ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

عام افغان اور طویل امریکی جنگ

(نادیہ بتول)
نائن الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے جہاں افغان معیشت کو تباہ و برباد کیا، وہیں اس کے اثرات پوری دنیا پہ محسوس کیے گئے اور ابھی تک کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اس جنگ کے چند مختلف پہلو، جو ایک غیر ملکی سیاح سے ملاقات میں اجاگر ہوئے ہیں وہ چند لمحوں کے لیے ہی سہی لیکن امریکہ کی اس طویل ترین جنگ کے چند ہلکے پھلکے گوشے بھی سامنے لاتے ہیں۔

یوں تو اس جنگ نے افغانستان میں معیشت کو ایک مسلسل جمود کی کیفیت سے دوچار کر رکھا ہے اور آئے دن دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے ایک عام افغان شہری کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ کئی فوجیوں کے ذہنی تناؤ سے تنگ آ کر خود کشی جیسے افسوس ناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، لیکن یہ بھی لگتا ہے کہ بعض امریکی فوجیوں نے اس جنگ کے ساتھ کمپرومائز کر لیاہے۔ ویسے بھی ایک مسلسل رونما ہوتی صورت حال انسان کو اپنا عادی بنا ہی لیتی ہے۔ کچھ یہی کہانی امریکہ کی طرف سے افغانستان میں آئے ہوئے فوجیوں کی بھی ہے جنہوں نے افغانستان میں موجود معصوم اور بے گناہ لوگوں سے اظہارِ ہمدردی کا مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔

امریکی یوں بھی انفرادی طور پر چینی لوگوں کی خود غرض فطرت کے برعکس خوش مزاج لوگ سمجھے جاتے ہیں، چنانچہ بہت سے امریکی فوجی ایک عام افغان شہری کی زندگی میں ہونے والے انتشار کا ذمہ دار اپنی حکومت کو سمجھتے ہیں جو کہ سپر پاور ہونے کی دعوے دار ہوتے ہوئے جس (اسلامی) ملک پر چاہے، حملے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بیشتر امریکی نمائند گان خود بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ امریکہ ابھی تک دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کوئی بھی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کر سکا ہے۔

ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بہت سے امریکی فوجی افغان خواتین کی قدرتی خوبصورتی کے مداح ہیں اور ان کے لیے نرم گوشہ سے زیادہ لطیف جذبات رکھتے ہیں۔ اس عہدے دار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بہت سے افغان شہری اب امریکی فوجیوں سے انفرادی طور پر خوف زدہ نہیں ہیں اور وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ یہ فوجی دراصل جنگجو نہیں، بلکہ اپنے خاندان کی خاطر روزی کمانے کے لیے اپنا قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

امریکہ میں بیشتر یورپی ممالک کے برعکس ایک مضبوط خاندانی نظام موجود ہے اور اپنے گھر بار کو سالوں کے لیے چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں جا کر جنگی مہم میں حصہ لینا اور وہاں سے بحفاظت واپسی بہت سے امریکیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی مانند ہے۔ ایک اور اعلیٰ عہدے دار نے بتایا کہ افغانستان میں ہی یہاں کے باشندوں کے ساتھ ایک خاندان کی طرح رہنا کم از کم امریکیوں کے لیے ممکن نہیں کیونکہ مجموعی طور پر افغانستان میں سماج ابھی تک پرانے رسم و رواج کا حامل ہے اور تعلیم کی کمی جیسے عوامل کی وجہ سے یہاں کے افراد کا دنیا کے بارے میں تصور اتنا وسیع نہیں نیز جنگی کاروائیوں سے تباہ حال ہونے والی معیشت کی وجہ سے فرسودہ افغان معاشرہ بہت سی معاشرتی تبدیلیاں اپنانے کو تیار نہیں۔

دوسری طرف طالبان اور داعش جیسی دیگر انتہا پسند تنظیموں کا پہلا نشانہ امریکی تنصیبات اور امریکی فوجی ہیں۔ جو کہ افغان طالبان کے لئے خطے کا کنٹرول سنبھالنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تقریباً بیس سال کی جنگ کے بعد امریکہ کو یہ خیال آیا ہے کہ جدید دور میں جنگیں اسلحے اور طاقت کے زور پہ لڑی تو جا سکتی ہیں لیکن جیتی نہیں جا سکتیں۔ اور اس کسی حد تک بدلتی پالیسی کا مظاہرہ امریکی اعلیٰ حکام کی طرف سے طالبان سے ان کے قطر میں واقع دفتر میں ملاقات اور ان کو مذاکرات کے ذریعے خطے میں امن بحال کرنے کی کوشش کر نا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات میں کس شرط سے طالبان دستبردار ہوں گے اور کون سا مطالبہ امریکی حکام کو چھوڑنا ہو گا ۔ بشکریہ دنیا نیوز

یہ بھی دیکھیں

سونامی، مہنگائی اور انصاف کی تحریک

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) ٹھیلے، تھڑے، فائیو سٹار ہوٹل یا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ...