پیر , 17 دسمبر 2018

بعد از کربلا

(سید نور اظہر جعفری)

ہر نتیجہ کسی عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ہر عمل کا کوئی نتیجہ ہوتا ہے۔ سال کے کئی ماہ مختلف نسبتوں کی طرف ہمیں یاد دہانی کراتے ہیں اور ہم مناتے بھی ہیں اور منانا بھی چاہیے کہ یہ طاقتور ترین منسوبیت ہیں۔

ربیع الاول تاریخ انسانی اور اسلامی کی عظیم ترین شخصیت حضرت محمد ﷺ کی آمدکا مہینہ ہے اور دنیا کی وجہ تخلیق کا مہینہ کہا گیا ہے کہ پروردگار عالم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ جہاں ہم نے محمدؐ کے لیے تخلیق کیا اور محمدؐ نے اپنے عمل سے اس نتیجے کو ثابت کیا کہ پروردگار نے عالم انسانیت کے لیے انھیں خلق کیا اور دنیا میں انسانیت کا، رواداری کا، مساوات کا، اخلاص کا جو بھی درجہ اب بھی باقی ہے وہ حضور اکرمؐ کے عمل کا نتیجہ ہے جس سے غیر مسلم دنیا زیادہ مستفید ہے اور مسلمان ملک زیادہ تر رسولؐ کے عمل اور تعلیمات کو رسوم و رواج میں بدل کر آپس میں دست وگریباں ہیں اور دونوں برسرپیکار مسلمان ملکوں کی مسلم دشمن ممالک اس کام میں مدد کر رہے ہیں۔

اسلامی فوج کیا کررہی ہے، کتنے مسلمان ملکوں کی اس فوج نے مدد کی ہے، اس پر بات آگے چل کر ہوگی۔ رمضان المبارک خود پروردگار کا مہینہ ، رب نے مسلمانوں کو ہر سال ایک ماہ دیا کہ اپنی روح اور جسم کو صالح کرلو، مجھ سے قربت پیدا کرلو، میری عنایات کے حق دار ہوجاؤ اور مجھے خوش کردو، اپنے عمل سے کہ تم نتیجہ ہو میرے حکم کا یہ انفرادی بھی ہے اور اجتماعی کبھی کیونکہ وہ چاہتے تو تین سو تیرہ کو فتح دے دے اگر وہ عمل والے ہوں اور ہزاروں، لاکھوں کو شکست اور ذلت نصیب ہو اگر وہ بے عمل ہوں ۔
حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰ ؑ کے قصے میں قدرت کا انتظام تھا، ہر عمل کا ایک نتیجہ اور وہ بھی محفوظ ، قدرت نے مقرر کیا تھا کہ کب ظاہر ہوگا اور قدرت کا کوئی عمل مصلحت سے خالی نہیں، انسانی فطرت موسیٰ ؑ نہ سمجھ سکے اور سفر تمام ، شرط یہ تھی کہ قدرت سے جواز نہ مانگو تم اختیار نہیں رکھتے، مخلوق ہو خالق نہیں۔ بتانا نہ بتانا اس کی مرضی جسے چاہے بتائے۔ محمدؐ کو سب کچھ دکھایا بتایا اس ماہ میں اورکبھی ایک رات میں کہ کائنات کا وقت روک دیا گیا، خدا کا محبوب ملاقات کے سفر پر تھا لہٰذا خدا کے مقرر کردہ بادشاہ زمانہ کا زمانہ تھم گیا، بادشاہ نہیں تھا وہاں لہٰذا اس جگہ سب کچھ بظاہر رواں تھا مگر نہیں تھا۔

حج کا مہینہ کہ خدا اپنے مہمانوں کو اپنے گھر دعوت دیتا ہے کہ آؤ اپنی تاریخ کو دیکھو اپنے دین کی شہادت دو اور یہاں سے شہادت لو کہ باعمل خالی ہاتھ نہیں جاتا اور بے عمل اگر باعمل پھر بھی نہیں بنتا تو اس کے ہاتھ کچھ نہیں آتا ۔ لوگ برا نہ مانیں، حج پر جاکر حاجی شاید عمل بھی کسی اور سے کروانا چاہتے ہیں یہ کوئی شارٹ ٹرم امتحان نہیں ہے۔

انٹرویو ہے مسلمان کا کہ وہ کیسا مسلمان ہے۔ تھا اور رہے گا اور یہ انٹرویو رب کی ذات لیتی ہے آپ نہیں سمجھتے کیونکہ اس کا اظہار کیا جانا انٹرویو کی شرائط کے خلاف ہے، آپ کا عمل جانچنا ہے اور ممتحن اللہ پاک ہے، دیکھا سنا گیا ہے کہ بظاہر مفلوک الحال، غریب، لاچار، بے یارومددگار اسے پاس کرتے ہیں۔ زیادہ تر اور متمول اور صاحب ثروت ناکام آتے ہیں کہ وہ اپنا دنیا کا مقام ترک کرکے عجز کے اعلیٰ مقام تک جانا پسند نہیں کرتے، جوکہیں الگ بیٹھا نادم آنسو بہا رہا ہے کہ مجھے دعوت کے قابل نہیں سمجھا، اب تک اس کے بارے میں وہ خود نہیں جانتا خدا جانتا ہے۔

میں اب بھی ریڈیو سے پروگرام کرتا ہوں کہ یہ خدا نے شوق اور وسیلہ روزگار لگاکر دیے، اس کا احسان ہے تو موسیقی بھی استعمال کرتا ہوں اور میرے سننے والوں کے خط بھی اس میں ہوتے ہیں تو اکثر ناموں کے ساتھ حاجی اور الحاج بھی ہوتا ہے تو میں اس کو حذف کردیتا ہوں کہ مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ میں اس کے بندے کو بد نام کروں کہ وہ حج سے واپس آکر وہ کام نہیں کررہا شاید کہ جو اس کے کرنے کے تھے اور ہیں اور اس پروگرام میں خود کو حاجی اناؤنس کروا کے بھی شہرت کا طلبگارہے۔ حج کے حوالے سے حالانکہ حج خدا اور بندے کا معاملہ ہے ، اس کی پبلسٹی کی ضرورت نہیں ۔ دوسرے آپ کو حاجی صاحب کہیں اچھا ہے آپ خود نہ اشتہار دیں کہ میں نے ایک سے زیادہ حج کر رکھے ہیں۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے میں خود کو زیادہ تر غلط سمجھتا ہوں۔

یہ درمیان میں ایک قصہ معترضہ آگیا معذرت تو ہم نے سمجھا کہ ماہ حج اور پھر اس کا ایک خصوصی اور آخری حصہ قربانی یعنی حاجی قربانی کرتا ہے اور سرکے بال کترواتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ احکام میں سے ایک ہے جس کی مصلحت خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، اگر علما نے اس کے بارے میں کچھ کہا ہو تو میرے علم اور مشاہدے میں نہیں میں اعتراف کرتا ہوں۔ تحقیق کے حکم پر عمل کرتے ہوئے میں دو باتوں تک پہنچا ہوں۔ آپکو شاید عجیب لگیں مگر تجزیہ حاضر ہے آخر ہم نے قرآن پاک میں اشارے بھی دیکھے اور سنا بھی کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہونا جسکا مطلب ہے ایک دم صاف ستھرا ہو جانا یا زندگی دنیا میں آغازکرنا اور بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو سر پر برائے نام بال ہوتے ہیں۔

حاجی کو ایک اور آغاز ملتا ہے میرے خیال سے، دوسری بات سائنس کہتی ہے کہ سر کے بال جسم کی طاقت کا زیادہ حصہ استعمال کرتے ہیں لہٰذا نہ ہوں تو طاقت محفوظ رہتی ہے اکثر ریسلر بال نہیں رکھتے تو قدرت ایک بار پھر قدرت عطا کرتی ہے اور دنیا میں عمل کے لیے پروانہ راہداری عطا کرتی ہے۔ قربانی کا آغاز حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے عمل سے ہوا جسکی نشانی اب یہ قربانی ہے۔

خاندان نبوت کی پہلی قربانی جس کو پروردگار نے موخرکیا کسی اور قربانی کے لیے اورکتنا حسین اتفاق ہے کہ حسینؓ کو منتخب کیا ، انتہا کے لیے کہ دعائے ابراہیم کو قبول کیا۔ درود ابراہیمی کو رائج کیا اور نماز اور درودِ محمدیؐ کو فائنل کیا، اگر زمانے کو چھوڑکر دونوں کا شمارکیا جائے تو دونوں میں انیس بیس دن کا فرق ہے قیام کربلا تک اور 29 یا 30 دن کا فرق ہے۔ دونوں قربانیوں میں۔ ایک آمادگی عمل برائے خوشنودی رب ہے اور دوسرا ایفائے دین ابراہیمی کے لیے جانورکے نذرانے۔

کربلا کا آغاز تو تب ہی ہوگیا تھا جب غلام کو تپتی دھوپ میں گرم ریت پر لٹاکر اسے کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ سے باز رکھنے کو اذیت دی جاتی تھی اور وہ اس عالم میں بھی اس کلمے کو دہراتا تھا۔ جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی جب بظاہر مسلمان ہونے اور کہلانے والوں کے دلوں میں بتوں کی محبت جاگ گئی اور اللہ کیے احکام پس پشت ڈال دیے گئے، خاندانِ رسالت کو ختم کرنے کی سازشیں ہوئیں کہ صراط مستقیم گم ہوجائے ۔ شخصی راج یعنی سول آمریت قائم رہے۔

ہر بار دھوکا، ہر بار خاندان رسالت سے شہادت، ہر بار شہادت، دیکر صراط مستقیم کی نشاندہی اور اس راہ کے مسافر صحابیوں کی بھی شہادت اور حضرت امام حسن ؓ کے بعد حضرت امام حسینؓ کا سفرِکربلا اگر یہ سب کچھ طے بھی تھا تو عمل تو انسان کی مرضی کے تابع ہے جو حضرتِ حر اور ساتھیوں نے عین میدان کربلا میں ثابت کیا قدرت نے حسینؓ کے عمل کے اور بے شمار نتائج کے علاوہ فیصلہ حر کو بھی ظاہر کرکے اس وقت کے ظاہری مسلمانوں کو راہ دکھائی کہ وہ فلاح پا جائیں مگر وہ چاہ دنیا میں جہنم کے طلبگار تھے اور وہی ٹھکانہ رہا۔

یہ پہلی بار نہیں ہوا بعض نبیوں کی برسہا برس کی تبلیغ سے چند افراد دائرۂ اسلام میں آئے جو اس وقت کا طریقہ اسلام تھا اور بعض امتوں کو تباہ کردیا گیا کہ نافرمانیوں کی انتہا کردی گئی تھی۔ یہ امت محمدیؐ ہے جو احسن الامت ہے اور اس میں کیا کچھ ہے آپ واقف ہیں اور ہمارے اعمال سے دنیا کربلا ہے اور اس کے ہم ذمے دار ہیں احسن امت کو بدترین تک پہنچانے والے ہم ہیں اور دنیا میں رسوائی اور ذلت ہمارے عمل سے ہے جس کا آغاز حکمرانوں نے کیا جو جالب کی نظر میں اندھیرا تھا اور اسے ظلمت لکھنا حق ہے ۔

اس کے عمل کا نتیجہ اس کی موت ہے اس نے ذکرکربلا کو جو ذکر اسلام ہے تین دن تک محدود کیا سات نو اور دس محرم کو اور انجام پایا شداد کا جو اپنی تعمیر کردہ جنت نہ پا سکا۔ آج مقام فکر ہے جو حکمرانوں کے راستے پر چل کر ملک کے لیے ظلمت بنے انجام سے دو چار ہیں اور ہوںگے، دنیا کے علاوہ ایک اور سزا باقی ہے اور وہ ہے اللہ کی سزا وہ بھی ضرور ملے گی۔ خدا نے لٹیروں، غاصبوں، امت کو تباہ کرنیوالوں کو نہیں بخشا اور کوئی بھی ہو جس نے پاکستان کو لوٹا اور عوام کے لیے زندگی کو کربلا بنایا وہ نہیں بچیںگے، مظلوموں، ستم رسیدہ پاکستانیوں کی آہیں عرش تک جا پہنچی ہیں اور قدرت کا نظام انصاف روبہ عمل ہے، بعد ازکربلا قدرت کا فیصلہ آغاز ہوچکا ہے۔ (انشا اللہ)

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...