بدھ , 12 دسمبر 2018

نکی ہیلی آخر مستعفی کیوں ہوئی؟

(تسنیم خیالی)
عصر حاضر میں عرب اور مسلمانوں سے نفرت اور اسرائیل سے محبت اور اس کی کھل کر حمایت کرنے میں نیکی ہیلی سے بڑھ کر اور کوئی خاتون نہیں جو دو سالوں سے اقوام متحدہ میں امریکی نمائندے کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔

منگل کےروز امریکی صدر ٹرمپ نے اچانک سے یہ اعلان کیا ہے کہ نکی ہیلی نے اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا ہے،اس خبر پر پوری دنیا حیران ہے کیونکہ نکی نے مستعفی ہونے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی۔

امریکہ ہجرت کرنے والے بھارتی والدین کے ہاں پیدا ہونے والی نکی گھٹیاپن،نسل پرستی اور انتہاپسندی کی ایک مثال ہے،وہ ایران کے خلاف ٹرمپ کی پالیسیوں کا ایک اہم محرک تھیں ،نیز امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی میں بھی اس کا اہم کردار رہا،شام پر امریکی حملے اور وہاں پر امریکی فوجیوں کے قیام میں بھی نکی ہیلی نے اہم کردار ادا کیا۔

اسرائیل سے محبت اور اس کی حمایت میں نکی ہیلی نے امریکہ میں موجود یہودیوں کی سب سے بڑی لابی’’آئیپاک‘‘ کے ایک منعقدکردہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہائی ہیل جوتی فیشن کی خاطر نہیں پہنتی بلکہ اس لیے پہنتی ہوں تاکہ میں اسرائیل پر تنقید کرنے والے ہر شخص کو لات سے مار سکوں‘‘۔

ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ہیلی نے اپنے منصب سے استعفیٰ کیوں دیا؟البتہ یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اس کا یہ کہنا کہ وہ آرام لینے کی خاطر مستعفی ہوئی ہیں ،قابل قبول عذر نہیں۔
علاوہ ازیں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہیلی کی اقوام متحدہ سے رخصتی پر ایسے بہت کم لوگ ہیں جو اداس یا پھر غم میں ہوں گے جن میں سرفہرست اقوام متحدہ میں موجود اسرائیلی وفد ہے۔

بعید از امکان نہیں کہ ہیلی کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کے ساتھ اختلافات پیدا ہوگئے ہوں،ٹھیک اسی طرح جس طرح سابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ پیدا ہوئے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسال بعد ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی نمائندہ بننے کیلئے تیاری کرنے جارہی ہوں اور اس مقصد کے لیے ایک تووہ ٹرمپ جیسے افکار کی حامل تو ہے ہی ،ساتھ اسے یہودی لابی ٹرمپ کے داماد جارڈکوشنرکی بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

ہیلی کا اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا جانشین اس سے بہتر ہوگا کیونکہ نسل پرستی اور خاص طور پر عرب اور مسلمانوں سے نفرت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی جنگی جرائم کی حمایت ٹرمپ انتظامیہ کا بنیادی اصول بن چکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...