منگل , 11 دسمبر 2018

قومی سلامتی کے دشمن صحافی اور سیاستدان بچ نہ پائیں

(سید مجاہد علی)

لاہور ہائی کورٹ نے ڈان اخبار کے رپورٹراور کالم نگار سیرل المیڈا کا ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیا ہے تاکہ وہ اپنے خلاف غداری کے الزام میں دائر مقدمہ میں 8 اکتوبر کو جبراً پیش کئے جائیں۔ اس مقدمہ میں سابق وزیر اعظم اور نیب مقدمات میں عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور، حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والے نواز شریف کو بھی پیش ہونے کا حکم جاری ہؤا ہے۔ نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف آئین کی شق 6 کی خلاف ورزی پر سول سوسائیٹی کی ایک رکن امینہ ملک نے لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھاہے۔ سہ رکنی بنچ نے جس کی سربراہی جسٹس مظاہر علی نقوی کررہے ہیں اس سال کے وسط میں اس مقدمہ پر سماعت انتخابات کے بعد تک ملتوی کردی تھی۔ اب انتخابات منعقد ہوچکے ہیں اور نئی حکومت اسلام آباد میں ہی نہیں بلکہ پنجاب میں بھی اقتدار سنبھال چکی ہے۔ اس لئے لاہور ہائی کورٹ کے اس سہ رکنی بنچ نے غداری جیسے مقدمہ میں سامنے آنے والی شکایت کو انجام تک پہنچانے کا تہیہ کیا ہے۔ سیرل المیڈا چونکہ گزشتہ دو پیشیوں پر حاضر نہیں ہو ئے تھے اور ان کی طرف سے صرف وکیل کی حاضری ججوں کی شان عدل کے خلاف سمجھی گئی ہے۔ ان کے وکیل نے المیڈا کی حاضری کا پختہ یقین دلانے سے بھی گریز کیا۔ اسی لئے ایک ممتاز صحافی کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ دوسری طرف سپریم کورٹ کے ایک سہ رکنی بنچ نے ڈیڑھ برس پرانی درخواست نمٹانے کا ’حتمی‘ فیصلہ کرلیا ہے کیوں کہ اب یہ درخواست بے سود ہو چکی تھی۔

سپریم کورٹ نے جس درخواست کو بے سود اور بعد از مدت قرار دیتے ہوئے مسترد کیاہے وہ چیف جسٹس کی محبوب آئینی شق 62 (1) ایف کے تحت وزیر اعظم عمران خان کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ یہ درخواست عمران خان کی سابقہ اسمبلی میں رکنیت کے خلاف دائر تھی لیکن سپریم کورٹ کو اپنی گوناں گوں مصروفیات کی وجہ سے اس پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملا حتیٰ کہ سابقہ قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرکے تاریخ کا حصہ بن گئی، عمران خان 25 جولائی کے کرشمہ ساز انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم منتخب ہو گئے اور حالات نے ایک نئی کروٹ لے لی۔ نئے حالات میں ایک پرانی درخواست پر عدالت عظمی منتخب وزیر اعظم کے خلاف تو کوئی اقدام کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ خاص طور سے جب سول ملٹری معاملات مثالی شکل اختیار رکرچکے ہوں اور وزیر اعظم چیف جسٹس کے اتنے پرستار ہوں کہ وہ ان کے دل و جان سے بھی عزیر ڈیموں کی تعمیر کےمنصوبوں کو اپنی حکومت کی اولین ترجیح قرار دے کر اندرون ملک اور بیرون ملک آباد پاکستانیوں میں اپنی ’گڈ ول‘ کو استعمال کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں چند جمع کرنے کی مہم کو چار چاند لگا چکے ہوں۔ ان حالات میں سابقہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے سوال پر غور وقت کا ضیاع اور قوم کو بے مقصد الجھانے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے جب یہ تصویر درخواست گزار کے سامنے رکھی تو انہیں اپنی درخواست واپس لینے اور سپریم کورٹ کے قابل عزت بنچ کو اسے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہؤا۔

یوں بھی درخواست گزار کو باخبر ہونا چاہئے تھا کہ وہ نواز شریف کے شق 62 (1) ایف کے تحت نااہل قرار دینے کے دھوکے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ سپریم کورٹ عمران خان جیسے شفاف کردار کے لیڈر کو بھی جھوٹا اور خائین قرار دے کر نااہل کردے گی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے جن لوگوں کو صادق و امین ہونے کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا ضروری سمجھا تھا ان میں شیخ رشید کے علاوہ عمران خان بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ سے بالکل یہ سوال نہیں کیا جاسکتا کہ اس نے ایک پرانی درخواست کو کیوں مسترد کیا لیکن یہ سوال تو کیا جاسکتا ہے کہ ملک کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے والے چیف جسٹس کی نگرانی میں کام کرنے والی سپریم کورٹ ایسی درخواستوں پر ہی غور مؤخر کرتے ہوئے ان کے غیر ضروری ہونے کا ’انتظار ‘ کیوں کرتی ہے جن پر فیصلہ کرنے سے اسٹیٹس کو متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایک دلاور چیف جسٹس کی نگرانی میں قائم ایک بنچ سے یہ توقع بھی کی جاسکتی تھی کہ وہ درخواست کی فطری مدت گزر جانے کا عذر استعمال کرنے کی بجائے یہ واضح کرتا کہ ایک ایسے وزیر اعظم کے خلاف نااہلی کی درخواست دائرنہیں ہوسکتی جسے پہلے ہی صادق و امین قرار دیا جا چکا ہے۔ اور اگر اس میں اس اعتراف کا اضافہ کرلیا جاتا کہ ملک کی سپریم کورٹ خواہ کتنی ہی بااختیار اور آئین کی کتنی ہی فرماں بردار ہو، وہ بھی ہر سال تو ایک وزیر اعظم کو فارغ نہیں کرسکتی۔ بے صبر درخواست دہندگان کو کم از کم پانچ برس یا اس مدت تک تو انتظار کرلینا چاہئے کہ عمران خان بھی نواز شریف کی طرح کسی شریف النفس اور محب وطن ادارے سے سینگ پھنسانے کی غلطی کر بیٹھیں۔ کیوں کہ وزیر اعظم کو ’فارغ ‘ کرنے کے لئے صرف آئین و قانون کی وضاحتیں کافی نہیں ہوسکتیں۔ قومی مفادات اور معروضی حالات کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...