منگل , 11 دسمبر 2018

اہواز حملے میں ملوث دہشت گرد گروہوں کا مختصر تعارف

(تحریر: محمد علی)

برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” بھی ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں مصروف ہے اور وہ برطانوی انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے ایران کے صوبہ خوزستان میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔

ہفتہ 22 ستمبر کے دن ایران کے جنوبی شہر اہواز میں یوم دفاع کی مناسبت سے منعقد ہونے والی ایک پریڈ پر چار دہشت گردوں نے اس وقت فائرنگ کھول دی جب اسے شروع ہوئے تیس منٹ گزرے تھے اور پریڈ میں شریک فوجیوں کے علاوہ عام افراد کی بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔ ایرانی خبررساں اداروں کے مطابق اس دہشت گردانہ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 25 افراد شہید جبکہ دسیوں افراد زخمی ہو گئے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل رمضان شریف نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "اس دہشت گردانہ حملے میں ملوث عناصر کا تعلق دہشت گرد گروہ ” الاحوازیہ” سے ہے۔ اس گروہ کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔ اس حملے میں فوجی افسران اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گرد عناصر کا مقصد مسلح افواج کی پریڈ میں بدامنی پھیلا کر اس کی شان و شوکت گھٹانا تھا۔”

لیفٹیننٹ جنرل رمضان شریف نے مزید کہا کہ ہر سال منعقد ہونے والی اس پریڈ میں عام لوگوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا۔ "تحریک الاحوازیہ” ایران کے صوبے خوزستان میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کے اتحاد کا نام ہے جو اپنا مقصد مسلح دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے اس صوبے کو ایران سے علیحدہ کر کے خودمختار ریاست تشکیل دینا بیان کرتے ہیں۔ اس دہشت گردانہ اتحاد میں شامل چند مشہور دہشت گرد گروہ "حرکت النضال العربی لتحریر الاحواز”، "جبھہ العربیہ لتحریر الاہواز” اور "حزب النھضہ العربی لتحریر الاہواز” ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا اور سفاک گروہ "حرکت النضال العربی لتحریر الاحواز” ہے۔

الاحوازیہ نامی دہشت گرد علیحدگی پسند اتحاد نے برطانیہ اور لندن شہر میں بھی دفتر کھول رکھے ہیں۔ برطانیہ میں سرگرم این جی او تنظیم "انجمن دوستی ایران اور برطانیہ” بھی ان دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں مصروف ہے اور وہ برطانوی انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے ایران کے صوبہ خوزستان میں علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کی سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ دہشت گرد گروہ اب تک ایران کے جنوبی حصوں میں کئی دہشت گردانہ اقدامات انجام دے چکے ہیں۔ الاحوازیہ دہشت گرد اتحاد میں شامل گروہ عرب عجم تعصبات کے ذریعے ایران کے جنوبی علاقوں میں تفرقہ انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ قومیت پرستی اور قومی تعصبات پر مشتمل یہ ہتھکنڈہ امریکہ اور برطانیہ ایک عرصے سے اسلامی دنیا میں تفرقہ ڈالنے کیلئے استعمال کرتے آئے ہیں۔ علیحدگی پسند دہشت گرد گروہ یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ایرانیوں نے 1925ء میں خوزستان کے علاقے پر قبضہ کیا تھا اور اب اس علاقے پر فارسی زبان افراد کا قبضہ ختم ہونا چاہئے۔

علیحدگی پسند دہشت گرد اتحاد الاحوازیہ نے آبادان کا نام "عبادان”، خرم شہر کا نام "محمرہ” اور شادگان کا نام "فلیحہ” رکھا ہوا ہے۔ اس اتحاد سے وابستہ ایک ذیلی دہشت گرد شاخ کا نام "محی الدین آل ناصر بریگیڈز” ہے جس نے انٹرنیٹ پر بھی "احوازنا۔نیٹ” نامی ویب سائٹ کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس دہشت گرد گروہ کے سربراہ کا نام "حبیب نبگان” ہے جو ڈنمارک میں مقیم ہے۔ اس دہشت گرد گروہ کے زیادہ تر افراد دو خاندانوں "نیسی” اور "نبگان” سے تعلق رکھتے ہیں جو یورپی ممالک ہالینڈ، ڈنمارک اور سویڈن میں مقیم ہیں۔ دیگر علیحدگی پسند دہشت گرد رہنماوں میں حبیب اسیود، سعید حمیدان اور ناصر جبر کے نام مشہور ہیں۔ محمود حسین مشاوی دہشت گرد گروہ جبھہ العربیہ لتحریر الاحواز کا سرغنہ ہے۔ اس کا دیگر علیحدگی پسند گروہوں سے قریبی تعلق ہے اور صوبہ خوزستان میں کئی دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہا ہے۔

حرکہ النضال العربی لتحریر الاحواز کے مسلح دہشت گرد ونگ محی الدین آل ناصر بریگیڈز نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز 1997ء سے کیا۔ یہ گروہ عراق میں موجود دہشت گرد تنظیم "حبھہ التحریر” سے بھی وابستہ رہا ہے۔ اس گروہ سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے ایران کے صوبوں خوزستان، بوشہر اور ہرمزگان اور خلیج فارس میں موجود جزیروں کی آزادی اور خودمختاری کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کیلئے غیر عرب افراد کا قتل عام کریں گے۔ اس دہشت گرد گروہ سے وابستہ عناصر شدید نسلی تعصب کا شکار ہیں۔ 2005ء میں اہواز شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ بم حملوں کے پیچھے بھی اسی گروہ کا ہاتھ تھا۔ ان حملوں میں 11 افراد شہید جبکہ 87 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ دہشت گرد عناصر نے ان دھماکوں کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر بھی شائع کی تھی۔ دہشت گرد گروہ حرکت النضال العربی لتحریر الاحواز سے وابستہ ایسے عناصر جو یورپی ممالک میں مقیم ہیں اپنا اصلی نام استعمال نہیں کرتے بلکہ جو بیان بھی شائع کرتے ہیں اس میں "مقاومت عرب الاحواز” کا نام استعمال کرتے ہیں۔

بشکریہ: اسلام ٹائمز

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...