منگل , 18 دسمبر 2018

عشق رسولؐ سے حب حسینؓ تک

(حسن نثار)

دنوں، مہینوں، سالوں کی نہیں یہ زندگیوں کی بات ہے۔ ازل سے ابد تک حق و باطل، حسینیت و یزیدیت کی کشمکش ہی تو اصل کہانی ہے۔ خیر اور شر، سچ اور جھوٹ کی جنگ ہی تو حقیقی امتحان ہے ورنہ انسان اور حیوان کے درمیان مماثلتیں ناقابل بیان ہیں۔عدیم ہاشمی مرحوم و مغفور نے کہا تھا؎ہم ایک لاکھ تھے ہم نے تو سر جھکا ڈالےحسینؓ تیرے بہتر سروں پہ لاکھ سلاماورمیں نے عرض کیا؎مرا حسینؓ ابھی کربلا نہیں پہنچامیں حُر ہوں اور ابھی لشکر یزید میں ہوںامام عالی مقام اور اہل بیت کی عظمت و شوکت کا بیان تو کسی بھی زبان میں ممکن نہیں کہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں ایسی داستان کا عکس بھی موجود نہیں البتہ حضرت حر پہ حیرت ہوتی ہے جن کی جرات اور فیصلہ پر خود حیرت صدیوں سے حیرت زدہ ہے۔ وہ تب ہی سمجھا گئے تھے کہ لشکروں میں حر ایک آدھ ہی ہوتا ہے ورنہ کردار و تلوار کرائے پر عام دستیاب ہیں۔قاصر مرحوم نے معصوم اعظم علی اصغرؓ کے عنوان سے لکھا؎کربلا میں اے علی اصغر ترا اعلان جنگ حشر تک لیتا رہے گا ظلم سے تاوان جنگریت، جلتی ریت پر تھا تیرا خیمہ بے فرات خشک ہونٹوں سے تجھے لکھنا پڑا فرمان جنگ مسکراہٹ تیغ تیری، بے زبانی تیری ڈھالچھ مہینے کا مجاہد، مختصر سامان جنگ تیر کھایا، خوں بہایا، مسکرایا، جان دیباپ کے دو ہاتھ بس تیرے لئے میدان جنگتو کہ پہلے وار ہی میں سرخ رو پایا گیاروسیاہوں کے دلوں میں رہ گئے ارمان جنگ شرمسار اپنے ہی معیار عداوت سے خزاںپھول کی اک پنکھڑی کو جان کر عنوان جنگ انسانی تاریخ بربریتوں سے بھری پڑی ہے لیکن سب مل کر بھی کربلا کے سامنے سر ندامت جھکائے کھڑی ہیں۔شجاعت کی کہانیوں کا شمار ممکن نہیں لیکن اللہ اکبر کربلا جیسے شہسوار کسی میدان کسی ریگزار کو نصیب نہ ہوئے۔اصول کیلئے بہت سوںنے موت قبول کی لیکن یہ تو قصہ ہی قابل فہم نہیں، جو وہ کر گزرے وہ تو تصور میں کرنا بھی ممکن نہیں۔نویں دسویں کیا نو دس جنم بھی ملیں تو سوگ کیلئے کم ہیں اور میں سوچتا ہوں کم سے کم خراج تحسین کیا ہوسکتا ہے؟ اور میں سوچتا ہوں آپ کی قربانی کا کروڑواں حصہ بھی مسلمانوں کی زندگیوں کا حصہ بن جائے تو یہ امت کہاں کھڑی ہو؟ کہاں پہنچ جائے؟دنیاوی کامیابی حتمی نہیں ہوتی، دنیاوی ناکامی بھی فیصلہ کن نہیں ہوتی صرف جرأت، جرأت کردار و اظہار ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔جنہیں یقین ہو کہ خدا جاگ رہا ہے، وہ ابدی نیند سونے کو ترجیح دیتے ہیں۔جیسا عقیدہ، ویسی استقامت۔بہادری اور سچائی کو کوئی زمینی طاقت شکست نہیں دے سکتی چاہے بظاہر وہ مغلوب ہی کیوں نہ دکھائی دے۔اخلاقی جرات…. جرأت کی انتہا ہے۔جن پر ابدی ذمہ داریوں کا بوجھ ہو، انہیں موت بہت ہلکی ہو جاتی ہے۔مسلمان عشق رسولؐ اور حب حسینؓ کے بغیر مکمل ہوتا ہی نہیں۔ میں نے زندگی میں بڑے بڑے لبرلز اور مادہ پرست دیکھے ہیں جو بظاہر مذہب، روحانیت کے ساتھ مکمل طورپر لاتعلق دکھائی دیتے ہیں لیکن جب آپؐ اور امام عالی مقامؓ کا ذکر آئے تو پتھر برف کی طرح پگھلتے دیکھے، پہاڑ آتش فشاں میں بدلتے دیکھے اور ایسے ہر موقع پر یہ خیال ضرور آیا کہ ہم ایسے کیوں نہیں چلتے جیسے اونٹنی کا بچہ ماں کے قدموں پر قدم رکھ کر چلنے کی کوشش کرتا ہے۔محبت و عقیدت کے آداب میں پہلاکیا ہے؟اس سے بھی پہلے یہ طے کرلیں کہ محبت و عقیدت کا محور و مرکز ہوتا کون ہے؟ جو انسپائر، موٹی ویٹ، موبلائز کرتا ہے اور اس جیسا دوسرا دور دور تک کوئی نہیں ہوتا۔ آج کے بچوں کی زبان میں وہ آپ کا آئیڈیل، رول ماڈل ہوتا ہے اور آپ اس جیسا بننے کی کوشش کرتے ضرور ہیں۔ بالکل اس جیسا ناممکن ہو تو اس سے کم تر، آدھا، ایک چوتھائی اور اگر یہ بھی ناقابل حصول ہدف ہو تو آپ چاہتے ہیں کچھ اور نہیں تو کم از کم اس کی پرچھائیں سی ہی دکھائی دیں، اس کےاحکامات و ہدایات میں سے کچھ پر ہی عمل کرسکیں۔پہلے بھی عرض کیا اس کے کردار کا کروڑواں حصہ ہی سہی۔ ذرا تصور کریں اگر اتنا ہی کرسکیں تو یہ مسخ شدہ معاشرہ کیسا ہو جائے گا۔تیرے ہوتے جنم لیا ہوتاکوئی مجھ سا نہ دوسرا ہوتا۔

یہ بھی دیکھیں

عوام کا سوال

(ظہیر اختر بیدری) بعض دوستوں کو حیرت ہے کہ بعض ترقی پسند حلقوں کی جانب ...