ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

عراق میں داعش مخالف نام نہاد اتحاد کا حشدالشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملہ

بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں گذشتہ چند ماہ کے دوران عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کا ہیڈکوارٹر دوسری بار امریکہ کی سربراہی میں قائم داعش مخالف نام نہاد اتحاد کی بمباری کا نشانہ بنا ہے۔

عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی نے پیر کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ صوبے الانبار کے مغربی صحرا میں واقع الفوسفات کے علاقے میں نام نہاد داعش مخالف اتحاد کے فوجیوں نے القائم کے علاقے سعدہ میں عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ایک ہیڈکوارٹر پر گولہ باری کی ہے۔ عراق کی عوامی رضاکار فورس کے مغربی علاقے کے کمانڈر قاسم مصلح نے اس حملے کو امریکی اتحاد کا دانستہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ الحشدالشعبی کا ہیڈکوارٹر نام نہاد اس اتحاد کے ہتھیاروں کی آزمائش کا مقام نہیں ہے۔

الحشدالشعبی کی مغربی کمان نے سترہ جون کو بھی اعلان کیا تھا کہ شام سے ملنے والے سرحدی علاقے میں عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشدالشعبی کے ایک ہیڈکوارٹر پر بمباری کے نتیجے میں بائیس افراد شہید اور بارہ دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ امریکہ کی سرکردگی میں قائم داعش مخالف نام نہاد یہ اتحاد ماضی کی مانند داعشی دہشت گردوں کی خفیہ طور پر مدد کرتے ہوئے انھیں عراق و شام میں سرگرم عمل رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی دائرہ کار میں امریکی حکام، عراق میں دفاعی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

الحشدالشعبی کے حملے سے قبل عراق کی عوامی رضاکار فورس کی شمالی کمان نے بھی شام کے صوبے ادلب سے دہشت گردوں کو عراق فرار کرانے میں امریکی کوشش پر سخت خبردار کیا تھا۔ الحشدالشعبی کے شمالی علاقے کے کمانڈر علی الحسینی نے اتوار کے روز تاکید بھی کی کہ شام کے صوبے ادلب کے قریب عراقی سرحدوں میں حفاظتی اقدامات سخت کئے جانے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ مشترکہ سرحدوں میں مزید حفاظتی اقدامات عمل میں لائے جانے چاہئیں اور ان علاقوں میں ایسی رکاوٹیں اور باڑ لگائے جانے کی ضرورت ہے کہ جس سے داعشی دہشت گردوں کو شام سے عراق میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

یہ بھی دیکھیں

سعودی صحافی بہیمانہ قتل:خطیب جمعہ تہران کا سعودی عرب کے سنگین اور مجرمانہ جرائم کی طرف اشارہ

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) قم المقدس میں نماز جمعہ کے خطیب نے علاقائی اور عالمی سطح ...