جمعرات , 18 اکتوبر 2018

اہواز میں ہونے والا حملہ، آخر ہو کیا رہا ہے؟

تسنیم خیالی

ایران کے علاقے اہواز میں فوجی پریڈ پر ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے، یہ بھی حتمی بات ہے کہ ایرانی حکومت اور قوم حملے کا جواب دیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے، درجنوں افراد (بشمول بچوں) کی جان لینے والے اس حملے کی ذمہ داری اگرچہ داعش نے قبول کی ہے مگر یہ حملہ میرے نزدیک داعش نے نہیں کیا ہے اور اگر کیا بھی ہو تو یہ حملہ اس کی مرضی سے نہیں بلکہ اس سے کرایا گیا ہے ۔

کچھ ماہ قبل (اگر آپ سب کو یاد ہوتو) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران مخالف بیان دیا تھا جس میں بن سلمان نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ وہ جنگ کو ایران کے اندر تک لے جائیں گے ، اس وقت بن سلمان کے اس جملے نے مشرق وسطیٰ پر نظر رکھنے والے ماہرین اور تجزیہ نگاروں کو خوف وہراس میں مبتلا کردیا تھا کیونکہ اس قسم کےجملے علاقے میں نئی جنگ جنگ کی طرف واضح اشارہ تھے ۔

اہواز کے علاقے میں فوجی پریڈ پر حملہ دراصل بن سلمان ،امریکہ اور اسرائیل کا کیا دھرا ہے اور یہ حملہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے حربوں میں سے ایک ہے اور قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران میںایسے مزید حملے ہوں،امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب اس وقت ایران کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں اور یہ سب کچھ اسرائیل کی قیادت میں ہورہا ہے ،شروعات امریکہ کی طرف سے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری اور پھرایران پر ایک بار پھر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے ہوئی، امریکہ اور اسرائیل کو اس بات کا یقین ہے کہ محض اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے کسی بھی ملک کو زیر کرنا مشکل ہوگا جیسا کہ کیوبا اور شمالی کوریا کو محض پابندیوں کے ذریعے زیر نہیں کیا جاسکا ۔

پابندیوں کے حربے کے علاوہ عدم استحکام اور دہشت گردی کے حربے بھی استعمال ہونے چاہئے جو کہ امریکہ اور اسرائیل استعمال کرنا شروع ہوگئے ہیں مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ایک بات طے ہے کوئی بھی جنگ علاقے میں ایسے ہی نہیں شروع ہوتی بلکہ اس کے لئے کئی سال پہلے ہی تیاری شروع کرلی جاتی ہے اور ان جنگوں میں سعودی عرب کو شامل کیا جاتا ہے ۔

ایران کے خلاف بھی سعودی عرب کو شامل کیا گیا ہے اور سعودی ولی عہد کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی منصوبوں کا پہلے سے ہی علم ہے تبھی تو انہوں نے جنگ ایران منتقل کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی،اہواز حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ جنگ فی الحال انٹیلی جنس سطح پر ہورہی ہے جس میں پوری طاقت سے ایران ،ایرانی حکومت اور ایرانی عوام کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران کے خلاف بے شمار سازشیں کی گئیں اور یہ تمام سازشیں ناکام ہوئیں اور آج بھی جو جنگ ایران کے خلاف شروع ہوئی ہے وہ بھی ناکام ہوگی اور دشمنو ں کو ایران کی طرف سے بہت جلد منہ توڑ جواب ملنے والا ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

’انتفاضہ الاقصیٰ‘ کے 18 سال، انقلاب کا سفر جاری!

فلسطین میں سنہ 2000ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے خلاف فلسطینی عوام ...