جمعرات , 18 اکتوبر 2018

محرم الحرام، ڈی آئی خان کے حالات و واقعات

ڈیرہ اسمعیل خان (آئی اے خان) چنیدہ اہل تشیع ضلعی اکابرین کو پولیس کیجانب سے سخت ہدایات پہ مبنی ایڈوائزری نوٹ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر بیرونی سرگرمیاں معطل کرکے گھر میں رہیں، اگر باامر مجبوری انہیں گھر سے باہر آنا بھی پڑے تو پولیس کیساتھ رابطے میں رہیں اور اپنے ساتھ اسلحہ یا سکیورٹی گارڈ رکھیں، کیونکہ انکی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ تمام تر حکومتی مشینری متحرک ہونے، شہر سیل ہونے کے باوجود قانون کے ہاتھوں سے وہ ممکنہ قاتل تاحال کیوں محفوظ ہیں کہ جن سے تشیع اکابرین کو خطرہ لاحق ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم الحرام کا پہلا عشرہ بھرپور روایتی انداز میں تمام تر عبادات و رسومات کے ساتھ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا ہے۔ عرصہ دراز سے جاری تشیع ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے اندوہناک سانحات کے باعث اس شہر کا شمار خیبر پختونخوا کے حساس ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ حکومتی و انتظامی غفلت یا ملی بھگت سے نوے کی دہائی میں شہر کے اندر فرقہ واریت کے نام پر دہشتگردی اور اہدافی قتل عام کی ایسی چنگاری سلگی کہ جس نے چند برسوں میں ہی پورے شہر کے امن و سکون کو پھونک ڈالا۔ سیاسی و ریاستی آشیرباد سے سلگنے والی آگ نے جب الاؤ کا روپ دھارا تو اس کے شعلوں سے کوئی بھی دامن نہ بچا سکا، تاہم بدامنی کی اس آگ نے سب سے زیادہ نقصان یہاں اہل تشیع کمیونٹی کو پہنچایا۔ ان کے نقصان کا اندازہ لگانے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ شہر کے جس مرکزی بازار میں بیس فیصد دکانیں یا کاروبار اہل تشیع کمیونٹی کا تھا، آج اسی بازار میں یہ کاروبار صفر ہے اور جو بازار کاروباری لحاظ سے نوے فیصد اہل تشیع برادری کے تصرف میں تھا، آج اس بازار میں محض تین سے پانچ فیصد دکانیں یا کاروبار اہل تشیع کا ہے۔ اسی طرح شہر میں موجود کسی بھی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے کے اندر اہل تشیع برادری سے متعلق اہلکار ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔ دوسری جانب دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور پولیس گردی کا نشانہ بھی سب سے زیادہ تشیع کمیونٹی بنی ہے۔

1987ء کے بعد کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اسی شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں سب سے زیادہ اہل تشیع نشانہ بنے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر اسی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے سرکاری اہلکاروں کی فہرست بھی مرتب کی جائے تو اس فہرست میں بھی بیشتر شہداء کا تعلق اہل تشیع برادری سے ہے۔ چاہے وہ پولیس کے شہداء کی فہرست ہو یا واپڈا اہلکاروں کی، پروفیسرز، ڈاکٹرز کی ہو، وکلاء کی یا اساتذہ کی۔ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والی اس برادری کو مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جیسے پی پی پی دور حکومت میں اس کمیونٹی نے سب سے زیادہ لاشیں اٹھائیں، کبھی خودکش حملہ تو کہیں پلانٹڈ بم، کہیں بارودی سرنگ تو کہیں دستی بم، ان سب سے جو بچے تو وہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنے۔ لیگی دور حکومت میں سرکاری و نیم سرکاری ملازمتوں میں یہ برادری سب سے زیادہ نظر انداز کی گئی۔ صوبے میں ایم ایم اے کے حکومتی دور کے اندر بچوں کی ذہن سازی کے عجیب و غریب طریقے مرتب کرکے نصاب میں مختلف نوع کی تبدیلیاں کی گئیں۔ تبدیلی کے نعرے سے قائم ہونیوالی پی ٹی آئی حکومت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی بلکہ اس نے تو سب سے زیادہ اس کمیونٹی کو زک پہنچائی۔ جعل سازی سے حکومت نے وقف شدہ املاک پہ قبضہ کرکے اس کی خرید و فروخت کا عمل شروع کیا، یہاں تک کہ خیبر پختونخوا میں اپنی نوعیت کی واحد جائیداد وقف بنام امام حسین (ع) یعنی کوٹلی امام حسین (ع) جعل سازی سے اس کی ملکیتی حیثیت تبدیل کرکے آگے فروخت بھی کر دی، جن سیاستکاروں نے اربوں کی تشیع پراپرٹی ہڑپ کی مقام افسوس ہے کہ وہی سیاستکار یہاں کے نام نہاد تشیع لیڈران کے محبوب لیڈر بھی ہیں۔

جس شہر کو اہل تشیع کی مقتل گاہ سمجھا جاتا ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ یہاں انتظامیہ پولیس کا رویہ یہاں کی تشیع برادری کے ساتھ ہمدردی اور غمگساری پہ مبنی ہوتا، مگر یہاں بھی گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ ڈی آئی خان کی تاریخ میں پولیس نے سب سے زیادہ لاٹھی چارج کا استعمال اہل تشیع کے جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں پر کیا۔ ڈی آئی خان کی تاریخ میں جتنی مرتبہ بھی کسی عوامی اجتماع پر پولیس یا نیم فوجی دستوں نے براہ راست سیدھی فائرنگ کی، وہ صرف اور صرف تشیع اجتماع پہ ہوئی، اس کے علاوہ یہاں پر آباد کسی کمیونٹی پر پولیس یا نیم فوجی دستوں نے براہ راست سیدھی فائرنگ نہیں کی، جس میں نہتے اور بے گناہ افراد نشانہ بنے ہوں۔ ان تمام تر مصائب کے باوجود یہاں کی تشیع آبادی نے صبر و ضبط اور مسلک کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ ان آزمائشوں نے یہاں کے اہل تشیع باسیوں کو اپنے مسلک و عقیدے سے مزید مخلص کر دیا ہے۔ جبھی تو اس شہر میں اہل تشیع ایام غم ہوں یا خوشی کا کوئی تہوار، بھرپور جوش، جذبے اور اخلاص کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس کی ایک جھلک محرم الحرام کی صورت میں بھی ملتی ہے کہ ملک بھر میں جہاں محرم الحرام کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے، وہاں ڈیرہ اسماعیل خان کے اندر محرم کا آغاز یکم محرم سے پانچ روز قبل ہو جاتا ہے اور سلسلہ ہائے ایام غم 9 ربیع الاول تک جاری رہتا ہے۔ یکم محرم سے پانچ روز قبل سے لیکر نو ربیع الاول تک ڈی آئی خان کی اہل تشیع کمیونٹی کیا کرتی ہے اور کیا نہیں کرتی۔(اس کا تفصیلی ذکر آئندہ سہی)

ماضی کی طرح اس سال بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں یکم محرم الحرام سے پانچ روز قبل بعد از مغربین نقارے کی نوبت کے ساتھ شہر بھر کی تمام امام بارگاہوں اور عزا خانوں میں ایام غم کے اعلان کے ساتھ ہی عزاداری کے اجتماعات کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد اندرون شہر اور تشیع اکثریت رکھنے والے مضافاتی علاقوں میں معمولات زندگی یکسر تبدیل ہوگئے۔ گھروں سے سرخ سبز رنگ کے علم یکم محرم سے قبل ہی اتار کر سیاہ علم چڑھا دیئے گئے۔ شہر سے ناپید ہونے ہو جانے والے مٹی کے برتن ایک مرتبہ پھر سے ہر گلی کوچے کے نکڑ پہ فروخت کی غرض سے دکھائی دینے لگے۔ وہی شہر کہ جہاں چند روز قبل ٹھنڈا اور فلٹر شدہ پانی چنیدہ گھروں میں میسر تھا، اندرون شہر ہر گلی کوچے کے باہر سبیل کی صورت میں ہر خاص و عام کو دستیاب تھا، پکوان ہاوسز کی مصروفیات میں اضافہ ہوگیا۔ (بوجہ نیاز و لنگر)، بازاروں میں جہاں ٹینٹ سروس، کراکری، جنرل سٹورز، بیوریجز، برف خانوں، پنسار، کریانہ، کپڑا، ٹیلرنگ کے کاروبار میں اضافہ جہاں اضافہ ہوگیا (بوجہ نیاز و لنگر، امام بارگاہوں و عزاخانوں اور مجالس و جلوسوں کے انتظامات) وہاں زیورات، میک اپ، میرج ہالز، الیکٹرانکس اور تعمیراتی کام سے متعلق کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ گلیاں، بازار، کوچے اور راستے صاف شفاف اور گندگی کوڑے دانوں تک محدود ہوکر رہ گئی۔ اپنی مدد آپ کے تحت ہی محرم سے قبل ہی حفاظتی نقطہ نظر سے سکیورٹی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ یکم محرم الحرام سے شہر بھر کو پولیس اور پاک فوج نے سکیورٹی کے کڑے حصار میں لے لیا۔ ساڑھے چھ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں نے عشرہ محرم کے دوران خصوصی ڈیوٹیاں سرانجام دیں۔

عشرہ اول کے دوران ضلع بھر کو سکیورٹی کی غرض سے چار زونز، دس سیکٹرز اور بیس سب سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا۔ ہر زون کے انچارج ایس پی جبکہ ہر سیکٹر انچارچ ڈی ایس پی رینک کا آفیسر تھا۔ شہر بھر میں کل 66 امام بارگاہیں و عزا خانے ہیں، جن میں 26 رجسٹرڈ اور 40 غیر رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں سے 26 کو حساس ترین اور 43 کو نارمل قرار دیا گیا تھا۔ ضلع بھر میں 174 جلوس نکالے گے، جن میں سے 71 رجسٹرڈ اور 103 غیر رجسٹرڈ قرار دیئے گئے۔ محرم کے دوران 642 مجالس منعقد کی گیں۔ شہر میں 144 مجالس، 22 سیج، 8 بیڑہ، 2 گھڑی گھڑولہ، 3 مکانڑ، 9 مہندی، 19 ذوالجناح اور 19 تعزیہ سمیت کل 226 عزاداری کے اجتماعات برپا ہوئے۔ یاد رہے کہ یہ فقط وہ پروگرام ہیں کہ عوامی مراکز جسے مساجد، امام بارگاہوں، بازاروں، گلیوں عزاخانوں یا چوراہوں میں برپا ہوئے ہیں۔ شہر بھر میں گھر گھر ہونے والی ہزاروں مجالس، نیاز و لنگر کے پروگرام اور مصائب و نوحہ خوانی کی محافل اس کے علاوہ ہیں۔ پولیس کی جانب سے مجالس اور جلوسوں کی سکیورٹی کے لئے چار ایس پیز، دس ڈی ایس پیز، پندرہ انسپکٹرز، 95 سب انسپکٹرز، 146 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، 500 ہیڈ کانسٹیبلز، 4955 کانسٹیبلز سمیت 6566 سے زائد پولیس اہلکاروں نے ڈیوٹیاں سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ ایف سی کی پلاٹونز اور پاک فوج کی فورس 20QRF نے بھی سکیورٹی ڈیوٹی سرانجام دی۔ ضلع میں 83 داخلی خارجی پوائنٹس پر ناکہ بندیاں کی گئیں جبکہ نو اور دس محرم کو شہر کے تمام داخلی و خارجی پوانٹس کو سیل کر دیا گیا۔ ان میں سے 18 ناکہ بندیوں پر پاک فوج کے ساتھ پولیس کے جوان بھی موجود تھے۔

ضلعی، صوبائی اور مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت ہونے کی وجہ سے اس بار تھلہ جات، امام بارگاہوں میں دیگر سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے برعکس صرف تحریک انصاف ہی نظر آئی۔ جس میں تحصیل ناظم (ر) کیپٹن عمر امین اور ان کے بھائی صوبائی ضمنی انتخابات کے امیدوار فیصل امین سرگرم نظر آئے۔ محکمہ صحت کی جانب سے ڈی ایچ او طارق میانخیل نے اپنے عملے کی ایمرجنسی ڈیوٹیاں لگوائیں تھیں، جبکہ ان تمام اداروں کیساتھ پاکستان آرمی کے چاک و چوبند دستے گشت کرتے متحرک تھے۔ بریگیڈئیر عمران سرتاج نے کئی مقامات کے دورے کئے، ان کے ساتھ نعمان خان آفریدی، ظہور خان آفریدی اور تحصیل ناظم عمر امین بھی موجود تھے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی، ایم آئی، ایلیٹ اور بم ڈسپوزبل اسکواڈ کی آپسی مضبوط کوآرڈینیشن کی وجہ سے آٹھویں محرم کی شب دہشتگردی کی ایک بڑی کارروائی ناکام بنائی گئی، جس میں تین دہشتگرد بھی ہلاک ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دہشتگرد مجلس عزا میں دہشتگردی کی بڑی کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی رکھتے تھے۔ البتہ ان کا تعلق دہشتگردوں کے کس گروہ سے تھا اور اس منصوبہ بندی کی کڑیاں کہاں جاتی ہیں، اس بارے میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

رواں برس عوام کو ڈبل سواری پر اس طریقے سے زدوکوب نہیں کیا گیا، جیسا کہ ماضی میں کیا جاتا تھا، نہ ہی موبائل بندش کی وجہ سے فاصلے بڑھائے گئے بلکہ اس بار صرف نویں محرم رات سے دسویں محرم رات دس بجے یعنی 24 گھنٹے ہی سروس معطل رہی۔ ایک طویل عرصہ بعد ڈی آئی خان میں یہ پہلا محرم تھا کہ جس میں بجلی کی غیر معمولی عدم موجودگی کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حساس ضلع میں رات کے اوقات میں جلوس اور عزاداری کے پروگرامز کے دوران بھی گھنٹوں بجلی غائب رہی۔ شہریوں، انجمنوں، متولیان کی جانب سے بار بار نشاندہی کے باوجود بھی یہ مسئلہ حل نہیں کیا جا سکا۔ حکومت کی جانب سے تمام تر تعاون، بعض مقامات پہ مسائل کے باوجود ڈی آئی خان میں محرم الحرام کا پہلا عشرہ بنا کسی ناخوشگوار واقعہ کے بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

البتہ گیارہ محرم کو ہی چند اہل تشیع ضلعی اکابرین کو پولیس کی جانب سے سخت ہدایات پہ مبنی ایڈوائزری نوٹ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام تر بیرونی سرگرمیاں معطل کرکے گھر میں رہیں، اگر باامر مجبوری انہیں گھر سے باہر آنا بھی پڑے تو پولیس کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اپنے ساتھ اسلحہ یا سکیورٹی گارڈ رکھیں، کیونکہ ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ امر باعث حیرت ہے کہ تمام تر حکومتی مشنری متحرک ہونے، شہر سیل ہونے کے باوجود قانون کے ہاتھوں سے وہ ممکنہ قاتل تاحال کیوں محفوظ ہیں کہ جن سے تشیع اکابرین کو خطرہ لاحق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایڈوائزری نوٹس کے ساتھ ساتھ حکومت اور ادارے ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کا مستقل سدباب کریں، تاکہ حقیقی معنوں میں ڈیرے کو پھلاں دا سہرا قرار دیا جاسکے اور اس کے ماتھے پہ مقتل گاہ کا لگا داغ بھی دھل سکے۔

یہ بھی دیکھیں

تاجروں کو نیب سمیت کوئی ادارہ بلاجواز ہراساں نہیں کرے گا، وزیراعظم کی یقین دہانی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیب اور ...