منگل , 11 دسمبر 2018

ڈیم نہیں چلو بھر پانی

(تحریر: نذر حافی)

تبدیلی عیاں ہوگئی ہے، میاں نواز شریف، اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ جیل سے باہر نکل آئے ہیں، یہ سب کچھ اس وقت ہوا، جب عمران خان اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب اور سعودی سفیر نواف بن سعيد المالکی، میاں نواز شریف سے ملنے جاتی امرا پہنچے۔ نواز شریف کی رہائی اور عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے یہ بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہماری گورنمنٹ کو چلا رہی ہے۔ اس عالمی حکومت میں ہمارے سیاستدان مختلف مہروں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے، جتنی نواز شریف کی تھی اور عمران خان بھی اس اسٹیبلشمنٹ کے اتنے ہی تابعدار ہیں، جتنے میاں نواز شریف تھے۔ کچھ عرصہ پہلے جب پاکستان کے لوگ میاں نواز شریف سے سخت تنگ آچکے تھے، ان کی ہندوستان دوستی اور کرپشن کی داستانیں عام تھیں، لوگ پاکستان میں امریکہ اور سعودی عرب کی بے جا مداخلت سے بھی اکتائے ہوئے تھے۔ اسی طرح شام، بحرین، یمن اور افغانستان کے حالات بھی لوگوں کے ضمیر پر مسلسل دستک دے رہے تھے۔ یعنی لوگ ایک حقیقی تبدیلی کے طالب تھے، تب اس حقیقی تبدیلی کا راستہ روکنے کے لئے ایک مصنوعی تبدیلی کا ڈرامہ رچایا گیا۔

پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھوں میں آج بھی قدیمی کشکول ہے اور حسبِ سابق ملک کو لوٹنے والے آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ آپ اسے ڈیل کہیں یا ڈھیل، لیکن اسے تبدیلی نہیں کہہ سکتے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں پر عوام کے چلتے ہوئے قدموں کو رک جانا چاہیئے، مخلص رہنماؤں اور پارٹیوں کو یہ تسلیم کرنا چاہیئے کہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ہمارے سیاستدان عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لکھے ہوئے سکرپٹ کے تحت اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حقیقت میں یہاں فقط چہرے اور مہرے بدلے ہیں، باقی سسٹم حسبِ سابق ہے، لہذا ہمیں ان نام نہاد سیاستدانوں کے اشاروں اور نعروں پر آگے بڑھنے کے بجائے واپس پلٹنا چاہیے۔ اگر ہمیں پاکستان سے محبت ہے اور ہم تعمیر پاکستان اور پاکستان کی سلامتی کو عزیز رکھتے ہیں تو پھر ہمیں اس بات کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ اس ملک میں کرپٹ افراد کے خلاف کس بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہونے والی اور حسبِ سابق امریکہ و سعودی عرب کا نفوز بھی قائم و دائم رہے گا۔ حتی کہ سی پیک میں بھی امریکہ بذریعہ سعودی عرب شراکت دار رہے گا۔ گویا جو کچھ جہاد انڈسٹری کے نام پر ہوا تھا، وہی سی پیک کی صورت میں بھی ہو رہا ہے۔

صرف انڈسٹری کی شکل تبدیل کی گئی ہے، اب بھی جہاد افغانستان و کشمیر کی طرح سی پیک کے عنوان سے زمین اور عوام پاکستان کا استعمال کرکے استعمار کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ ہمیں ماننا چاہیے کہ ہمارے ہاں ایک حقیقی، خود مختار اور کھری اپوزیشن کا وجود ہی نہیں، لہذا ملکی مسائل کے سلسلے میں عوام کو ایک حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مخلص رہنما اور تنظیمیں موجودہ اپوزیشن اور حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنا ایجنڈہ خود تیار کریں۔ اگر ہمارے ہاں عوام میں شعور بیدار کرکے ایک حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا نہیں کیا جاتا تو اگلے ہزار سالوں میں بھی نہ ہی ہماری سرحدوں پر امن قائم ہوسکتا ہے، نہ ہی ہمارے شہروں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے، نہ ہی مسئلہ کشمیر پر کوئی پیشرفت ہوگی اور نہ ہی ہم خود کفیل ہوسکتے ہیں، چونکہ ہمارے ہاں کے سیاستدانوں سمیت ہندوستان و افغانستان کے سیاستدان خود عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔

اب جو ڈیم ڈیم کی بتی کے پیچھے قوم کو لگایا گیا ہے، اس کے بارے میں یہ عرض کرتا چلوں کہ جس قوم کے ساتھ تبدیلی کے نام پر اتنا بڑا دھوکہ کیا گیا ہے، اس قوم کے نام نہاد سیاستدانوں کو شرم سے ڈوب مرنے کے لئے کسی ڈیم کی نہیں بلکہ چلو بھر پانی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ جاننا چاہیئے کہ جب تک جگ میں سوراخ ہے، اُسے پانی ڈال ڈال کر نہیں بھرا جا سکتا۔ لہذا کرپٹ لوگوں کی موجودگی میں ملک ترقی نہیں کیا کرتے، چاہے جتنے مرضی ڈیم بنوا لیں۔ ابھی بطورِ ثبوت منگلا ڈیم کو ہی لیجئے، خود آزاد کشمیر والے لوڈ شیڈنگ سے مر رہے ہیں، ایک تو بجلی مہنگی ہے، دوسرے برقیات والے بغیر بجلی کے میٹر دیکھے کئی گنا زیادہ بل لوگوں کو تھما جاتے ہیں، ڈیم کے گرد بسنے والے لوگ آج بھی ڈیم بننے سے پہلے کے دور کی طرح بے چین و بے قرار ہیں، حقیقت یہ ہے کہ منگلا ڈیم میں پانی کم نہیں بلکہ کرپشن زیادہ ہے۔ موجودہ حکومت اور اپوزیشن پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایک حقیقی عوامی اپوزیشن کی تشکیل کے لئے غوروفکر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، ورنہ پانچ سال کے بعد پھر ہمیں چلو بھر پانی کی ضرورت پڑے گی۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...