جمعرات , 18 اکتوبر 2018

سی پیک میں سعودی عرب کی شراکت: کیا امریکہ کی نگرانی کا دوسرا نام ہے

(سید مجاہد علی )

نئی حکومت نے چند ہفتے ملک پر قرضوں کا افسانہ سنانے کے بعد اب نئے قرضے لینے اور اسے ملک کے بہترین مفاد میں قرار دینے کے اسی کارنامہ عظیم کی طرف پیش قدمی شروع کی ہے جس پر ملک کی ہر سابقہ حکومت اور لیڈر جستہ جستہ یا تیزی سے قدم بڑھاتا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے لیڈروں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں غیرملکی قرضوں میں ’خطرناک ‘ اضافہ اور ملک کی معیشت پر اس کے مہلک اثرات کا طویل مگر ناقابل فہم قصہ سنانے کے بعد اب نوید دی ہے کہ سعودی عرب کو سی پیک منصوبہ میں شریک ہونے، اسٹریجک پارٹنر بننے اور سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے واپسی پر اس دورہ کی شاندار کامیابی کے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے پرجوش باتیں کررہے ہیں ۔ لہذا فوری طور سے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ اس دعوت پر سعودی عرب کا کیا رد عمل ہے اور چین اس بارے میں کس طرح سوچتا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران سی پیک منصوبوں کی نگرانی کرنے والے سابق وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس پیش رفت کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ چین سے مشاورت کے بغیر یہ اقدام نہیں کیا جاسکتا۔ احسن اقبال کے یہ اندیشے شاید بے جا ہوں کیوں کہ وزیر اعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بیجنگ کے دورہ پر گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے چین کے صدر ژی جن پنگ کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے اور اس ملاقات میں چینی صدر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے اور سی پیک کی تکمیل کے بارے میں امید ظاہر کی ہے۔ سعودی عرب کو دی جانے والی پیشکش چونکہ وزیر اعظم عمران خان کے سرکاری دورہ کے دوران سعودی فرماں روا کو پہنچائی گئی ہے ، اس لئے یہ باور کرناچاہئے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چینی صدر اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں اس بارے میں معلومات فراہم کی ہوں گی۔ چین کو سی پیک منصوبوں میں کسی بھی ملک کی سرمایہ کاری سے اس وقت تک اعتراض نہیں ہو گا جب تک اس منصوبہ سے متعلق اس کے اپنے مفادات کو زک نہ پہنچے۔ چین کی قیادت ون روڈ ون بیلٹ کے سی پیک کے نام سے جانے جانے والے اور پاکستان میں تکمیل پانے والے منصوبہ میں دوسرے ملکوں کی معاونت، شرکت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے۔ یہ صدرژی جن پنگ کی معاشی پالیسی کا حصہ ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ تجارتی لین دین کی راہیں کھلی رکھی جائیں ۔ اسی لئے چین اگر پاکستان کے ساتھ دوستی اور تعاون کے اہم منصوبہ میں شراکت دار ہے تو بھارت ، افغانستان اور دیگر علاقائی ملکوں میں بھی سرمایہ کاری کرتا ہے اور اپنی مالی قوت کو معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرتا ہے۔

سی پیک میں سعودی عرب کی شراکت کا منصوبہ سو فیصدپاکستانی حکومت کا تصور ہے اور اس کی کڑیاں پاکستانی معیشت، امریکہ کے ساتھ تعلقات، عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت اور اس حوالے سے حائل مشکلات سے ملتی دکھائی دیتی ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے وزیر خزانہ نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر نیا قرض لینے کا اشارہ دیاتھا۔ گزشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے بھی اسد عمر نے بچت، آمدنی میں اضافہ اور ٹیکسوں میں رد و بدل کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی معیشت کی اصلاح کے لئے ہوسکتا ہے نئے قرض لینا پڑیں لیکن ہمیں اپنی حالت بھی بدلنا ہوگی۔ یہ گفتگو عالمی مالیاتی اداروں کی حکمت عملی کے مطابق تھی جس کے تحت غریب اور معاشی مشکلات میں گھرے ہوئے ملکوں کو قرض دیتے ہوئے سخت اقتصادی منصوبہ پر عمل کے لئے کہا جاتا ہے۔ اس منصوبہ میں حکومت کی آمدنی میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کا اصول بنیادی ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں اس کے اطلاق کا مطلب غریب آبادی پر محاصل کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی نئی حکومت نے گو کہ آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکیج لینے کا آپشن کھلا رکھا ہؤا ہے لیکن وہ اس انتہائی اقدام سے پہلے چین اور سعودی عرب جیسے دوست ملکوں سے عبوری قرضے یا امدادحاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت اس پالیسی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

آئی ایم ایف سے نیا قرض لینے کی راہ میں البتہ یہ مشکل بھی حائل ہوگی کہ امریکہ اس حوالے سے روڑے اٹکانے کا اعلان کرچکا ہے۔ دو ہفتے قبل پاکستا ن کا دورہ کرنے سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف کے نئے پیکیج کی مخالفت کا عندیہ دیاتھا۔ انہوں نے یہ شبہ ظاہر کیاتھا کہ پاکستان یہ سرمایہ چین سے ملنے والے قرضوں کی ادائیگی پر صرف کرے گا لیکن امریکہ چین کے قرضوں کے لئے پاکستان کو ریلیف دلوانے کی حمایت نہیں کرسکتا۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناطے امریکہ کی مرضی کے بغیر آئی ایم ایف بھی کسی ملک کو امداد فراہم کرنے کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ حکومت پاکستان کے پیش نظر یہ حقائق بھی ہوں گے ۔ اسی لئے آئی ایم ایف کے آپشن پر پیش قدمی سے پہلے چین اور سعودی عرب سے سرمایہ حاصل کرنے کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔ چین اگرچہ بہر صورت سی پیک منصوبہ کو مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ بھی پاکستان کی معیشت میں کوئی نئی سرمایہ کاری کسی واضح معاشی اور سیاسی ضمانت کے بغیر نہیں کرے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چینی قرضے مہنگے اور مشکل شرائط کے حامل ہو سکتے ہیں ۔ کیوں کہ چین کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں میں رازداری کی دبیز تہ بہرصورت موجود رہتی ہے۔ اس لئے عام لوگوں یا ماہرین کو ایسے تعاون کی اصل شرائط کا علم نہیں ہوتا۔ سی پیک کے بارے میں بھی ایسے شبہ کا ظہار ہوتا رہا ہے۔

چین کی طرح سعودی عرب بھی اپنے معاشی اور اسٹریجک مفادات کے لئے چوکنا اور ہوشیار ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کو پاکستان کا بہترین دوست ملک قرار دیتے ہوئے ’برادار ملک ‘ کا درجہ دیا جاتا ہے لیکن سفارتی زبان میں جو بھی اسمائے صفت استعمال کئے جائیں ، یہ بات طے ہے کہ کوئی ملک اپنا مفاد دیکھے بغیر امداد فراہم نہیں کرتا۔ یمن جنگ کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی سامنے نہیں آئی ہے، اس لئے پاکستان کے بارے میں سعودی عرب کی سرد مہری بھی کم نہیں ہوئی ہوگی۔ ایک تو سعودی سرمایہ کاری بھی امداد یا منصوبوں میں سرمایہ لگانے کے نام پر قرض ہی ہوگا جسے پاکستان کو واپس بھی کرنا ہوگا اور اس پر سود بھی ادا کرنا پڑے گا۔ لیکن آئی ایم ایف جیسے اداروں کے برعکس چین یا سعودی عرب سے طے پانے والے مالی منصوبوں کی اصل لاگت کا کبھی اعلان نہیں ہوتا تاکہ ان ملکوں کو براہ راست نکتہ چینی کا سامنانہ کرنا پڑے۔ اب سی پیک کو وسعت دیتے ہوئے اگر سعودی سرمایہ کا انتظار کیا جارہا ہے تو اسے خیر اور خوشحالی کا پیغام سمجھنے سے پہلے بوجھ قرار دینا ضروری ہے۔ حکومت کو پاکستانی عوام کو اس کی ضرورت، وسعت اور شرائط سے آگاہ کرنا چاہئے۔ اگر اس سرمایہ کاری کو آج سعودی عرب کے پاکستان پر احسان یا عمران خان کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اصل حقائق کو پس پردہ رکھا گیا تو یہ وزیر اعظم کے اس وعدے کی خلاف ورزی ہوگی کہ عوام کو ہر قسم کے معاملات میں صرف سچ بتایا جائے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ وعدہ صرف سابقہ حکومت کی ’ غلط کاریوں ‘ سے پردہ اٹھانے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سعودی عرب یا چین کے ساتھ طے کئے جانے والے معاملات کے بارے میں بھی عوام کو باخبر رکھا جائے گا۔

سی پیک کا منصوبہ شروع ہونے کے دن سے ہی یہ بات بھی واضح ہونا شروع ہوگئی تھی کہ اس منصوبہ میں پاک فوج بڑی حد تک دلچسپی رکھتی ہے۔ اسی لئے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف اور فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے بہر صورت سی پیک کی ضمانت کے اعلانات تواتر سے سامنے آتے رہے ہیں۔ ملک کے ایک اقتصادی منصوبہ کے بارے میں فوج کی یہ دلچسپی معنی خیز ہونے کے علاوہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، فوج سی پیک کی تکمیل کی براہ راست ضامن ہے۔ یہی وجہ ہے تحریک انصاف کی حکومت کو نواز شریف کی حکومت کے ہر کام میں عیب اور بدنیتی دکھائی دیتی ہے لیکن سی پیک جیسے بھاری بھر کم اقتصادی اور اسٹریجک منصوبہ کے بارے میں حرف زنی سے گریز کیا گیا بلکہ اب اس کی ملکیت لینے کا اعلان بھی ہورہا ہے۔ سعودی عرب کی سی پیک میں شراکت کے اعلان کے موقع پر چین میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی اس بات کا کھلم کھلا اظہار ہے کہ ملک کی مالی اور خارجہ پالیسی کہاں طے کی جائے گی۔ اگرچہ اسے بعض ماہرین سول ملٹری ہم آہنگی قرار دیں گے تاکہ ملک کا نظام چلتا رہے۔ لیکن ملک کے سیاسی انتظام پر اس کنٹرولڈ جمہوری نظام کے دوررس اثرات سے آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔
چین پاک اقتصادی منصوبہ کے حوالے سے روز اول سے شبہات اور اختلافات سامنے آتے رہےہیں ۔ سابقہ دور میں خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کی حکومت بھی اعتراض کرنے والوں میں پیش پیش تھی۔ تاہم مختلف منصوبوں پر عمل درآمد اور مقام وجگہ پر حرف زنی کےعلاوہ سی پیک معاہدہ کی خفیہ شقات پر اعتراض پر وسیع اتفاق رائے موجود رہا ہے۔ اس منصوبہ کو اپنے سر کا سہرا بنانے والی تحریک انصاف کی حکومت کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ سی پیک کے سابقہ اور حالیہ خد و خال اور مالی ، سیاسی اور بین الملکی تنازعات کو سامنے لائے اور یہ بھی کھل کر بتایا جائے کہ اس منصوبہ کا اصل مقصد کیا ہے اور پاکستان کے عوام کو اس سے کب اور کیا مالی فائدہ پہنچنے کی امید کرنی چاہئے۔ سی پیک کے حوالے سے امریکہ اور بھارت کی مخالفت اور چین کے ساتھ امریکہ کی نئی اقتصادی جنگ کے تناظر میں بننے والی تصویر کے خد و خال سے بھی عوام کو آگاہ کرنا اہم ہوگا۔
اہل پاکستان ، ملک کی حکومت اور فوج کو یکساں طور سے یہ بات سمجھنے اور پلے باندھنے کی ضرورت ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا مربی اور دوست ہونے سے پہلے امریکہ کا وفادار ہوگا اور اس کی خوشنودی چاہے گا۔ سعودی عرب کسی ایسے منصوبہ میں شامل نہیں ہوگا جس کی وجہ سے اس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہوں۔ کیا سی پیک میں سعودی سرمایہ کاری چین کے ساتھ شروع ہونے والے ایک قومی معاشی اور اسٹریجک منصوبہ میں امریکہ کی نگرانی قبول کرنے کا اشارہ ہے؟

یہ بھی دیکھیں

عالمی تیل مافیا،استعماری دھمکیاں اور ہندوستان

(عادل فراز) عالمی بازار میں کچّے تیل کی دن دوگنی اور رات چوگنی قیمتوں میں ...