ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

شہزادہ احمد بن عبدالعزیز آل سعود کی مختصر سوانح حیات

تاریخ پیدائش: 5 ستمبر 1942ء
جائے پیدائش: ریاض، سعودی عرب
والد: عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن بن فیصل آل سعود (بانی سعودی عرب)
والدہ: حصہ بنت السدیری

شہزادہ احمد بن عبدالعزیز موجودہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے سگے بھائیوں میں سے سب سے جھوٹے ہیں اور وہ (احمد) سدیری شہزادوں کے نام سے مشہور 7 شہزادوں میں سے ایک ہیں جو اپنی والدہ ’’حصہ السدیری‘‘ کے قبیلے کا نام ہے، ان شہزادوں میں سابق سعودی فرما نروا شاہ فہد بھی شامل ہیں، شہزادہ احمد بانی سعودی عرب عبدالعزیز آل سعود کے 31ویں بیٹے ہیں۔

ابتدائی تعلیم:
شہزادہ احمد نے اپنی ابتدائی و سیکنڈری تعلیم سعودی عرب میں ہی حاصل کی جس کے بعد وہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے امریکی ریاست کیلی فورنیا چلے گئے، انہوں نے ’’ریڈ لینڈز‘‘ یونیورسٹی سے سیاسیات میں بیچلرکی سند حاصل کی۔

علمی زندگی:
1971ء میں شاہ فیصل کے دور میں انہیں صوبہ مکہ مکرمہ میں ’’سیکریٹری‘‘ کے عہدے پر مقرر کیا گیا اور کچھ عرصے بعد شاہ فیصل نے شہزادہ احمد کو صوبہ مکہ کا ڈپٹی گورنر مقرر کر دیا، 1975ء میں شاہ خالد نے شہزادہ احمد کو نائب وزیر داخلہ مقرر کیا اس عہدے پر وہ 18 جون 2012ء تک فائز رہے جس کے بعد شاہ عبداللہ نے انہیں وزیر داخلہ مقرر کر دیا۔

5 نومبر 2012ء (یعنی وزیر داخلہ بننے کے محض 5 مہینوں بعد) شہزادہ احمد کو وزیرداخلہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، سرکاری ٹی وی کے مطابق شہزادہ احمد کو انہیں کی درخواست پر وزارت کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا، شہزادہ احمد کی جگہ شہزادہ محمد بن نائف بن عبدالعزیز آل سعود کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا۔

21 جون 2017ء میں جب شاہ سلمان کو ولی عہد مقرر کیا گیا تو اس وقت حکمران خاندان کی بعض شاخوں نے اس فیصلے کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بن سلمان کی بطور ولی عہد بیعت نہیں کی، جن میں شہزادہ احمد بھی شامل ہیں، نومبر 2017ء میں سعودی عرب میں بدعنوانی اور کرپشن کے نام پر ہونے والی شہزادوں، کاروباری اور سیاسی شخصیات کی گرفتاری سے کچھ گھنٹوں قبل شہزادہ احمد سعودی عرب سے فرار ہو کر لندن پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ شہزادہ احمد کو اس بات کا یقین تھا کہ اگر وہ فرار نہیں ہوں گے تو ولی عہد انہیں بدعنوانی اور کرپشن کے جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کر لے گا۔

لندن میں کچھ عرصہ قبل انکی رہائش گاہ کے باہر سعودی حکومت مخالفین نے آل سعود خاندان کے خلاف نعرے بازی کی تھی، جس پر شہزادہ احمد نے ردعمل دیکھاتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کے پاس جا کر ان سے کہا ’’آپ آل سعود پر تنقید کیوں کر رہے ہیں، ذمہ دار آل سعود نہیں شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان ہیں، میرے بس میں ہو تو میں آج ہی یمن جنگ ختم کر دوں‘‘ اس بیان نے گویا موجودہ سعودی نظام کو ہلا کر رکھ دیا اور صاف ظاہر ہو گیا کہ حکمران خاندان کے اندر اختلاف عروج پر پہنچ گئے ہیں ۔

اس بیان کے بعد شاہ سلمان نے لندن میں مقیم اپنے بھائی کو سعودی عرب واپس آنے کا حکم دیا تاہم بھائی نے حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ احمد کے ساتھ اور بھی کئی بااثر اور اہم شہزادے شاہ سلمان اور ان کے ولی عہد کے خلاف مضبوط اپوزیشن گروپ بنا رہے ہیں۔ حال ہی میں یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ شاہ سلمان نے اپنے بھائی احمد کے متعدد بیٹوں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا ہے جس کے بعد توقع یہ ہے کہ یہ معاملہ مزید کشیدگی کے طرف جا رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے اہم میزائلز

ایران کے اہم میزائلز