منگل , 11 دسمبر 2018

وزیر خارجہ کا دورہ امریکہ: باغباں بھی خوش رہے ، صیاد بھی

(فیض الرحمٰن)

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں موجود ہیں۔ دورے کے پہلے حصے میں انہوں نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے علاوہ پاکستانی امریکی کمیونیٹی کے ساتھ ڈنربھی کیا۔ کابل کے بعد اپنے دوسرے اہم غیر ملکی دورے میں اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ انہوں نے بجا طور پر فرمایا کہ پاکستان کی پالیسی َپاکستان، پاکستان اور پاکستان َ ہے۔ قریشی صاحب نے کہا کہ ہم امریکہ کی بات مانیں گے مگر اس وقت جب وہ ہمارے مفادات سے مطابقت رکھتی ہو۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ آج امریکہ کے محفوظ ہونے میں پاکستان کا بھی بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ القائدہ کو نیست و نابود کرنے میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا اور خوب کیا کہ پاکستان امریکہ اور چین دونوں سے اچھے تعلقات چاہتا ہے کیونکہ دونوں ہی عالمی طاقتیں پاکستان کیلئے اہم ہیں۔ افغانستان کے بارے میں انہوں نے فرمایا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان کی بقا کا ضامن ہے، اور پاکستان کے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے۔ وزیر خارجہ نے بہت زور دے کر کہا کہ پاکستان کی پالیسی ، پاکستان کی ترجیحات پاکستان کے مفادات اور پاکستان کی ضروریات ہے۔شاہ محمود قریشی صاحب نے سب باتیں درست فرمائیں ، کسی بھی صاحب فہم کیلئے اس سے اختلاف کرنا بڑی سخت تنقید کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ لیکن قریشی صاحب نے جو نہیں کہا وہ زیادہ قابل توجہ ہے اور تجزیے کا محتاج بھی۔ تحریک انصاف کی حکومت پر ایک جائز تنقید یہ کی جاتی ہے کہ اسکے اکثر کرتا دھرتا جنرل مشرف کی باقیات ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی پوری سیاست اور سیاستداں کم و بیش کسی نہ کسی جرنیل کی باقیات ہیں لیکن یہ جو پاکستان کی پالیسی پاکستان ہے اسکا پہلا باقائدہ اعلان جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔ سب سے پہلے پاکستان، یعنی سب سے پہلے پاکستان کی ترجیحات، سب سے پہلے پاکستان کے مفادات اور سب سے پہلے پاکستان کی ضروریات۔ یہ ہی باتیں اب پھر دہرائی جارہی ہیں۔

وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ بیٹھے بھی زیادہ تر انکے ہی لوگ ہیں لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ اگر کسی نے کوئی اچھی بات کی ہو تو اسے دھرانے اور اپنانے میں ہر گز کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن ہماری یہ ضرور درخواست ہے کہ اب بات تھوڑی آگے بڑھنا چاہئے۔ چونکہ پاکستان اب نیا ہے اور حکومت نئی ہے تو اب ذرا قوم کو ان خوبصورت الفاظ کے معنی بھی بتا دئیے جائیں۔ ان نعروں کو اب واضح پالیسی میں بھی تبدیل ہونا چاہیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ: پاکستان کی ترجیحات کیا ہیں اور اس کیلئے کیا پالیسی متعین کی گئی ہے؟ پاکستان کے مفادات کیا ہیں اور کیا اس کیلئے اتفاق رائے حاصل کرلیا گیا ہے؟ پاکستان کی ضروریات کیا ہیں اور کیا انکی حتمی نشاندہی کرلی گئی ہے اور کیا یہ بھی طے کرلیا گیا ہے کہ وہ ضروریات کس طرح پوری کی جائینگی؟غالباً وزیر خارجہ کے پاس واشنگٹن میں اس قدر وقت نہیں تھا کہ وہ ان تمام سوالات پر روشنی ڈال سکتے۔ لیکن کیا قوم ایک بار پھر یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ یہ قومی مفادات، ترجیحات اور ضروریات پر ابتک کیا کام ہوا ہے؟ کیا اس حوالے سے حکومت کے پاس کوئی منصوبہ بندی، کوئی روڈ میپ ہے؟

کیا کسی نے یہ بتانے کی زحمت کی کہ آئی ایم ایف سے مدد لینے کا فیصلہ مؤخر کرکے سعودی عرب سے دس ارب ڈالر کس وسیع تر قومی مفاد میں لیے جارہے ہیں؟ اور کیا یہ رقم پاکستان کو درپیش سنگین بحران سے نکالنے کیلئے کافی ہے اور کہاں لگائی جائیگی؟ اور برادر اسلامی ملک جو کہ خود مالی پریشانیوں اور عدم استحکام کا شکار ہے یہ قدرے خطیر رقم اپنے کونسے قومی مفاد میں پاکستان کو عطا کررہا ہے؟ اس مہربانی کے عوض انہیں کیا درکار ہے؟ ہمارا قومی مفاد کیا سعودی امداد میں پنہاں ہے؟ یا پھر کثیرالقومی ادارے آئی ایم ایف جسکا پاکستان خود ایک ممبر ہے اور بار ہا اسکے پاس جا چکا ہے سے معاملہ کرنا بہتر ہے؟ اٹلانٹنک کونسل سے وابستہ ایک مشہور عرب نواز اسکالر باربرا سلیون نے اس ہفتے اپنے ایک اہم مضمون میں دلائل کے ساتھ یہ دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نااہلی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سعودی عرب کی صورتحال بہت نازک ہے اور پچھلے پچاس برسوں میں سعودی عرب اس قدر عدم استحکام کا شکار کبھی نظر نہیں آیا۔

پاکستان دس ارب کے بدلے میں کیا کیا خدمات پیش کرے گا؟ ایک جذباتی جلد باز اور اعلیٰ پرواز کے انتہائی شوقین شہزادہ یمن میں اپنے لاکھوں مسلمانوں اور عربوں کو تباہ و برباد کرکے پاکستان کے عجمیوں سے کیا چاہتا ہے؟ ایران کے ساتھ تعلقات کو کس طرح بیلنس کیا جائیگا؟ ایک مدلل مقدمہ پیش کیجئے۔ صاحب نیا پاکستان ہے۔ کم از کم اتنی تو توقع کی جانی چاہیے۔ بتایئے پاکستان کی ضروریات کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ قریشی صاحب اور انکی حکومت چین اور امریکہ دونوں سے اچھے تعلقات کی حامی ہے۔ دونوں کشتیوں میں سوار رہنا چاہتی ہے۔ بالکل درست۔ ایک کامیاب خارجہ پالیسی اسی طرح چلتی ہے۔ بھارت کی مثال سامنے ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ چین پر پابندیوں پر پابندیاں لگائے جارہے ہیں۔ حالیہ سخت پابندیوں کی وجہ یہ تھی کہ چین نے روس سے لڑاکا طیارے کیوں خریدے۔ پاکستان سے بھی بڑی حد تک کہا جاچکا ہے کہ یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا انکے۔ یہ ہی امریکیوں کا وطیرہ ہے۔ صدر جارج بش نے بھی پاکستان کے کمانڈو جرنیل سے یہ ہی کہا تھا۔ کیا ایسے ماحول میں آپ باغباں اور صیاد کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں؟

کیا یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ اس پورے عالمی کھیل میں آپ کیلئے باغباں کون ہے اور صیاد کون؟ بتائیے پاکستان کی ترجیحات کیا ہیں اور کیوں ہیں؟ قریشی صاحب نے فرمایا کہ افغانستان میں امن ہمارے بچوں کے مستقبل کا ضامن ہے۔ بے شک۔ دنیا سمجھتی ہے ، بشمول امریکہ کے اور اسکا پاکستان نے برملا اعتراف بھی کیا ہے کہ افغانستان کا امن برباد کرنے والوں پر پاکستان کا اثر نفوذ ہے۔ پاکستان میں ایک بہت بڑی لابی، جس میں تحریک انصاف اور دھرنے والے عمران خان بھی شامل ہیں، یہ بھی یقین رکھتی ہے کہ افغانستان میں امن کی بربادی کی بڑی وجہ وہاں امریکہ کی موجودگی ہے۔ مان لیتے ہیں۔ پھر آگئیں دو کشتیاں، باغباں اور صیاد۔ تو ہم اسی امریکہ سے امداد کے طلبگار کیوں ہیں ؟ اور طالبان پر اثر و نفوز کے خواہاں بھی؟ بتائیے پاکستان کے مفادات کیا ہیں اور انکا تعین کون کرتا ہے؟ کیا نئے پاکستان میں عوام کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کی تعین کردہ ترجیحات، مفادات اور ضروریات کی تفصیلات اور وجوہات بھی جان سکیں؟

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...