منگل , 18 دسمبر 2018

دنیا کو لاحق خطرات کس ملک سے ہیں؟ ایران یا پھر کسی اور ملک سے؟

(تسنیم خیالی)

امریکہ میں چند روز قبل ایران کے حوالے سے خصوصی امریکی نمائندے ’’برایان ہاک‘‘ کی ایران پر ہونیوالی ایک پریس کانفرنس کے دوران برایان کا کہنا تھا کہ دنیا کو اس وقت ایران سے کئی خطرات لاحق ہیں ! ادھر برایان کے منہ سے یہ جملہ نکلا تو وہاں سامنے بیٹھے لوگوں میں سے ایک خاتون نے اٹھ کھڑے ہو کر کہا کہ سعودی عرب دنیا کو لاحق اصل خطرہ
ہے ، خاتون کا نام ’’میڈی بنجامن ‘‘ ہے اور وہ دراصل انسانی حقوق کی خاتون امریکی کارکن ہیں ، بنجامن نے برایان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اور امریکہ کے اتحادی ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی ایران کے ساتھ طے ہونے والے جوہری معاہدے کے حامی ہیں ، اور اگر سعودی عرب کی بات کی جائے تو نہیں ، کیا یہ ہمارے اتحاد ی اس طرح کے ہیں؟ اور (سعودی عرب) دنیا کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہے ۔

بنجامن کا مزید کہنا تھا کہ ’’ایران پر پابندیاں عائد کرنے سے ایرانی عوام کو اذیت ہوگی ، آپ لوگ وہی غلطی دہرارہے ہیں جو آپ نے عراق کے ساتھ کی، دیکھو آج عراق، لیبیا اور شام کا کیا حال ہے ، اور کیا آپ یمن کو بھول گئے جہاں سعودی عرب عوام کا قتل عام کررہا ہے ؟‘‘میڈی بنجامن کی کوئی بات غلط نہیں اور واقعی میں اس وقت دنیا کو لاحق سب سے بڑا خطرہ کسی اور ملک سے نہیں سعودی عرب سے ہی ہے کیونکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا منبع سعودی عرب ہے اور یہ وہی دہشت گردی ہے امریکہ جس کو بہانہ بناتے ہوئے کبھی وہاں تو کبھی یہاں جنگ شروع کردیتا ہے۔

دنیا کی بیشتر دہشت گرد تنظیموں کا کسی نہ کسی طرح تعلق سعودی عرب سے لازمی ہوتا ہے ، طالبان ، القاعدہ، داعش، اور النصرہ فرنٹ اور بوکو حرام جیسی جماعتوں نےسعودی عرب کی کوکھ سے جنم لیا ہےاور جن دہشت گرد تنظیموں نے اس کو کھ سے جنم نہیں لیا ہے وہ سعودی عرب سے فنڈ اور ہتھیار ضرور لیتے ہیں ، 9 ستمبر 2001ء واقعہ میں بھی سعودی عرب ملوث ہے ( اور یہ کہانی اب سبھی کے علم میں ہے کہ سعودی اس واقعہ میں کس طرح ملوث ہیں ، یمن کی بے مقصد اور ظالمانہ جنگ بھی دنیا کو لاحق سعودی خطرےکا منہ بولتا ثبوت ہے اس جنگ میں سعودی عرب نے تمام عالمی قوانین اور اخلاقیات کو نظر انداز کرتے ہوئے یمنی عوام کا قتل عام جاری رکھا ہواہے ۔

کرپشن اور بدعنوانی کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خطرناک دیمک کی مانند ہے اور یہ جس ملک کو لگ جائے وہ اسے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہے اب قابل غور بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں کرپٹ اور بدعنوان حکمرانوں کا کسی ناکسی صورت تعلق سعودی عرب سے ہی ہوتا اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب انہی افراد کے ذریعے بہت سے ممالک کو زیر کیے رکھتا ہے ، یورپ ، ایشیاء ، افریقہ ، لاطینی امریکہ ، شمالی امریکہ ، غرض جہاں جہاں متشدد اور انتہا پسند فکر کے حامل دینی مدارس موجود ہیں سبھی کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور انہی مدارس سے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کیلئے خطرہ سمجھے جانے والے دہشت گرد نکلتے ہیں ۔

دنیا کیلئے ایک اور خطرہ سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی اتحاد تشکیل دے کر پیدا کردیا ہے یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ سعودی عرب کے مفادات کی خاطر بنایاگیا ہے اور اس اتحاد سے دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا بلکہ ان ممالک کو رو کنے کی کوشش کی جائے گی جو حقیقی معنوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں ، تیل کی صنعت کو بھی سعودی عرب دنیا کو خطر ے میں ڈالنے کے لئےاستعمال کرتا آرہا ہے ، آپ خود سوچیںکہ سعودی عرب تیل کی عالمی تنظیم اوپک کا رکن ہونے کے باوجود تیل کی فروخت اپنی من مانی سے کرتا ہے اور اوپک کے احکامات کو نظر انداز کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں عدم استحکام قائم رہتا ہے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اب تک لڑی جانے والی تمام جنگوں میں سعودی عرب سے بھاری قیمت وصول کی ہے ! آپ کو کیا لگتا ہے کہ امریکہ نے ان جنگوں میں فقط اپنا پیسہ صرف کیا ہے ؟

وہابیت نظریات پر مبنی آل سعود کی ریاست دنیا بھر کے لئے تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں لائی ہے اوریہ ریاست بھی جزیرہ نما عرب میں ایک تباہ کن خونریزی کے بعد ہی قائم ہوسکی جس میں لاکھوں بےگناہ افراد مارے گئے اور جو ملک تباہ کاریوں اور بے گناہ لوگوں کے خون پر قائم ہوتا ہے وہ تباہ کاریاں کرتا جاتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عوام کا سوال

(ظہیر اختر بیدری) بعض دوستوں کو حیرت ہے کہ بعض ترقی پسند حلقوں کی جانب ...