منگل , 11 دسمبر 2018

خون ریزی اور مذہبی تعلیمات (1)

(تحریر: سید اسد عباس)

خود سوزی کی نیت کے بغیر اپنے بدن کو اس انداز سے ضرب لگانا کہ اس کے سبب آپ کی جلد زخمی ہو جائے، اس پر نشانات پڑ جائیں، جسم کے کسی حصے کو جلانا، جلد یا زخم کو کھرچنا، بال اکھیڑنا حتی کہ ہڈی توڑنا ایذا رسانی کے ذریعے ہیں، جسے Self Harm یا Self Mutilation کہا جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کی نظر میں کوئی بھی شخص ذہنی دباؤ، تناؤ، جذباتی ہیجان یا اسی قسم کی کسی کیفیت سے وقتی سکون حاصل کرنے کے لئے یہ عمل انجام دے سکتا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے کئی ایک عوامل ہیں، جن میں جینیات، ذہنی خلل، نفسیاتی مسائل، منشیات کا استعمال، صنف وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جسمانی ایذا رسانی کا عمل عموماً انفرادی سطح پر کیا جاتا ہے اور اسے چھپایا جاتا ہے، تاہم بعض مقامات پر یہ عمل گروہی صورت میں اپنا لیا گیا اور اس کی پشت پناہی مذہبی تعلیمات انجام دے رہی ہیں۔ معلوم تاریخ کے مطابق مذہبی گروہوں نے روحانی منازل کو طے کرنے کے لئے اجتماعی جسمانی ایذار سانی کا آغاز کیا۔ مایا مذہب جو قدیم مذاہب میں سے ایک ہے، کے مذہبی راہنما خون نکالنے کے لئے اپنے بدن کو زخمی کیا کرتے تھے۔(۱) بائبل کے مطابق حضرت الیاس کی قوم کے افراد بھی اپنے جسموں کو تیز دھار آلات سے زخمی کیا کرتے تھے، جس کا مقصد جسم سے خون کا اخراج ہوتا تھا۔(۲)

حضرت موسیٰ ؑ کی شریعت میں اگرچہ جسمانی ایذا رسانی کی اجازت نہیں ہے، تاہم قدیم شام کی بندرگاہ راس شامرا سے دستیاب ہونے والی تختیوں سے خون نکالنے کی رسم کا سراغ ملتا ہے۔ ہندو معاشرے میں تو جوگیوں اور ان کے پیروکاروں کی جانب سے جسم کو کاٹنے، چھیدنے، کنڈوں سے لٹکنے، خون نکالنے، آگ پر چلنے کی رسومات آج بھی عام ہیں۔ عیسائی مذہب میں mortification of flash کی اصطلاح ملتی ہے، جس کا مقصد اپنی گناہگار فطرت کو موت سے ہمکنار کرنا یا نفس پر قابو پانا ہے۔ یہ کام جسمانی لذات کا خاتمہ کرکے انسان کو روحانی طور پر طاقت ور بنانے کے لئے انجام دیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لئے عیسائیوں میں روزے، جسمانی تسکین کی حامل اشیاء سے اجتناب، عبادت کی حالت میں دو زانو ہونا، نیز طرح طرح کے نفسانی کنڑول کے طریقے رائج ہیں۔ عیسائی مذہب میں یہ اصطلاح خود بائبل سے اخذ کی گئی ہے۔(۳)

جسم کو ایذا دے کر اسے روحانیت سے قریب کرنے کا فلسفہ جو بائبل سے اخذ کیا گیا ہے، کو کیتھولک عیسائیوں کے ایک گروہ نے خون ریزی کے درجہ تک بڑھایا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پھانسی سے قبل ان پر تازیانہ باری کی یاد میں تازیانہ زنی کا آغاز کیا۔ لوتھرن چرچ کے بانی مارٹن لوتھر اپنے جسم پر تازیانہ لگانے کے عمل کے عمل کوmortification of flash کے تناظر میں باقائدہ انجام دیتے تھے۔ تیرھویں صدی عیسویں میں رومن کیتھولک چرچ کے عیسائیوں کا ایک گروہ جو تازیانہ زن کے نام سے معروف ہوا، نے تازیانہ زنی کے عمل کو اپنی انتہاؤں تک پہنچا دیا۔ Flagellant یا تازیانہ زن وسطی اور شمالی یورپ بشمول برطانیہ میں ظاہر ہوئے۔ اس تازیانہ زنی کے پیچھے وہی mortification of flash کا فلسفہ کار فرما تھا۔ ابتداء میں تو کیتھولک چرچ نے تازیانہ زنی کے عمل پر کوئی ردعمل نہ دیا، تاہم چودھویں صدی عیسوی میں کیتھولک چرچ نے اس پر سختی سے قدغن لگائی، تاہم تاحال سپین، اٹلی، فلپائین میں تازیانہ زنی جو فقط تازیانے سے نہیں کی جاتی، جاری ہے۔ اس عمل میں جسم اور سر سے خون نکلتا ہے۔ اسی طرح Self Crucifixion کا عمل بھی آج تک کیتھولک چرچ کے بعض پیروکاروں میں رائج ہے۔ میکسیکو اور فلپائن میں آج بھی ہولی ویک اور گڈ فرائڈے کے موقع پر Self Crucifixion کی جاتی ہے، تاکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تکلیف کا احساس کیا جاسکے۔

mortification of flash گناہگار فطرت کو موت سے ہمکنار کرنا یا نفس پر قابو پانا تقریباً سبھی ادیان کا موضوع رہا ہے، بدھ مت نے عیسائیت سے قبل جنگلوں اور بیابانوں میں جا کر نفس پر قابو پانے کے قدرے مختلف طریقے وضع کئے، جو اب بھی بدھ تہذیب میں رائج ہیں۔ ہندو تہذیب میں بھی mortification of flash کا فلسفہ مختلف نام کے ساتھ موجود ہے اور اس کے لئے یوگا، جوگ اور دیگر علاقائی اصطلاحات ہیں۔ ہندو تہذیب میں تو اس کی انتہا مرن بھرت ہے، یعنی موت تک کھانے پینے سے اجتناب۔ میری فہم کے مطابق اسلام نفس کشی کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ نفسانی خواہشات سے جائز طریقے سے استفادے پر زور دیتا ہے۔ اس دین میں نفس پر سختی کی سخت ترین عبادت روزہ کو قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے، جیسے تم سے پہلی اقوام پر روزے فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔ یقیناً روزہ ایک نفسانی تکلیف ہے، جس میں حلال اشیاء روزے کی حالت میں جائز نہیں ہوتیں، تاہم اسلام نے اس عمل کو انتہائی فطری سطح پر رکھا ہے اور واضح کیا ہے کہ اسلام اس سے زیادہ انسان کو تکلیف نہیں دینا چاہتا اور اس سے بڑھ کر اختیار کردہ کوئی بھی نفسانی سختی کسی کام کی نہیں۔ اسی طرح حج کے دوران بعض پابندیاں لگائی گئیں، جو بہت محدود وقت اور مخصوص افراد کے لئے ہیں۔

اب نفسانی ضرورت کے باوجود نکاح نہ کرنا، اللہ کی تلاش میں طویل مدت کے لئے جنگلوں میں بسیرا، کنوئیں میں الٹا لٹکنا، ٹھوس غذا سے مکمل اجتناب اور سیال اشیاء پینا، فقط چائے پر اکتفا، ایک ٹانگ پر کھڑے رہنا یا اسی طرح کا کوئی اور کرتب کچھ بھی ہو، انسان کو جمناسٹک کا ماہر تو بنا سکتا ہے، اللہ والا نہیں۔ ہندو اور بدھ جوگی جو ریاضتیں کرتے ہیں، اس سے ان میں شاید کوئی ملکہ آجاتا ہو، تاہم وہ گیان یا حقیقت تک رسائی جو مقصود حقیقی ہے، کا یوں حاصل ہونا ممکن نہیں۔ اسی لئے تو سلطان باہو نے فرمایا تھا:
جے رب نہاتیاں دھوتیاں ملدا تاں ملدا ڈڈواں مچھیاں ھو
جے رب لمیاں والاں ملدا تاں ملدا بھیڈیاں سسیاں ھو
جے رب راتیں جاگیاں ملدا تاں ملدا کانڑ کڑچھیاں ھو
جے رب جتیاں ستیاں ملدا تاں ملدا دانداں خصیاں ھو
انہاں گلاں رب حاصل ناہیں باہو رب ملدا دلاں اچھیاں ھو              (جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ )

حوالہ جات

1.Gualberto, A. (1991), An Overview of the Maya World, Produccion Editorial Dante, pp. 207150208, ISBN 968-7232-19-6
2۔1 Kings 18:28
3۔ Romans 8:13 and Colossians 3:5

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...