جمعہ , 19 اکتوبر 2018

ٹرمپ کی روس اور چین پر ایک ساتھ پابندیاں، آگ کا کھیل

رائی الیوم (ترجمہ تسنیم خیالی)

روس اور چین پر ایک ساتھ پابندی عائد کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں امریکی انتظامیہ ایک بہت بڑی غلطی کے ساتھ ساتھ امریکی اسٹراٹیجی کے ایک اہم پہلو اور مسلمہ قاعدے کو توڑ رہی ہے جس کی وجہ سے بلاشبہ دونوں ممالک (روس اور چین ) کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گی اور دونوں مل کر امریکہ کے خلاف کھڑے ہوجائیں گے، سابق امریکی صدر ریچارڈ نیکسن نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجرکے ذریعے سرد جنگ کے زمانے میں ایک اسٹراٹیجی رکھی تھی جس کا اہم پہلو یہ تھا کہ چین اور سوویت یونین میں دوری برقرار رکھنے کیلئے دونوں کے ساتھ الگ الگ سے کام کرنا ہوگا، نیز امریکہ نے اس وقت چین کی اقتصادی اور سیاسی حمایت کی تھی اور اقوام متحدہ وسلامتی کونسل میں چین کی رکنیت مضبوط کی تھی۔

گزشتہ جمعہ کے روز روس اور چین کے ایک ساتھ ہو کر دونوں پر امریکی پابندیاں عائد ہونے کی مذمت کی تھی ، یہ وہ پابندیاں ہیں جو دونوں پر چین اور روس سے لڑاکا طیارے’’سوخوئی 35‘‘ اور’’ ایس۔ 400‘‘دفاعی میزائل سسٹمز خریدنے کے باعث عائد ہوئیں۔امریکی انتظامیہ کے نزدیک چین کے اس اقدام سے امریکی ہتھیاروں کی صنعت کو خطرات لاحق ہوئے ہیں اور اس اقدام سے روسی ہتھیاروں کی ’’مشہوری ‘‘ ہورہی ہے، جو کہ بلا شبہ امریکی پریشانی اور غصے کا باعث بنی ہوئی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے پہلے سے ہی ایک ’’بیوقوفانہ‘‘ اقدام اٹھاتے ہوئے چین کے خلاف اس وقت اقتصادی جنگ کا اعلان کیا جب اس نے چینی درآمدات پر 200ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کیے اور توقع ہے کہ مستقبل قریب میں مزید ٹیکسوں کا اضافہ ہوگا، چین نے بھی جوابی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی درآمدات پر 60 ارب ڈالر ٹیکس عائد کردیے ہیں اور مزید جوابی اقدامات کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے ، چین اور روس جو اس وقت دنیا پر امریکی اجارہ داری اور اقتصادی جنگ کی مخالفت کررہے ہیں نے گزشتہ ہفتے تاریخ کی سب سے بڑی مشترکہ فوجی مشق کا اہتمام کیا جس میں 3 لاکھ فوجیوں سمیت ایک ہزار جنگی طیارے، 70 بحری جہاز اور بیڑے، ہزاروں ٹینکس اور بکتربند گاڑیوں نے شرکت کی تھی۔

روسی نائب وزیرخارجہ ’’سرگی ریابکوف‘‘ نے صحیح کہا ہے کہ امریکہ روس اور چین پر ایک ساتھ پابندیاں عائد کرکے روس کو ہتھیاروں کی منڈی سے نکالنا چاہتا ہے جو کہ ’’آگ سے کھیلنے‘‘ کے مترادف ہے، جی ہاں امریکی صدر دنیا کےنصف حصے پر اقتصادی پابندیاں عائد اور اقتصادی جنگ شروع کرکے واقعی میں آگ سے کھیل رہے ہیں وہ دشمن اور دوست میں کوئی فرق نہیں برت رہے ہیں ،اس کے نزدیک کینیڈا اور یورپی یونین کے ممالک چین ، روس اور ایران جیسے ہی ہیں ! کیا اس سے بڑی اور کوئی بیوقوفی ہوسکتی ہے ؟

یہ بھی دیکھیں

بن سلمان کی جگہ کون لے سکتا ہے؟

(تسنیم خیالی) سعودی صحافی جمال خاشقجی کے معاملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ ...