جمعرات , 18 اکتوبر 2018

خلیجی ریاستیں اتنےہتھیار کیوں خریدتیں ہیں ؟

(تسنیم خیالی)

خلیجی ریاستوں کے اسلحہ ڈپو لڑاکا طیاروں، بحری بیڑوں، ہیلی کاپٹرز ، ٹینکس ، بکتربند گاڑیوں ، میزائلز اور دیگر قسم کے جدید ترین ، بھاری اور دیگر تمام قسم کے ہتھیاروں سے بھرےپڑے ہیں اتنے ہتھیاروں کی خریداری کے پیچھے آخر کیا مقصد ہے ؟ خلیجی ریاستیں عموماً دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ ہتھیار خریدتی ہیں ، اعداد وشمار کے مطابق خلیجی ریاستوں کی ہتھیاروں سے متعلق درآمدات کئی سالوں سے بڑھتی جارہی ہے اور موجودہ صورتحال یہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کی ہتھیار درآمدات عالمی طور پر سب سے زیادہ ہیں ۔

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے دورے پر گئے تو سعودی عرب نے ان کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری پر ایک بہت بڑی ڈیل کی جسکی قیمت 110 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ، پھر جب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان امریکہ کے دورے پر گئے تو ایک بار پھر سعودی عرب نے مزید ہتھیار خریدے جن کی قیمت سینکڑوں ارب ڈالر پر محیط تھی۔
گزشتہ چند سالوں میں خلیجی ریاستوں نے مجموعی طور پر 150 ارب ڈالر سے بھی زائد ہتھیار خریدے مثلاً سعودی عرب نے 5.93 ارب ڈالر، امارات نے 7.25 ارب ڈالر ، قطر نے 9.22 ارب ڈالر، بحرین نے 8.3 ارب ڈالر، کویت نے 2.3 ارب ڈالر اور سلطنت عمان نے 2.7 ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے ، اور جب قطر کے بائیکاٹ کا معاملہ شروع ہوا تو ایک بار پھر علاقے میں ہتھیاروں کی خریداری میں تیزی واقع ہوئی، قطر نے برطانیہ سے 22’’ ٹائیفون‘‘ نوعیت کے لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا اور جواب میں سعودی عرب نے بھی برطانیہ سے اسی نوعیت کے 48 طیارے خریدنے کا اعلان کر دیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں اکثر اپنے اتحادیوں یعنی امریکہ ، برطانیہ ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور بعض اوقات ترکی اور پاکستان سے ہتھیارخریدتی ہیں ، البتہ بعض خلیجی ریاستیں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے بدلتے سیاسی مواقف کو دیکھتے ہوئے روس سے بھی ہتھیار خریدتے ہیں ۔

سعودی عرب ، امارات اور بحرین جیسے ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ہتھیار ایران سے مقابلہ کرنے کیلئے خریدتے ہیں ، البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ممالک نے اب تک ایران کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑی یایوںکہیں کہ ان ممالک نے اپنے ہتھیار ایران کے خلاف استعمال نہیں کیے حالانکہ یہ ممالک ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ اس نے امارات کے تین جزائر پر قبضہ کیا ہوا ہے ، علاوہ ازین یہ ممالک ایران پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ وہ یمن میں حوثیوں کی حمایت اور مدد کرنے کے ساتھ ساتھ بحرین میں حکومت مخالفوں کی بھی مدد کرتا ہے ، ان سنگین الزامات کے باوجود ان خلیجی ریاستوں نے کبھی بھی ایران کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کی۔

خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب ، امارات اور بحرین کو امریکہ اور مغربی ممالک سے ہتھیار خریدنے میں اور بھی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں جتنا زیادہ یہ ممالک ہتھیار خریدیں گے اتناہی زیادہ ان ممالک کو امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت اور مدد حاصل ہوگی اور یہ مدد اور حمایت مختلف شعبوں میں تقسیم ہے ، مثلاً عسکری لحاظ سے امریکہ اور مغربی ممالک خریدار خلیجی ریاستوں کو عسکری ماہرین، لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی سرزمین پر مزید فوجی اڈے قائم کریں گے جو کہ خلیجی ریاستوں کے دفاع کا ضامن تصور کیا جاتا ہے ۔

علاوہ ازین سیاسی طور پر امریکہ اور مغربی ممالک اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے بالخصوص سلامتی کونسل میں ہتھیار خریدنے والے خلیجی ریاستوں کی بھرپور سپورٹ کرتے ہیں ، نیز انسانی حقوق کے عالمی اداروںمیں بھی خلیجی ریاستوں کو یہ سپورٹ حاصل ہوتی ہے تبھی تو اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے اداروں میں سعودی عرب اور امارت کے خلاف یمن جنگ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی کیونکہ ان اداروں میں امریکہ اور مغربی ممالک ہمیشہ سے اپنے ’’گاہکوں‘‘ کی حمایت کرتے رہتے ہیں ۔

یہ بھی دیکھیں

’انتفاضہ الاقصیٰ‘ کے 18 سال، انقلاب کا سفر جاری!

فلسطین میں سنہ 2000ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے خلاف فلسطینی عوام ...