جمعرات , 18 اکتوبر 2018

بھارت: رشوت زدہ عدلیہ، کرپٹ حکمران اور آزاد صحافت

انڈیا کا پہلا اخبار ہکی کا بنگال گزٹ

انڈیا کا پہلا اخبار جس کی اشاعت سنہ 1780 میں شروع ہوئی وہ ہندوستان پر انگریزوں کے طرز حکمرانی کی عکاسی کرتا تھا۔ تاریخ دان اور صحافی اینڈریو اوٹس لکھتے ہیں اس سے ہم یہ سبق سیکھتے ہیں کہ کس طرح جابر حکمران کام کرتے ہیں اور کس طرح آزاد صحافت انھیں روک سکتی ہے۔

اس اخبار کا نام اس کے بانی جیمز اگسٹس ہکی جو ایک بڑے بے باک صحافی تھے ان ہی کے نام سے ہیکی کے بنگال گزٹ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس اخبار نے بڑی استقامت سے انڈیا کے طاقتور ترین لوگوں پر نظر رکھی۔ اخبار نے ان صاحب اقتدار لوگوں کی ذاتی زندگیوں کو کھنگالا اور ان کو کرپشن، رشوت ستانی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا موردِ الزام ٹھہرایا۔

بہت سی خبریں جن میں اس اخبار نے انگریز راج میں اعلیٰ ترین سطح پر پائی جانے والی بدعنوانی کو آشکار کیا ان میں اس وقت کے انگریز گورنر جنرل وارن ہیسٹنگ کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو رشوت دینے کی خبر بھی شامل تھی۔ اخبار نے وارن ہیسٹنگ اور اس کے قریبی ساتھیوں کی طرف سے غیر قانونی قبضوں، عوام پر بغیر حق نمائندگی ٹیکس لگانے اور آزادی رائے کو دبانے کے الزامات بھی لگائے۔

اخبار نے انڈیا میں مقامی لوگوں کی غربت اور غیر ملکی آقاؤں کی زندگیوں کا بھی موازنہ کیا جو ایسے مسائل تھے جنھیں دیگر اخباروں میں نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ اس نے نوآبادیاتی معاشرے کے نچلے اور پساماندہ طبقات سے اپنا رشتہ بنانے کی کوشش کی خاص طور پر ان مقامی فوجیوں کے بارے میں آواز اٹھائی جو برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔

اپنے عروج کے زمانے میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان کے ایک وسیع و عریض علاقے پر اپنی فوج کے ذریعے قابض تھی۔ سنہ 1857 کی بغاوت کے بعد جسے مقامی طور پر جنگ آزادی قرار دیا جاتا تھا کمپنی کو بند کر دیا گیا۔ بغاوت کے دوران اس اخبار نے ہندوستانی فوجیوں کی حوصلہ افزائی کی اور گورنر جنرل ہیسٹنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘تمہارے گلے ایک فاطر العقل شخص کی حیوانی خواہشت کے لیے وقف ہیں۔’ لیکن جلد ہی تنقید حکومت کی برداشت سے باہر ہو گئی۔ حکومت نے ان لوگوں کو بدنام کرنا شروع کر دیا جو ان پر تنقید کر رہے تھے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس بیانیے کو تبدیل کرنے کے لیے ایک حریف صحافتی ادارے کی مالی معاونت شروع کر دی اور ہیسٹنگ کے گماشتے ہکی کی کردار کشی پر اتر آئے۔ انھوں نے اخبار کو بد تہذیب اور اس میں لکھنے والوں کو پرلے درجے کے سازشی قرار دینا شروع کر دیا۔ آخر کار جب اخبار میں ایک صحافی نے اپنے نام شائع کیے بغیر یہ تحریر کیا کہ اگر حکومت عوام کے فلاحی کاموں میں عوام سے مشاورت کرنا چھوڑ دیتی ہے تو عوام اس کے تابع فرما رہنے کے پابند نہیں رہتے، تو اخبار کو بند کر دیا گیا۔

ہیسٹنگ نے ہکی کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ ایک رشوت زدہ عدلیہ کے سامنے ہکی کے بچ جانے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ ہکی مجرم قرار پائے لیکن اس کے باوجود نو مہینے تک جیل سے اخبار کی اشاعت کا کام کرتے رہے جس کو بعد میں سپریم کورٹ نے بند کر دیا اور اس کے پریس کو بحقِ سرکار ضبط کر لیا۔ اس طرح انڈیا کا پہلا اخبار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔ ہندوستان میں اختیارات کے ناجائز استعمال اور انسانی حقوق سے روگردانیوں کی خبریں انگلستان پہنچنا شروع ہو گئیں۔ انگلستان میں ارکان پارلیمان نے ہکی کے بنگال گزٹ کی خبروں کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کے ہیسٹنگ اور اس وقت کے چیف جسٹس دونوں کو واپس طلب کر کے ان کا مواخذہ کیا گیا۔ ہکی کے بنگال گزٹ اور انگلستان کے اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی وجہ سے کرپشن کے خلاف ایک فضا بنی۔ انڈیا کے سب سے پہلے اخبار کی طرح آج بھی آمرانہ ذہنیت رکھنے والے حکمران صحافت کی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عوام کو اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کے بجائے حکومت پر اعتماد کرنے کا درس دیتے رہتے ہیں۔ بعض سیاست دان متعلق العنان حکمران بنانا چاہتے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن ان حکمرانوں سے معاشرے کو کیا خطرہ ہوتا ہے۔

اب ایسے حکمرانوں کے پاس پہلے کے مقابلے میں عوام کو منقسم کرنے کے لیے نئے ہتھکنڈے آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے آنے کے بعد فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر نے ایسے خول تخلیق دیے ہیں جہاں لوگ وہی مواد لکھتے، پڑھتے اوردیکھتے ہیں جو ان کی پسند سے مطابقت رکھتا ہے یا جہاں ان کے ہم خیال لوگ ہی اپنی آراء کا اظہار کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر صدر ٹرمپ اکثر صحافیوں اور اخبارات کے خلاف ٹوئٹر پر حملے کرتے ہیں اور انھیں ‘فیک نیوز’ جعلی یا جھوٹی خبریں اور عوام کے دشمن قرار دیتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے انڈیا میں بھیانک اثرات مرتبہ ہو رہے ہیں اور حال ہی میں واٹس ایپ پر بچوں کی اغوا کی من گھڑت خبر پھیل جانے کی وجہ سے ایک ہجوم نے ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔

اکثر آن لائن ٹرول یا کسی کا پیچھ لینے کے رجحان کے پیچھے بھی ہندو قوم پرستوں کے ہاتھ پائے گئے ہیں۔ اس سال اگست میں کئی صحافیوں اورسماجی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر چھڑ جانے والی بحث میں ان سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو ملک دشمن اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا مخالف قرار دیا گیا۔ اس ہیجان انگیز ماحول میں سوشل میڈیا چلانے والی گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر جیسی کمپنیوں کو سوشل میڈیا کے معاشرے پر پڑنے والے منفی اثرات کا جوابدہ ہونا ہو گا اور انھیں بھی اُن ہی رہنما اصولوں کی پاسداری کرنی ہو گی جن کی پاسداری اخبارات صدیوں سے کرتے چلے آئے ہیں۔

سوشل میڈیا کو تقسیم اور نفرت پھیلانے کے بجائے گفتگو اور رابطے پیدا کرنے کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی۔ ہیسٹنگ جیسے بہت سے آمر آئے اور چلے گئے۔ لیکن اس نے انڈیا کو محکومیت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ انھوں نے وہ سماجی اور سیاسی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا جس پر ہندوستان میں انگریزوں کی حکمرانی کی عمارت کھڑی کی گئی۔ ایسے ہی لوگوں نے کروڑوں کی آبادی والے وسائل سے مالا مال ہندوستان پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے چند سو لوگوں کی حکمرانی قائم کی۔

ان کی حکمرانی ایک طرف تو تلوار تو دوسری طرف سچ لکھنے اور بولنے والوں کی آوازیں بند رکھنے کی وجہ سے قائم ہوئی۔ آج بہت سے جمہوری معاشروں میں منتخب حکمران سوشل میڈیا کو اسی طرح استعمال کر رہے ہیں اور آزادی صحافت کو رد کر کے عوام میں تقسیم در تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ ہیسٹنگ اور ہکی کی لڑائی اس صورت حال سے مختلف نہیں جس کا آج ہم سامنا کر رہے ہیں۔ فرق صرف ان جدید ہتھکنڈوں اور آلات کا ہے جو اس وقت میسر نہیں تھے۔

بشکریہ: بی بی سی اردو

یہ بھی دیکھیں

اسد جیت گئے،واشنگٹن ہار گیا

ڈاگ بانڈو (ترجمہ:تسنیم خیالی) معروف امریکی صحافی ڈاگ بانڈو نے حال ہی میں نیشنل انٹرسٹ ...