بدھ , 12 دسمبر 2018

معروف صحافی جمال خاشقجی کا ممکنہ قتل اور پس پردہ حقائق

(تحریر: محمد علی)
تازہ ترین رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس دن جمال خاشقجی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے اسی دن مختلف ممالک سے 15 سعودی شہری بھی استنبول کے سعودی قونصل خانے آئے تھے جن میں بعض اعلیٰ سطحی سعودی حکام بھی شامل تھے۔

2 اکتوبر کے دن ترکی میں مقیم معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی اپنے ذاتی کام سے استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ گئے لیکن ہر گز واپس نہ لوٹے۔ ان کی گمشدگی کی خبریں کئی دنوں سے میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ حال ہی میں بعض ذرائع ابلاغ نے ترک سکیورٹی حکام کے بقول اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ جمال خاشقجی کو قتل کیا جا چکا ہے۔ جمال خاشقجی ترک نژاد تھے اور تقریباً سو سال پہلے ان کے دادا ترکی کے شہر قیصریہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ مقیم ہو گئے۔ ان کے خاندان اور سعودی عرب کے بانی ملک عبدالعزیز کے درمیان بہت قریبی تعلقات استوار تھے جس کی وجہ سے اس خاندان کے افراد سیاسی اور اقتصادی میدان میں بہت زیادہ اثرورسوخ کے حامل تھے۔ ان کی پراسرار گمشدگی اور ممکنہ قتل کے پس پردہ عوام کو جاننے کیلئے ماضی میں اس معروف سعودی صحافی کی فعالیت اور سرگرمیوں کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔

جمال خاشقجی کے آل سعود خاندان سے انتہائی گہرے اور قریبی تعلقات استوار تھے۔ انہوں نے ہمیشہ آل سعود رژیم کیلئے ایک تھنک ٹینک کا کردار ادا کیا ہے۔ جب شہزادہ ترکی الفیصل برطانیہ اور اس کے بعد امریکہ میں سعودی سفیر کے طور پر کام کر رہے تھے تو جمال خاشقجی ان کے سیاسی اور میڈیا مشیر کے طور پر سرگرم تھے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں شہزادہ ترکی الفیصل لمبا عرصہ برطانیہ اور امریکہ میں سعودی سفیر رہنے کے بعد اپنے ملک واپس چلے گئے اور انہیں دوبارہ ایک لمبے عرصے کیلئے سعودی انٹیلی جنس کا سربراہ بنا دیا گیا۔ اس دوران بھی جمال خاشقجی ان کے خصوصی مشیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد جب ملک سلمان بن عبدالعزیز نے تخت سنبھالا تو جمال خاشقجی کا شمار ایسے لکھاریوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ملک سلمان کی حمایت کی اور ان کی تعریفوں کے بند باندھ دیئے۔ جمال خاشقجی ملک سلمان کی فرمانروائی کے ابتدائی دنوں میں ڈیلی الحیات اور بہت سے دیگر عرب اخبارات میں کالم لکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں یہ تاثر پیش کیا کہ ملک سلمان بن عبدالعزیز سابق سعودی فرمانروا ملک عبداللہ بن عبدالعزیز سے بہتر ثابت ہوں گے۔

جمال خاشقجی اور سعودی رژیم کے درمیان تناؤ اس وقت پیدا ہوا جب 2016ء میں انہوں نے ڈیلی الحیات کیلئے اپنے کالم میں امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا کہ سعودی عوام ہر گز ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند نہیں کریں گے۔ آل سعود رژیم خاص طور پر شہزادہ محمد بن سلمان ان کے اس موقف پر شدید غضبناک ہوئے اور ڈیلی الحیات میں ان کا کالم شائع ہونے سے روک دیا۔ اسی طرح جمال خاشقجی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا اور ان پر پریس کانفرنس کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔ جب سعودی عرب اور قطر کے درمیان تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوا تو جمال خاشقجی نے محسوس کیا کہ شاید شہزادہ محمد بن نایف نئے ولیعہد یعنی شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف بغاوت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وہ فوراً سعودی عرب سے نکل کر امریکہ چلے گئے اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں کالمز لکھنا شروع کر دیئے۔ انہوں نے نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے کالمز نیز الجزیرہ چینل پر انٹرویوز کے دوران یمن کی جنگ اور قطر سے تعلقات میں تناؤ پر سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

2017ء میں جب سعودی حکومت نے بڑے پیمانے پر حکومت مخالف شہزادوں اور سیاسی و مذہبی شخصیات کو گرفتار کرنا شروع کیا تو جمال خاشقجی بھی پریشانی کا شکار ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی زوجہ نے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کہنے پر ان سے طلاق لے لی ہے۔ انہی مسائل کے باعث انہوں نے ہمیشہ کیلئے سعودی عرب کو خداحافظ کہنے کا فیصلہ کر لیا اور ترکی مقیم ہو گئے۔ وہ ترکی کی شہریت رکھنے والی ایک خاتون خدیجہ سے شادی کرنے کے خواہش مند تھے اور اسی مقصد کیلئے چند قانونی دستاویزات حاصل کرنے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ ان کی منگیتر خدیجہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ خدیجہ نے بعد میں بتایا کہ انہیں سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے ہمراہ اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی جبکہ جمال خاشقجی کا موبائل فون بھی ان سے لے لیا گیا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں تقریباً 11 گھنٹے مسلسل سعودی قونصل خانے سے باہر ان کا انتظار کرتی رہی لیکن جب ان کے بارے میں کوئی خبر موصول نہ ہوئی تو میں نے گھبرا کر ترکی میں ان کے قریبی دوست یاسین آکتای جو کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے مشیر بھی ہیں کو فون کر کے صورتحال سے مطلع کیا۔

تازہ ترین رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس دن جمال خاشقجی استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے اسی دن مختلف ممالک سے 15 سعودی شہری بھی استنبول کے سعودی قونصل خانے آئے تھے جن میں بعض اعلی سطحی سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ترکی کے انٹیلی جنس ذرائع کا دعوی ہے کہ جمال خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کے اندر ہی شدید ٹارچر کے بعد قتل کر دیا گیا ہے اور ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے قونصل خانے سے باہر دور علاقے میںپھینک دیا گیا۔ دوسری طرف سعودی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے اور یہ موقف ظاہر کیا ہے کہ جمال خاشقجی سعودی قونصل خانے سے واپس لوٹ گئے تھے۔ حال ہی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اس سعودی موقف کو غلط قرار دیا اور سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے سے زندہ باہر نکلنے کے ٹھوس ثبوت پیش کریں۔ دوسری طرف ترکی کے اٹارنی جنرل کو اس بارے میں تحقیقات انجام دینے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ بعض آگاہ ذرائع یہ امکان بھی ظاہر کرتے ہیں کہ جمال خاشقجی کے قتل میں اسرائیلی جاسوسی ادارہ موساد اور سعودی انٹیلی جنس ایجنسیز ملوث ہیں۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

کیا عرب اور اسرائیلی ایک دوسرے کو گلے لگا لیں گے؟

اسرائیلی رہنما اکثر کہتے ہیں کہ ان کا ملک ’ایک مشکل محلے‘ میں پھنسا ہوا ...