منگل , 11 دسمبر 2018

ماسکو کے ممکنہ انتقام سے اسرائیل خوفزدہ

(تحریر: محمد بابائی)

ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنی پر مبنی اقدام انجام دیا اور روسی ایلوشین طیارے کو شام کے میزائل ڈیفنس سسٹم کے مقابلے میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جس کے نتیجے میں یہ روسی طیارہ میزائل کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا۔

گذشتہ ہفتے بحیرہ روم کے ساحل کے قریب روس کا ایک فوجی طیارہ تباہ ہو گیا جس کی ذمہ داری ماسکو نے تل ابیب پر ڈالی کیونکہ اسی وقت چند اسرائیلی جنگی طیارے شام کی فضائی حدود میں داخل ہو کر شام کے چند فوجی ٹھکانوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنا رہے تھے۔ اسرائیل نے روس کو قانع کرنے کی کوشش کی کہ اس طیارے کی تباہی میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا لیکن روس نے اسرائیل کا موقف مسترد کر دیا اور اسے خبردار کیا کہ روس جوابی کاروائی انجام دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ روسی حکام نے اس اسرائیلی اقدام کو "ناشکری”، "اناڑی پن” اور "مجرمانہ غفلت” قرار دیا ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ روس کا اگلا قدم کیا ہو گا؟ روس اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی پیچیدگی کے پیش نظر اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے۔

روس نے شام کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد اس جنگ میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک سے اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ شام کی جنگ سے فائدہ اٹھانے والے اہم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے کے ناطے اسرائیل کے ساتھ روس کی پالیسی کچھ حد تک دوغلے پن کا شکار رہی۔ روس کے حکومتی خبررساں ادارے جیسے اسپوٹنیک اور رشیا ٹوڈے نے ہمیشہ سے اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسرائیل کو امریکی سازش کا حصہ ظاہر کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے اپنے ذاتی تعلقات بڑھائے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر زور دیا ہے۔ حتی روس کے بعض اندرونی حلقوں میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ روسی صدر نے حد سے زیادہ اسرائیلی وزیراعظم سے دوستی کر رکھی ہے۔

روسی حکمران سمجھتے ہیں کہ وہ تل ابیب اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار نبھا سکتے ہیں اور ان دونوں میں توازن ایجاد کر کے شام میں سیاسی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔ کریملین میں یہ عقیدہ پایا جاتا ہے کہ شام کی جنگ تل ابیب کو اپنے ساتھ ملائے بغیر ختم نہیں ہو گی۔ البتہ یہ عقیدہ حقیقت پر مبنی ہے لیکن جو چیز اہم ہے وہ یہ کہ کس طرح اسرائیل کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ شام میں امن و امان کے قیام کی حمایت کرے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ روسی حکام مذاکرات اور اسرائیلی حکام سے ذاتی مراسم بڑھا کر یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس حکمت عملی کے اب تک کوئی مثبت اثرات ظاہر نہیں ہوئے بلکہ یہ پالیسی اسرائیلی حکام کی گستاخی میں اضافہ ہونے کا باعث بنی ہے۔

جس قدر اسرائیل کی جانب سے شام کے خلاف ہوائی حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے روسی حکام اسی قدر پہیلیوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیلی اور امریکی حکام کی خاطر میدان میں اپنے اصلی اتحادی یعنی ایران پر دباو ڈالیں اور اسے شام سے باہر نکلنے پر مجبور کریں۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جو نہ تو روسی حکام کی نظر میں معقول ہے اور نہ ہی وہ اسے انجام دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ روسی صدر کے سامنے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ شام کے خلاف اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے خلاف واضح پالیسی کا اعلان کریں۔ گذشتہ دو برس کے دوران شام پر اسرائیل کے ہوائی حملوں میں روس کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ دونوں کے درمیان ایکدوسرے کے کاموں میں مداخلت نہ کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے۔

لیکن گذشتہ ہفتے اسرائیلی ایف سولہ جنگی طیاروں کی جانب سے شام کے شمالی صوبے لاذقیہ میں حملے کے دوران ایک روسی فوجی طیارہ بھی تباہ ہو گیا جس میں پندرہ فوجی بھی سوار تھے۔ یہ واقعہ شام کی جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک دشمنانہ اقدام انجام دیا اور روسی ایلوشین طیارے کو شام کے میزائل ڈیفنس سسٹم کے مقابلے میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جس کے نتیجے میں یہ روسی طیارہ میزائل کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا۔ روسی وزارت دفاع نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ جوابی کاروائی کیلئے تیار رہے۔ اسرائیل نے بوکھلا کر ہمیشہ کی طرح صدر بشار اسد، ایران اور حزب اللہ لبنان کو قصور وار ظاہر کرنے کی کوشش کی اور ایک اعلی سطحی فوجی وفد بھی روس بھیجا تاکہ اس واقعے کی مناسب توجیہہ پیش کر سکے لیکن روسی وزارت دفاع نے اسرائیل کے موقف کو مسترد کر دیا۔

اب اسرائیل روس کے ممکنہ انتقام سے شدید خوفزدہ ہے۔ کیا روس شام کی فضا میں اسرائیلی جنگی طیاروں کا داخلہ روک دے گا؟ کیا روس شام میں موجود اپنے جدید فوجی آلات کی مدد سے اسرائیلی جنگی طیاروں کی نقل و حرکت محدود کر دے گا؟ گذشتہ تین سال کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اسرائیل سے فوجی کاروائی کے ذریعے انتقام نہیں لے گا لیکن اسرائیلی پائلٹس کو اپنا طیارہ تباہ ہونے کا ذمہ دار قرار دے کر اسرائیل کیلئے انتہائی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ اسرائیلی حکام بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ملک کے اندر اور عالمی سطح پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ روسی فوجیوں کا بہنے والا خون ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...