پیر , 17 دسمبر 2018

سفارتکاری کی نزاکتوںکو سمجھئے حضور!

(حیدر جاوید سید)

گھمسان کے ’’رن‘‘ اور زبان درازیوں سے اٹے ماحول میں بصد ادب عرض کروں۔ بندہ پرور سفارتکاری اور سیاست کاری میں بہت فرق ہے۔ سیاست میں اوئے توئے چلتا تو نہیں رواج پا گیا ہے مگر سفارتکاری کی زبان الگ ہے اور دنیا بھی۔ لفظوں کے چنائو میں ہزار چند احتیاط۔ کڑوی بات بھی میٹھے انداز میں کی جاتی ہے۔ کم از کم مجھ طالب علم کو جناب عمران خان کی اس ٹویٹ سے اتفاق نہیں جو انہوں نے پاک بھارت معاملے کے تازہ رخ پر کی ہے۔ معاف کیجئے گا کرکٹ کے میچ یا سیاسی دھرنے نہیں ہوتے سفارتکاری۔ بجا کہ بھارت نے پہلے مثبت جواب دیا اور پھر وزرائے خارجہ کی سطح پر ملاقات سے انکار۔ لیکن یہ اقرار والی بات کی پتنگ ہماری طرف اڑائی جا رہی ہے‘ بھارتی کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے تقسیم شدہ متحدہ ہندوستان کے دونوں ملک پاکستان اور بھارت نفرت پر کھڑے ہیں۔ اکہتر برسوں کا پورا سفر نفرتوں سے عبارت ہے۔ دونوں طرف کے وسائل کا انبار کھا گئیں نفرتیں۔ ستم یہ ہے کہ امن‘ محبت‘ باہمی تعلقات اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی فہم رکھنے والوں کے ساتھ واہگہ کے دونوں اور اچھوتوں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ بڑھک باز اور نفرتوں کے سوداگر محب وطن سمجھے جاتے ہیں۔ بال ٹھاکرے کی مختلف اقسام دستیاب ہیں۔ ہمارے عہد کا سچ ہی ابدی سچائی کا درجہ رکھتا ہے وہ یہ کہ جنگ مسائل کاحل نہیں۔ جنگ کا ایندھن مائوں کے جنے بنتے ہیں۔ عدم برداشت کی فضا تعمیر و ترقی کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ سیاست و صحافت کے اس طالب علم کو دونوں طرف کے الیکٹرانک میڈیا کے چھاتہ برداروں کی زبان دانیوں پر حیرانی ہوتی ہے۔ اپنے اپنے سماج کی بنیادی ضرورتوں اور آئندہ نسلوں کے روشن و محفوظ مستقبل کے حوالے سے دونوں طرف کی قیادتوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا۔ہم ہوں یا بھارت دونوں مختصر یا لمبی جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ آخر قیادتیں‘ شرح غربت‘ بیروزگاری‘ لا قانونیت‘ سٹریٹ کرائمز کی شرح‘ توہمات اور ان دھندوں کے بارے میں فکر مند کیوں نہیں ہوتیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں میں وسائل پر مختصر اقلیتیں قابض ہیں۔ کیا سرمایہ دار خاص فضا میں اپنا مال فروخت کروانا چاہتے ہیں؟ اس سوال کو کیسے نظر انداز کردیا جائے۔ دوسرا اہم سوال چین سے معاشی اشتراک ہے۔ امریکی اپنی نا پسندیدگی کا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال چکے۔ اس سوال پر غور کریں تو ایسا لگتا ہے جیسے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ بھارت میں پانے والے معاملات کے مطابق اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے۔ اس طور لازم یہ تھا کہ غیر سفارتی زبان استعمال کرنے کی بجائے عالمی برادری کے سامنے امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کی نئی کہانی اور سی پیک کے خلاف ہونے والی سازشوں کو رکھا جاتا۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ بھارت میں مرکزی انتخابات قریب تر آرہے ہیں۔ اقتصادی پالیسیوں کی ناکامی‘ ہندو توا کے پھیلائو اور چند دوسرے معاملات کی وجہ سے مودی سرکار پاک بھارت دشمنی کو پھر سے سیاسی و انتخابی ہتھیار بنانے کے جتنوں میں مصروف ہے ایسے میں ایک کمزور بیان مودی رجیم کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ طالب علم کے خیال میں یہ تیسری بات بہت اہم اور حقیقت کے قریب ہے۔ یہاں ایک بحث اور اٹھ رہی ہے اور چند سوال بھی۔ مختصر یہ کہ کیا بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی طرح ہمارے یہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایسی طاقتور لابی موجود ہے جو دیر پا امن ‘ باہمی تعاون اور سازگار حالات کو اپنے مفاد اور برتری کے لئے غلط سمجھتی ہے؟ اس سوال پر ہمیں اور واہگہ کی دوسری طرف کے لوگوں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔ منتخب ادارے اور قیادتیں ہی امراض کا علاج تلاش کرتی ہیں۔ غیر ریاستی بڑھک بازوں کی توتکار گھاٹے کا سودا ہے۔ توتکار کو روکنے کی ضرورت ہے۔ سادہ سی بات یہ ہے کہ پروپیگنڈے کے طوفان سے جو ماحول بنے گا اس کا فائدہ سرمایہ دار اور سہولت کار اٹھائیں گے یا وہ متعصب جن کی دکانیں ایسے ماحول میں پھلتی پھولتی ہیں۔ بجا ہے کہ نو منتخب قیادت کو سفارتکاری کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں مگر دفتر خارجہ کے بڑوں اور خود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو تو سفارتکاری کی نزاکتوں بارے علم ہے۔ عرض یہ ہے کہ بہت غور و فکر کی ضرورت ہے ایسا نہ ہو کہ انجانے میں کسی جال میں پھنس جائیں۔ یہاں ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنا ہوگی ترقی یافتہ ممالک کا بھارت کی طرف جھکائو ان کے معاشی مفادات کا حصہ ہے۔ 150 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بھارت میں۔ ہمارے حالات مختلف ہیں۔ چینی سرمایہ کاری اصل میں قرضہ ہے اس کی شرائط کیا ہیں پارلیمان کل بھی بے خبر تھی اور آج بھی ہے۔ چوتھا نکتہ جناب وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب کے دوران دیاگیا بیان ہے۔ انہیں یاد ہوگا کہ قبل ازیں وہ غیر جانبداری کے علمبردار تھے۔ ان کی جماعت نے پچھلی اسمبلی میں سعودیہ یمن تنازع میں غیر جانبدار رہنے کی بھر پور وکالت کی تھی۔ غیر جانبداری ہمارے آج کی بھی ضرورت ہے۔ ہمیں یمن کی دلدل میں اترنے سے قبل افغان دلدل میں اترنے کے نتائج سامنے رکھناہوں گے۔ ایک کثیر القومی اور کثیر المسالکی ملک کی خارجہ پالیسی کی ضرورتیں دوسروں کے مقابلہ میں یکسر مختلف ہیں۔ سوچے سمجھے بغیر کوئی فیصلہ یا اقدام ایک نئی تباہی کے دروازے کھول دے گا۔ مکرر عرض ہے دوستی اور دشمنی میں توازن سے محروم رہنے والے اگلی نسلوں کو محرومیوں کے سوا کچھ نہیں دے پاتے۔ دوسروں کے پھڈوں اور بلا وجہ کی نفرتوں کی سوداگری کے نتائج سے آنکھیں نہیں پھیری جاسکتیں۔ ایک آزاد خود مختار اور روشن شعور ملک کاکردار اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسی کسی بھی بات‘ بڑھک یا الزام سے اجتناب کرنا ہوگا جس سے خارجی و داخلی دشمن فائدہ اٹھا سکیں۔

’’ہم نیک و بد حضور کو بتلائے دیتے ہیں‘‘

یہ بھی دیکھیں

عوام کا سوال

(ظہیر اختر بیدری) بعض دوستوں کو حیرت ہے کہ بعض ترقی پسند حلقوں کی جانب ...