جمعہ , 19 اکتوبر 2018

امن کا عالمی دن

طالب ریفا (تسنیم خیالی)

دنیا بھر میں ہر سال 21 ستمبر کے روز امن کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، 1948ء سے ہر سال ستمبر کے تیسرے ہفتے میں منائے جانے والے اس دن کے تعین سے 70 سال قبل عالمی انسانی حقوق کے اعلامیے کا اعلان کیا گیا تھا ، 1981ء میں امن کے عالمی دن کے اہداف کا تعین ہوا تھا جن میں امن کی تلقین ، تشدد کی مخالف، مساوات، جمہوریت کی تلقین ، تعلیم اور روزگار کا حق ، تنازعوں کو بات چیت کے ذریعے حل ، مذہب رنگ ونسل کی بنیاد پر تفرقہ بازی کی روک تھام ، جہالت اور غربت کا خاتمہ ، آنے والی نسلوں کے لئے بہتر مستقبل کا بندوبست اور دنیا بھر میں تمام اقوام کے درمیان قیام امن وغیرہ وغیرہ شامل ہیں ۔

اقوام متحدہ نے امن کے لئے ایک ’’لوگو‘‘ کا تعین کیا جس میں سفید رنگ کا کبوتر زیتوں کی ٹہنی اٹھائے رکھتا ہے جو کہ امن اور ہر قسم کے تشدد کو قبول نہ کرنے کی نشانی سمجھتا ہے، دنیا کے تمام ممالک امن کے خصوصی دن کو مناتے ہیں اور اس ضمن میں نمائش اور مختلف قسم کے پروگرامز مختلف ممالک میں منعقد ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو امن ، محبت، بھائی چارہ اور انصاف کی تلقین ممکن ہو سکے ، یہاں ہم اقوام متحدہ کی ہی ایک رپورٹ پیش کررہے ہیں جسے دیکھ کر افسوس سے کہنا پڑھتا ہے جس مقصد کے لئے امن کے عالمی دن کا اعلان کیا گیا تھا وہ مقصد پورا نہیں ہورہا ہے ۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے ممالک نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 13ٹریلین ڈالر صرف کردیے ہیں 2015ءمیں دنیا کے ممالک کی اندرونی سیکیورٹی پر 2۔4 ٹریلین ڈالر صرف ہوئے، دنیا بھر میں عسکری اخراجات2۔6 ٹریلین ڈالر ہیں اور تشدد کی وجہ سے دنیا بھر کے 13 فیصد (جی ڈی پی) کا حصہ خرچ ہوا جو کہ دنیا کے ہر فرد کا ایک ہزار 8سو ڈالر خرچ کرنے کے برابر ہے ، 2016 میں اقوام متحدہ نے قیام امن پر 8 ارب ڈالر خرچ کیے، جس میں 2018ء تک 18 فیصد تک اضافہ ہواہے اور اب بھی سال کے 3 مہینے باقی ہیں ۔

2015ء میں 120ممالک میں دہشت گردی ہوئی اور 70ممالک میں نہیں ، دہشت گردی کا مرکز شام ، عراق، نائیجیریا افغانستان اور پاکستان رہا، یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ قیام امن کے نعروں کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے ماتحت سلامتی کونسل امن قائم نہیں کرسکے اور ناہی عالمی قراردادوں پر عمل ممکن ہوسکا اور یہ سب کچھ امریکہ اور مغربی ممالک کے اثرورسوخ اور اجارہ داری کی وجہ سے ہوا جو اپنے مفادات کو سب سے پہلے ترجیح دیتے ہیں ، اور نتیجتاً بہت سے ممالک اقوام متحدہ کے احکامات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیےاور یہاں استثناء ان احکامات اور قراردادوں کو حاصل ہیں جن میں طاقتور ممالک اور ان کے ادارے بالخصوص ہتھیار بنانے والی کمپنیز کو فائدہ حاصل ہورہا ہوتا ہے ۔

اقوام متحدہ اب تک قیام امن میں ناکام رہا ہے جس کی اصل وجہ بڑے اور طاقت ممالک کی قیام امن کی وجہ سے متاثر ہونے والے مفادات ہیں ، ایک اور وجہ امریکی کی اجارہ داری اور دوغلی پالیسیاں ہیں ، ممکن ہے کہ مستقبل میں ایک نیا عالمی نظام معرض وجود میں آئے اور اس کے کچھ شواہد آہستہ آہستہ سراٹھاتے دکھائی دیتے ہیں اور شاید اس نئے عالمی نظام کے قیام دنیا میں امن کی صورتحال بہتر ہو؟

یہ بھی دیکھیں

بن سلمان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

(تسنیم خیالی) سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ ...