جمعرات , 13 دسمبر 2018

’’کشمیر پر بھارتی قبضہ‘‘ دور جدید کا سب سے بڑا انسانی المیہ

(خالد بیگ)
چند روز قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے کلگام میں رفعت نام کی خاتون اس وقت خالق حقیقی سے جا ملی جب وہ اپنے نوعمر میٹرک کے طالب علم بھائی کو قابض بھارتی فوج سے چھڑانے میں ناکام رہی۔ اس کی ہمسائی خواتین نے بھی رفعت کی مدد کی لیکن یہ چند خواتین سینکڑوں مسلح بھارتی فوجیوں کے سامنے بے بس ہو گئیں۔ قابض بھارتی فوجیوں نے رفعت کے بھائی کو تحویل میں لینے کے بعد سڑک پر لٹا کر بے دردی سے ڈنڈوں ‘ ٹھڈوں اور بندوق کے بٹوں کے ساتھ مارنا شروع کر دیا۔ یہ سب دیکھ کر رفعت پر ہسٹریائی کیفیت طاری ہو گئی۔ دیگر خواتین کی دہائیاں بھی جاری تھیں ۔ بھارتی فوجیوں نے رفعت کو مزید اذیت دینے کیلئے رفعت کے بھائی کو مزید بے دردی سے مارنا شروع کردیا جو نہ جانے کب سے درد و تکلیف کے مارے بے ہوش ہو چکا تھا اور بھارتی فوجی اس حالت میں بھی اس پر تشدد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ رفعت یہ سب برداشت نہ کرسکی اور وہیں سڑک پر گری اور ہمیشہ کیلئے ہر طرح کے دکھ سے آزاد ہو گئی۔ درندہ نما بھارتی فوجیوں کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کون چلا رہا ہے یا کون مر چکا ہے۔ رفعت کے بھائی کا قصور اتنا تھا کہ وہ بھارتی فوجیوں پر دیگر نوجوان بچوں کے ساتھ مل کر پتھر برسانے میں مصروف تھا۔ جنہوں نے چند لمحے پہلے ہی ایک نوجوان کو سیدھی گولی داغ کر اس لئے شہید کر دیا تھا کہ وہ سینہ تانے بھارتی فوجیوں کو چیلنج کر رہا تھا کہ چلاؤ گولی۔ اس نوجوان کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد وہاں ہر طرف پھیلنے والے اشتعال اور احتجاج کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے بھارتی قابض فوج نے شدید ہوائی فائرنگ کے ذریعے خوف پھیلا دیا تھا۔ اس کے باوجود کشمیری نوجوانوں نے گلیوں میں چھپ کر بھارتی بزدل فوجیوں پر پتھر برسانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ایسی ہی ایک گلی میں بھارتی فوجیوں نے کشمیری نوجوانوں کا پیچھا کیا جو سب 12 سے 15 برس کی عمر کے لڑکے تھے تو انہیں رفعت کا بھائی ہاتھ آ گیا جو اپنی بڑی بہن کو دیکھ کر بجائے بھاگنے کے اس کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ اسے رفعت سے چھیننے اس پر تشدد اور رفعت کی موت کی ساری صورتحال کو قریبی عمارت کی چھت پر کھڑی ایک خاتون نے اپنے موبائل فون میں عکس بند کر لیا۔

مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی سروس بند ہے۔ اپنے مظالم کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے سے روکنے کیلئے پورے مقبوضہ کشمیر میں پھیلی ہوئی بھارتی فوج‘ بارڈر سکیورٹی فورس‘ ریاستی پولیس اور بھارتی فوج کے خفیہ ادارے وہاں دوران تلاش سب سے پہلے کشمیریوں کے فون میں موجود ’’ڈیٹا‘‘ کھنگالتے ہیں کہ اس میں قابض بھارتی فوجیوں کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی مناظر تو ویڈیو کلپس کی شکل میں موجود نہیں۔ اگر کسی کے فون میں سے اس طرح کا مواد مل جائے تو اسے دہشت گردوں کا سہولت کار یا دہشت گرد قرار دے کر فوری طور پر حراست میں لے لیا جاتا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صرف ستمبر 2018 ء کے مہینے میں ایک سو سے زیادہ کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج کے خلاف موبائل فون میں ڈیٹا رکھنے پر گرفتار کیا گیا۔ حالت یہ ہے کہ سکول جانے والے بچوں کے بستے اور طالبات کے پرس تک کھول کر تلاشی لی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کشمیری نوجوان بھارتی قابض فوجیوں کی بربریت کے ثبوت مقبوضہ کشمیر سے باہر بھارت کے اندر مختلف شہروں تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جہاں سے تمام مذکورہ ثبوت سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل جاتے ہیں۔ اس طرح کا ایک خوفناک اور متشدد واقعہ17 ستمبر 2017 ء کو سری نگر کے علاقے پروان میں پیش آیا جہاں بھارتی فوجیوں نے گیارہ برس کے ناصر احمد قاضی کو چند گز کے فاصلے سے پیلٹ گن کے بے شمار فائر کر کے موقع پر ہی شہید کر دیا۔ معصوم بچے کو یوں قتل کرنے کا منظر وہاں قریب ہی موجود کسی نامعلوم کشمیری نوجوان نے عکس بند کر لیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیلٹ گن تھامے قابض بھارتی فوجی کو اس کا ساتھی فوجی اشتعال دلا کر مجبور کر رہا ہے کہ وہ بچے کا شکار کرے۔ کم سن ناصر کی میت جب اس کے گھر پہنچی تو اس کا سارا جسم چھروں سے داغدار تھا۔ معصوم ناصر کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو ایک برس بعد مقبوضہ کشمیر میں منظر عام پر آئی تو اس کے لواحقین ماں باپ اور بہن بھائی ہی نہیں اہل علاقہ بھی غم سے نڈھال ہو گئے۔

ظلم وبربریت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کونسا ہتھکنڈہ ہے جو خود کو پیشہ وارانہ تربیت کے فوجی ہونے کا دعویٰ کرنے والے بھارتی درندے مظلوم‘ نہتے اور بے بس کشمیریوں پر نہیں آزما رہے وہ فعل بد جس کے سرزد ہونے پر بھارت میں فوجیوں کا کورٹ مارشل ہو جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بزدل بھارتی فوجیوں نے اسے کشمیری نوجوانوں کے خلاف بھی استعمال کرنا شروع کر دئے ہیں۔ اس امر کا اظہار جون 2018 ء میں اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انسانی حقوق کمشن کی طرف سے جاری ہونے والے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق رپورٹ میں بھی کیا گیا کہ بھارتی فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مقبوضہ کشمیر میں بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔ خصوصاً خواتین کی آبروریزی کامقصد ہی یہی ہے کہ کشمیری حریت پسندوں کو آزادی کی تحریک سے روکا جا سکے۔

حال ہی میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق جنیوا میں منعقد ہونے والے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کے نمائندے اپنے جذبات پر اس وقت قابو نہ رکھ سکے اور رو دئے جب انہوں نے بتایا کہ بھارتی فوجیوں نے 10 ہزار سے زیادہ کشمیری خواتین اور بچیوں کو انفرادی و اجتماعی زیادتیوں کا نشانہ بنایا ہے جس میں سات برس کی کم عمر بچی سے لے کر 70 برس کی ضعیف خواتین کی آبروریزی سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ اقوام متحدہ کا نمائندہ جب یہ سب ذکر کرتے ہوئے رو دیا تھا تو حقیقت میں وہ عالمی مردہ ضمیر پر ماتم کر رہا تھا جس نے اس طرح کے مظالم پر اپنی آنکھیں اور کان بند کررکھے ہیں مگر اب بزدل فوجیوں نے کشمیری نوجوانوں کو بھی بے آبرو کرنا شروع کر دیا جس کیلئے انہیں پکڑ کر جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ہی ویڈیو پر عکس بندی کرنے کے بعد یہ کہہ کر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ اگر اس نے آئندہ تحریک آزادی کے احتجاجی جلوسوں میں حصہ لیا یا قابض بھارتی فوجیوں پر پتھراؤ کیا تو اس کی ویڈیو وائرل کر دی جائے گی۔

بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکے ہیں۔ اور قتل وغارت گری کا یہ سلسلہ گزشتہ 2 برسوں میں شدت اختیار کر گیا ہے جو کہ بھارت کے فسطائی ہتھکنڈوں کا جواب ہے کہ جس قدر ظلم میں اضافہ ہو رہا ہے آزادی کی تحریک بھی اتنی ہی شدت سے زور پکڑتی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی مذمت کریں۔ ساتھ ہی بھارتی قابض فوج کے مظالم کو بھی دنیا کے سامنے لائیں اور دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار جمہوریت کا راگ الاپنے والے مغربی ممالک کو بتائیں کہ کشمیری جمہوری اصولوں کے مطابق ہی خودارادیت کا حق مانگ رہے ہیں جو انہیں خود اقوام متحدہ نے بھارت کی مرضی سے منظور کی گئی قراردادوں میں دیا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا بی جے پی کی شکست مودی دور کا خاتمہ ثابت ہو گی؟

(سید مجاہد علی) بھارت میں تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ...