جمعہ , 19 اکتوبر 2018

یکساں نظامِ تعلیم کا معاملہ

(فیصل باری)

وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ تعلیم کو یکساں بنانے کے مقصد کو وزیرِ تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں بننے والی ٹاسک فورس کے 4 اہم نکات میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹاسک فورس ایک مہینے کے اندر اس مسئلے پر وزیر اعظم کو اپنی تجاویز دے گی۔

جب وزیر اعظم یکساں نظام تعلیم کی بات کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ان کا اشارہ برابری کی بنیاد پر مواقع جیسے خیالات کی طرف ہوتا ہے۔ تمام بچے چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں، انہیں معیاری تعلیم تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر خود کو اپنے پیروں کو پر کھڑا کرسکیں۔ امیر ہو یا غریب، لڑکا ہو یا لڑکی، دیہی ہو یا شہری، ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی ہونی چاہیے۔ یہ ان کا حق ہے اور اس میں پاکستان کی ہی بھلائی ہے۔ بلاشبہ یہ ایک نہایت ہی قابل تعریف اہم پالیسی اور غیر معمولی مقصد ہے، اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ وزیر اعظم اس مقصد کو اتنی اہمیت دے رہے ہیں جس کا یہ متقاضی ہے۔

مگر ہمیں محتاط بھی رہنے کی ضرورت ہے۔ مواقع کی برابری کا مطلب یکسانیت نہیں ہوتا۔ یکسانیت کو زیادہ تر ’لیولنگ یا ہموار بنانے‘ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ہم ہموار بنانے کے چکر میں آگے نکل جانے والوں کو بھی کھینچ کر پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ لا کھڑا کرسکتے ہیں۔ مگر اس طرح کی یکسانیت یا لیولنگ بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے نکھارنے کا موقع دینے کے تصور کے منافی ہوگا۔ یقیناً ’یکسانیت‘ کو ایسے تناظر میں دیکھا جائے کہ جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کے لیے اقدامات کرکے آگے لایا جائے۔

وزیر اعظم نے چند موقعوں پر جو مثال پیش کی ہے، اسی مثال کو لیجیے کہ مدرسہ جانے والے بچوں کے لیے مرکزی دھارے کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمتوں میں زیادہ مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ کوئی کیوں اس بات سے اختلاف کرے گا یا سوال کھڑا کرے گا؟ مگر اس بات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مدرسہ نظامِ تعلیم میں بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہاں یہ مطلب نہیں کہ مرکزی دھارے کا نظامِ تعلیم مدرسہ نظام تعلیم جیسا ہو۔ بلکہ بات اس کے برعکس ہے۔ اس مقصد کے حصول میں کامیابی یا ناکامی کا انحصار مرکزی دھارے کے نظام تعلیم نہیں بلکہ مدرسہ نظامِ تعلیم میں کی جانے والی تبدیلیوں پر ہوگا۔

کیا یکسانیت سے مراد ایک ہی نصاب، یکساں درسی کتب، امتحانوں کے طریقہ کار یا تعلیمی اداروں میں ایک ہی زبان کے استعمال سے ہے؟ اگرچہ یہ ایسے مسائل ہیں کہ جب یکسانیت یا یکسانیت کی کمی کے بارے میں بات ہوتی ہے تب ان کا تذکرہ ہونے لگتا ہے، لیکن درحقیقت ان میں سے کوئی بھی عمل مساوی مواقع کے مسئلے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا۔

کسی ملک میں ایک سے زائد قسم کے امتحانی بورڈز ہونے میں غلط کیا ہے؟ کئی ملکوں میں اسکول کی سطح پر ایک سے زائد قسم کے امتحانی بورڈز موجود ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کی سطح پر تمام یونیورسٹیوں کے پاس امتحان لینے کے اپنے اپنے طریقہ کار موجود ہیں۔ اسکول اور والدین عام طور پر اپنی مرضی کے مطابق یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ کس بورڈ کے مطابق اپنے بچوں کی تیاری کروانا چاہتے ہیں۔ لوگوں اور ریاست کو یہ یقینی بنانے میں دلچسپی ہے کہ جو افراد 10 یا 12 برس کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ ایسی چند قابلیتوں کے ساتھ ضرور ابھریں جن کی نہایت ضرورت ہے۔ مگر اس طرح صرف انہی کم سے کم معیارات پر محدود ہوا جاسکتا ہے جن کی توقع تمام اسکول گریجویٹس سے وابستہ ہوتی ہے۔ لیکن بورڈز ان کم سے کم حدود سے آگے جانے کے لیے آزاد ہوسکتے ہیں۔

کیا تمام اسکولوں پر ایک ہی تدریسی زبان (مقامی، اردو یا انگلش) کے استعمال پر زور ڈالنے سے یکسانیت پیدا ہوگی؟ ہم تو ایسا متعدد بار کرچکے ہیں۔ تاہم اس جبری فیصلے پر عمل کے باجود بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ جب پنجاب نے اپنے تمام سرکاری اسکولوں کو انگلش میڈیم بنا دیا۔ مگر انگلش کو تدریسی زبان بنانے سے کوئی اثر نہ پڑا، کم از کم اعداد و شمار کو دیکھ کرہم ایسا کہہ سکتے ہیں۔ اب بھی چند اسکول دیگر کے مقابلے زبانیں بہتر انداز میں پڑھاتے ہیں۔ اب یہی تو چیز تفریق کو جنم دیتی ہے۔ اگر ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام بچے اردو اور/یا انگلش پڑھیں تو ہمیں ان زبانوں کو پڑھانے کے طرز انداز کو بہتر بنانا ہوگا۔ چند یا سارے اسکولوں کی تدریسی زبان کو بدلنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔

یکساں نصاب پر زور دینے کے ساتھ بھی یہی مسائل جڑے ہیں۔ چند اسکولوں میں پڑھائی اچھی نہیں جبکہ دیگر میں بہت بہتر ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ کتابوں کو ایک سا ہی رکھیں تو بھی یہ تفریق برقرار رہے گی۔ ایک بار پھر یہ سوال ابھرتا ہے کہ، اسکولوں کو ایک ہی نصاب استعمال کرنے پر زور دینے سے کس طرح ‘یکسانیت‘ اور مساوی مواقع کا مقصد حاصل ہوتا؟ جی نہیں مقصد حاصل نہیں ہوتا۔

ریاست اور معاشرے کی فکر جائز ضرور ہے۔ ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ تمام بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ ہم یہ بھی ضرور چاہتے ہیں کہ جو بچے اسکولوں میں کئی برس گزارتے ہیں، وہ، کم سے کم سطح کا تھوڑا بہت علم اور صلاحیتیں ضرور رکھتے ہوں۔ ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے چند خاص اقدار کے ساتھ بڑے ہوں۔ ہم یہ بھی ضرور یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سب کو مساوی مواقع حاصل ہوں۔

نصاب، کتابوں، امتحانوں یا زبان پر پابندی لگانا ان مقاصد کے حصول کا درست طریقہ نہیں۔ بلکہ اس کے بجائے ہمیں ان کم سے کم معیارات مرتب کرنے پر سوچ بچار کرنا چاہیے کہ جنہیں اسکولی تعلیم (عام طور پر جسے (learning objectives) علمی مقاصد کہا جاتا ہے) کے مختلف سطحوں پر حاصل کرنا لازمی ہو۔ یہاں ضروری امر یہ یقینی بنانا ہے کہ تمام اسکول، بالخصوص سرکاری اور کم فیس لینے والے پرائیوٹ اسکول، ان کم سے کم معیارات کو حاصل کریں۔ ہم جس طریقہ کار کے تحت بچوں کا امتحان لیتے ہیں اس میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ بنیادی قابلیت کی بہتر انداز میں پرکھ کو یقینی بنایا جاسکے، مگر ہر کسی کے لیے یکساں امتحان کے طریقہ کار کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی اس طرح یکسانیت کے مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔

تو آخر میں ہم جو بات اخذ کرسکتے ہیں وہ بہت ہی سادہ ہے۔ اگر ہم تمام بچوں کے لیے مواقع کی برابری یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں کم سے کم معیارات کو مرتب کرنا ہوں گے جسے تمام اسکولوں کو حاصل کرنا ضروری ہو۔ عملی طور پر بات کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کو سرکاری اسکولوں اور سرکاری تعلیم کے معیار کو بڑھانا ہوگا۔

اگر سرکاری اسکول تعلیم کا کم سے کم معیار یقینی بنا سکیں تو نجی اسکولوں کو طلباء کو راغب کرنے کے لیے کم سے کم یہ یا اس سے بہتر معیار فراہم کرنا پڑے گا۔ جب تک کہ سرکاری اسکول کم سے کم قابلِ قبول معیار کی گارنٹی نہیں فراہم کر سکتے، تب تک ہم مساوی مواقع کی بات کیسے کر سکتے ہیں؟ مگر سرکاری اسکولوں کا معیار اسکولوں کو وہی کتابیں پڑھانے، وہی امتحانی نظام اپنانے یا اسی زبان میں تعلیم دینے پر مجبور کرنے سے نہیں بڑھے گا۔

لکھاری لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور کے ویزیٹنگ فیلو ہیں

بشکریہ: ڈان نیوز

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...