ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

خاشقجی کا معاملہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تنازعہ پید اکرسکتا ہے


ایشان تھارور(واشنگٹن پوسٹ)ترجمہ:تسنیم خیالی
ترکی میں لاپتہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کا معاملہ امریکہ میں بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہوچکا ہے اور اس قصے نے واشنگٹن کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے،59 سالہ خاشقجی حال ہی میں از خود جلاوطن ہو کر امریکہ منتقل ہوئے تھے جہاں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے وہ کالم لکھتے تھے،خاشقجی کا شمار قد آور صحافیوں میں ہوتا ہے اور ان کے امریکی ساتھی خود اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔

اگر خاشقجی کا قتل ثابت ہوجاتا ہے تو ممکن ہے کہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ رویہ تبدیل ہوجائے،خاص طور پر کہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے متعدد سینیٹرز نے سعودی عرب کو اپنے حالیہ بیان میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب ملوث پایا گیاتو امریکی رد عمل اچھا نہیں ہوگا۔

سعودی انتظامیہ نے اپنی جانب سے خاشقجی کو غائب کرانے یا پھر قتل کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش میں ترک اداروں کی مدد کرنے کے لیے ایک سعودی ٹیم ترکی آئی تھی جسے قونصل خانے کے اندر صحافیوں کو لے جاکر یہ ثابت کیا ہے کہ سعودی عرب اس معاملے کے حوالے سے پیش آنے والے تمام الزامات سے بری ہے۔

اب تک ترک حکام میں سے کسی ایک نے بھی علی الاعلان خاشقجی کے قتل ہونے کی تصدیق نہیں کی جبکہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ وہ خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں مگر بہت سے ترک حکام اس بات پر یقین رکھتے کہ سعودی حکام نے ہی خاشقجی کو قتل کیا ہے۔

اس معاملے پر امریکی انتظامیہ اب تک خاموش ہے اور جہاں اس حوالے سے امریکی دفتر خارجہ کو کوئی بیان سامنے نہیں ،وہیں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کوئی ٹویٹ نہیں کیا،ویسے بھی ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ ٹرمپ صرف ایران کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جبکہ وہ سعودی عرب کی حرکتوں اور کرتوتوں پر خاموش ہی رہتے ہیں۔

البتہ اگر یہ بات ثابت ہوجاتی کہ خاشقجی کو سعودیوں نے ہی مارا ہے تو یہ ایک انتہائی خطرناک معاملہ ہوگا،ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے عوامی حلقوں میں اس معاملے کو اہمیت حاصل نہ ہو،البتہ اس معاملے سے امریکہ اور سعودی عرب کے آپسی تعلقات اور دونوں کے باہمی معاملات پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

امریکی صدر کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں متحرک ہو کر سعودیوں سے خاشقجی کے معاملے پر جامع رپورٹ طلب کرے کیونکہ خاشقجی کو اس طرح قتل کرنے سے سعودی نظام کے تمام مخالفین کو ایک پیغام جاتا ہے کہ ان کی بھی باری آنے والی ہے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اگر خاشقجی کا معاملہ حل نہ ہوا تو آنے والے وقت میں اور بھی ایسے واقعات ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کے تیرہویں صدر ڈاکٹر عارف عبد الرحمٰن علوی کی زندگی کی مختصر سوانح حیات

تاریخ پیدائش: 29 اگست 1949 (69 سال) جائے پیدائش : کراچی والد: حبیب الرحمٰن الٰہی ...