ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

پاک افغان تعلقات اور امریکہ

پاک افغان خوشگوار تعلقات کا پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہونا محتاج وضاحت نہیں۔ تاہم پچھلے سترہ برس کے دوران مغربی طاقتوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں دونوں برادر ملک یکساں طور پر دہشت گردی کے مسئلے سے دوچار ہونے کے باوجود بار بار ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیوں کا شکار ہوتے رہے جس کی وجہ سے کئی افسوسناک واقعات رونما ہوئے۔ان ہی میں سے ایک گزشتہ اگست میں جلال آباد کے پاکستانی قونصل خانے پر کیا جانے والا حملہ بھی تھا جس کے بعد پاکستان نے قونصل خانہ بند کردیا تھا لیکن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورہ کابل میں یہ معاملہ سلجھا لیا گیا اور دفتر خارجہ کے مطابق پیر سے یہ قونصل خانہ ازسرنو کام شروع کردے گا۔ پاک افغان روابط کے حوالے سے ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد رواں ہفتے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں ۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے گزشتہ روز اپنی پریس بریفنگ میں مطالبہ کیا ہے کہ اسلام آباد پاکستانی طالبان کے رابطے افغان طالبان سے کاٹ دے اور طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرے جبکہ معروف بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکی عوام کی واضح اکثریت سمجھتی ہے کہ ان کا ملک 17 سال کی جنگ کے بعد بھی افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے ۔ایک سپر پاور کے لیے اس صورت حال کا سبکی کا باعث ہونا قابل فہم ہے لیکن امریکی قیادت کو اس ناکامی کے اسباب اپنی ہی پالیسیوں اور اقدامات میں تلاش کرنے چاہئیں اور کسی حیلے بہانے اس کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر خود فریبی کی روش اختیار نہیں کرنی چاہیے جو خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی جبکہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں اور عوام کو تمام باہمی بدگمانیاں دور کرکے ماضی کی طرح مثالی تعلقات بحال کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لانے چاہئیں کیونکہ دونوں ملکوں کا نفع نقصان ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...