (ایل 20) ساخت کےطیارے کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ، وزارت دفاع کے مطابق شام پر اسرائیلی حملے کے وقت 4روسی ایل 20 طیارے ’’اللاذقیہ‘‘ کے علاقے میں کارروائی کررہے تھے جس کے دوران اسرائیلی حملہ آور طیاروں نے روسی طیاروں کو شامی دفاعی میزائلوں کے آگے بطور ڈھال استعمال کیا جس کے نتیجے میں روسی( ایل 20) شامی میزائلوں کی زد میں آگیا اور 15روسی فوجی مارے گئے ۔

روسی وزیردفاع ’’سرگی شویگو‘‘نے اپنے اسرائیلی ہم منصب ’’ آوی گیڈورلیبرمین‘‘ کو فون کرکے خبردار کیا ہے کہ روس اس واقعہ کا جواب اسرائیل کو دے گا ، البتہ انہوں نے مزید تفصیل سے گفتگو نہیں کی، روس کے حوالے سے بات چیت سے قبل اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ شام پر گزشتہ 18 مہینوں میں 207 اسرائیلی حملوں پر روس کی خاموشی کی وجہ سے ہی آج اسرائیل نے روس کے خلاف اس قدر توہین آمیزکارروائی کا ارتکاب کیا ہے ، یہ کارروائی روسی صدر پیوٹن کی بھی توہین ہے جو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتین یاہو کو اپنا دوست تصور کرتےہیں اور رواں سال 3 مرتبہ روس میں اپنے دوست کا استقبال کرچکے ہیں ، اسرائیلی قیادت نے انتہائی گھٹیا انداز میں روسی دوست کے ساتھ سلوک کیا ہے اور درج ذیل وجوہات کی بنا پر اس کی توہین کی :

نمبر ایک : اسرائیلی حملے میں اللاذقیہ میں روسی ائیربیس ’’حمیمیم‘‘ سے قریب واقع ایک شامی فوجی ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے ، جو کہ روس کوشام میں اس کے سب سے اہم اڈے کو دھمکی دینے کے مترادف ہے اور روسی فوجیوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کے برابر ۔

نمبر دو: روسی قیادت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل نے حملے کے بارے میں روس کو صرف ایک منٹ قبل آگاہ کیا ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ علاقے میں کسی بھی کارروائی سے قبل دونوں ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے اور تعاون بھی جو کہ روس کی تذلیل سے کم نہیں اور دوست کو جان بوجھ کر نشانہ بنا نے کی کوشش بھی ہے ، چاہیے یہ تھا کہ اسرائیل گھنٹوں قبل روس کو آگاہ کرتا تاکہ وہ احتیاطی تدابیر کرسکے ۔

نمبر تین: اسرائیل کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب روس اور ترکی میں ادلب آپریشن کو ملتوی کرنے پر اتفاق طے پایا ہے ، حملہ معاہدے کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہوا ہے ۔

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر روس نے فوری طور پر اسرائیلی حملے کا جواب کیوں نہیں دیا، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے ہی متفقہ طے ہے کہ وہ ایک دوسرے کو آگاہ کریں گے البتہ اب سوال یہ ہے کہ روس نے اسرائیل کو (ایل 20) طیارہ گرانے کا جواب کس طرح اور کب دینا ہے ؟

یہ بات تو طے ہے کہ نتین یاہو شام میںروسیوں کو تنگ کرنا جاری رکھے گا ، اس نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ شام میں ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا ، اور یہ بات اس نے روسی صدر سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے بھی بتادی ہے ، یہ رویہ ہماری نظر سے پیوٹن کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ، اسرائیل کی طرف سےایران اور شامی اہداف کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے رکن ملک (شام )کی خودمختاری پر حملہ ہے جسکا کوئی قانونی جواز نہیں ، یہ صرف اور صرف بدمعاشی اور شام میں جاری جنگ سے شام کے خلاف استفادہ کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ روس کو اس پر خاموش نہیں رہنا چاہئے ۔

ہم قطعی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ روس کا اسرائیل کو جواب اس کا ہوگا یا اس طرح ، البتہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روس اسرائیل کو جواب دو طرح سے دے سکتا ہے ۔

اول تو یہ ہے کہ روس کا جواب بلاواسطہ یوں ہوسکتا ہے کہ وہ مستقبل میں شام پر کسی بھی اسرائیلی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے خود روکے اور اسرائیلی طیاروں کو مارگرادے، یا پھر روس شامی دفاع کو (ایس 300) اور( ایس400)کے دفاعی میزائل سسٹمز فراہم کردے جس کے ذریعے شامی افواج اسرائیلی طیاروں کو روک سکیں ، اور ویسے بھی روسی قیادت نےشام قیادت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے اس قسم کے دفاعی سسٹمز فراہم کریگی البتہ اسرائیل اور امریکہ کے دبائو پر اب تک ایسا نہیں ہوسکا ۔

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...