ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

اہل یمن نرغہ اعداء میں۔۔۔۔ امت مسلمہ کہاں ہے؟

(تحریر: محمد حسن جمالی)
کرہ ارض پر موجود انسانوں کو ایک اعتبار سے ہم دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں، بعض ہدف زندگی کو سمجھ کر اس کے حصول کی راہ میں اپنی زندگی کے لمحات گزار رہے ہیں، جبکہ بہت سارے انسان اپنی زندگی کے ہدف سے کوسوں دور رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں، درنتیجہ وہ افراد جو ہدف زندگی سے آگاہ ہو کر جی رہے ہیں، ان کی زندگی کامیاب اور وہ لوگ جو ہدف زندگی سے ناداں رہ کر حیوانوں کی طرح کھا پی کر موت کی طرف رواں دواں ہیں، ان کی زندگی قطعی طور پر ناکامی سے دوچار ہوچکی ہوتی ہے۔ اس حقیقت میں شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات میں انسان کی زندگی کا ہدف شفاف طور پر بیان ہوا ہے، یہ اور بات ہے کہ کچھ نام نہاد مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالتے ہوئے مادی مفادات تک رسائی حاصل کرنے کو اپنی زندگی کا ہدف قرار دے رکھا ہے، چنانچہ وہ اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے فطرت، انسانیت، ضمیر اور حکم عقل کے خلاف اقدامات کرنے کی ضرورت محسوس کرنے کی صورت میں بلاجھجک وہ ان اقدامات کو عملی کر بیٹھتے ہیں، جس کی زندہ مثال آل سعود ہے، جس نے اپنے مفادات کے حصول کی خاطر امریکہ و اسرائیل کے اشارے سے اہل یمن پر جنگ مسلط کر رکھی ہے۔

اہل یمن پر خادم حرمین ہونےکے دعویدار آل سعود کے مظالم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں،ـ ستم کی کوئی ایسی نوعیت باقی نہیں رہی جس سے سعود آل یہود نے یمن کے مظلوم مسلمانوں کو نہ آزمایا ہو۔ حیرت آل سعود کی بربربیت اور مظالم پر نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ جو چیز انسان کو دوسروں پر ظلم اور ناروا سلوک کرنے سے روکتی اور منع کرتی ہے وہ ایمان ہے، جو لوگ اپنی فطرت کی آواز اور ندائے عقل پر لبیک کہتے ہوئے دائرہ اسلام میں قدم رکھتے ہیں، اللہ اور اس کے برحق رسولوں نیز اس کی کتاب پر دل و جان سے ایمان لاتے ہیں، انہیں ان کا دین دوسرے بے گناہ افراد کو ستم کا نشانہ بنانے سے روکتا ہے، آل سعود مسلمان ہونے کے دعویدار تو ہیں، مگر اسلام اور ایمان کی کوئی نشانی اور علامت ان کی عملی زندگی میں دکھائی نہیں دیتی، چونکہ اسلام کی پاکیزہ تعلیمات میں تو دوسروں پر رحم و کرم اور دوسروں سے پیار و محبت کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، دین مبین نے تو مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد اور نصرت کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

اسلام کی نظر میں تو مسلمان خواہ وہ دنیا کے جس کونے میں بھی رہتے ہوں، ایک ہی جسم کے اعضاء کی مانند ہیں، دنیا کے مسلمانوں کے لئے قرآن مجید کے اندر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ تم لوگ آپس میں متحد رہیں، ایک دوسرے سے مربوط رہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہیں، اے مسلمانو: تم اپنے دشمن یعنی کفار اور مشرکین کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر رہو، اللہ اور رسول کے دشمنوں سے ہرگز دوستی نہ کریں بلکہ ان سے دوری، بیزاری اور برائت کا اظہار کرتے رہیں، تم ہر وقت یک زبان ہوکر اپنے دشمنوں کی سرکوبی اور سرنگونی کے لئے آواز بلند کرتے رہیں۔ خادم حرمین شریفین کے دعویدار آل سعود نے اسلام کی ان زرین تعلیمات کو یکسر طور پر نظر انداز کیا بلکہ وہ کھل کر اسلامی اصولوں کی مخالفت کرنے پر کمربستہ ہوگئے۔ انہوں نے یمنی مسلمانوں کو عرصہ دراز سے اپنے وحشانہ ظلم و بربریت کا نشانہ بنا کر دنیا والوں پر یہ واضح کر دیا کہ حقیقی اسلام کے اصولوں، تعلیمات، قوانین اور احکامات سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، ہمارے لئے جو چیز عزیز ہے، وہ اپنے مادی مفادات ہیں اور ہماری اس راہ میں جو لوگ یا قوم مانع بن جائے گی، ہم اسے صفحہ ہستی سے مٹاکر ہی دم لیں گے، ہم اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی ہوئی اس منطق پر باور قلبی رکھتے ہیں کہ مادی منافع نقد ہیں اور اسلام کے اصول و قوانین پر عمل کرنے کے نتیجے میں مرنے کے بعد ملنے والا اجر و ثواب ادھار ہیں، عاقل انسان کبھی بھی ادھار کو نقد پر ترجیح نہیں دیتا۔

انہوں نے عملاً یہ ثابت کر دکھایا کہ ہم تو اسلام کا فقط نعرہ بلند کرتے ہیں، لیکن میدان عمل میں ہم آزاد ہیںـ ہماری مرضی ہے، دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جیسا سلوک رکھیں، ہمارا اختیار ہے کہ ہم کفار سے دوستی کریں یا مسلمانوں سےـ دوستی اور دشمنی کرنے کے لئے ہمارا ملاک اور معیار اپنے مفادات ہیں۔ چنانچہ اسی معیار کے مطابق آج آل سعود یمن سمیت ایران کے سخت دشمن اور مسلمانوں کے حقیقی دشمن امریکہ و اسرائیل کے صمیمی دوست بنے ہوئے ہیںـ اب تو پوری دنیا جان چکی ہے کہ آل سعود اسلام کے لباس میں چھپ کر اسلام کے اصلی دشمن امریکہ و اسرائیل کے اہداف و مقاصد پورا کرنے کے لئے شب و روز کوشش کر رہے ہیں، آل سعود نے یمنی مسلمانوں پر جنگ مسلط کرکے اپنا مکروہ منافقانہ چہرہ دنیا والوں کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا کے مسلمانوں کو اس بات پر یقین ہوگیا ہے کہ مسلم دنیا کو امریکہ و اسرائیل سے زیادہ خطرہ آل سعود سے ہے، چونکہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ صدر اسلام میں بھی دین مقدس اسلام کو جتنا نقصان منافقین نے پہنچایا ہے، کفار و مشرکین نے نہیں پہنچایا۔ لہذا آل سعود سے جارحیت، وحشت اور ظلم و بربریت کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

تعجب ان بے ضمیر آل سعود کے ریال پر پلنے والے نام نہاد مسلمانوں پر کرنا چاہیئے، جو آل سعود کی منافقت اور یمنی غریب مسلمانوں کو مسلسل تین سالوں سے خون ناحق کے سمندر میں ابدی نیند سلانے کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں، وہ آل سعود کے اس قبیح عمل کی مذمت تک کرنے کو روا نہیں سمجھتے ہیںـ تعجب ان مولویوں کی کج فہمی و فکری پر ہونا چاہیئے، جو یمنی مسلمانوں پر جارح سعودی عرب کی طرف سے ہونے والے مظالم کو فرقہ واریت کا رنگ چڑھا کر اس برے اقدام کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حیرت ان تجزیہ نگار اور قلمکاروں پر ہونی چاہیئے، جنہیں برما، کشمیر اور فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم دکھائی دیتے ہیں، وہ ان مقامات پر ستم کے شکار مظلوموں کے مسلمان ہونے پر یقین رکھتے ہیں، وہ ان کے حق میں اپنی قلمی طاقت کے ذریعے آواز بلند کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے لکھتے ہیں لیکن افسوس! انہیں بھی یمنی مسلمانوں پر ہونے والے سعود آل یہود کے مظالم نظر نہیں آتے ہیں، وہ بھی کچھ ناداں اور جاہل سعودی ریال پر پلنے والے مولویوں کی طرح یمن کے مظلوم مسلمانوں کو مسلمان سمجھ کر اپنی قلمی طاقت ان کے حق اور حمایت میں چلانے کو حرام سمجھتے ہیں!!

انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ سعودی عرب اتنے وسیع پیمانے پر اہل یمن پر ظلم کے پہاڑ گرائے جا رہا ہے تو کم از کم پڑھے لکھے اہل قلم کو تو بلاتعصب اس پر قلم اٹھانا چاہیئے تھا۔ اندازہ لگا لیجیے کہ تسنیم خیالی کی نقل کے مطابق یمن میں 3 سال سے جاری جنگ میں اب تک 14291 یمنی شہری شہید ہوچکے ہیں، جن میں مردوں کی تعداد 9148، خواتین کی تعداد 2086 جبکہ بچوں کی تعداد 3057 ہے اور اس جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 22537 تک جاپہنچی ہے، 21 ملین یمنیوں کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے اور 9 ملین سے زائد یمنی بھوک کا شکار ہیں، علاوہ ازین 2 ملین یمنی بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے، جن میں سے نصف ملین بچے موت کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، یہ ہے یمنی مظلوم مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالات ہم فقط اتنا عرض کریں گے کہ اہل یمن نرغہ اعداء میں۔۔۔۔ امت مسلمہ کہاں ہے۔؟

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...