بدھ , 12 دسمبر 2018

یمن جنگ اور امریکی سینیڑز کی خاموشی

الوقت نیوز(ترجمہ :تسنیم خیالی)
گزشتہ تین سال سے بھی زائد عرصے میں امریکی کانگریس سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل بند کرنے کا قانونی ذریعہ تلاش کرتی آرہی ہے،وہ ہتھیار جسے استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب یمن جنگ میں بے گناہ افراد کو قتل کرتا آرہا ہے۔آخر امریکی سعودیوں کو ہتھیار فروخت کرنا بند کیوں نہیں کرپارہے؟ جواب بہت مختصر سا ہے،آپ اس معاملے میں سعودی لابی اور پیسے کا کردار تلاش کریں۔

مئی2017ءمیں سعودی عرب کی پریشانی میں اس وقت اضافہ ہوا جب امریکی کانگریس میں سعودی عرب کو یمن جنگ کیلئے امریکی فوجی امداد اور ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کے لیے تحریک چلی،اس جنگ میں سعودیوں کا دارومدار در اصل امریکی ہتھیاروں اور میزائلوں پر ہے اور کانگریس میں سعودی عرب کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف تحریک اور قرارداد پیش ہونا واقعی میں سعودی ولی عہد کے لیے پریشان کن تھاکیونکہ وہ اس جنگ کے ذریعے خود کو ہیرو کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے۔

کانگریس میں پیش کی جانے والی قرارداد کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے بہت سے اراکین کی حمایت حاصل ہے،اس قرارداد میں واضح طور پر سعودی عرب کو حاصل امریکی فوجی مدد اور حمایت کے ساتھ ساتھ امریکی ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،اس مطالبے اور تجویز کے باوجود سعودی حکومت کے پاس ایسا حربہ موجود ہے جس کی بنا پر سعودی عرب کو اب بھی امریکی ہتھیار فروخت کیے جارہے ہیں اور یہ حربہ سعودی پیسہ ہے جسے سعودی عرب لابنگ میں استعمال کرتے ہوئے امریکہ پر دباؤ پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کہ وہ اسے ہتھیار بھی فروخت کرے اور عسکری مدد وحمایت بھی جاری رکھے۔

اس ضمن میں سعودی عرب لابنگ کے بڑے بڑے اداروں اور افراد کو بھاری رقوم دیتا ہے تاکہ امریکی کانگریس میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل اور فوجی مدد بند نہ ہوسکے۔

مثال کے طور پر سعودیوں نے امریکہ میں سرگرم مشہور لابنگ ادارے(Brown stein Hayatt Ferber Schreck)کو 2017ء میں لابنگ کے لیے پانچ لاکھ ڈالر دیے تھے،مذکورہ ادارے نے وصولی کے بعد 20 مرتبہ کانگریس سے سعودی عرب کو ہتھیار فروخت بند کرنے کی قرارداد کے حوالے سے رجوع کیا تھا۔

کمپنی نے سینیٹ قانون ساز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر ٹیم سکاٹ سے 16 مئی 2017ء میں رجوع کیا تھا،کمپنی نے ان کے اکاؤنٹ میں ان کی ایک سیاسی کمیٹی کے لیے 2000 ڈالر کا فنڈ جمع کیا تھا اور ٹھیک اسی روز سکاٹ نے کانگریس میں سعودی عرب کے حق میں قرارداد کی کئی دیگرسینیٹرز کے ساتھ مل کر مخالفت کی۔

امریکہ میں سعودی عرب کی لابنگ کی شروعات 2001ء میں 9/11حملوں کے بعد پہلی مرتبہ شروع ہوئی یہ وہ وقت تھا جب امریکیوں میں سعودی عرب کے لیے نفرت بھڑک اٹھی تھی کیونکہ حملوں میں ملوث 19افراد میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا،امریکی عوام کی رائے سعودی عرب کے بھرپور خلاف ہوچکی تھی جس کے جواب میں سعودی شہزادوں نے ایک دہائی پر محیط عرصے کے دوران اس عوامی رائے کو بہتر کرنے اور امریکہ میں اپنے اثرورسوخ کو قائم رکھنے کے لیے 100 ملین ڈالر صرف کردیے۔

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودیوں کے لیے امریکہ میں لابنگ اور بھی آسان ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے ساتھ ڈیل کرنا سعودیوں کے لیے اوباما کے ساتھ ڈیل کرنے سے آسان ہے۔

2016ء میں سعودی عرب نے امریکہ میں لابنگ پرایک کروڑ ڈالر خرچ کیے اور 2017ء میں 2.73کروڑ ڈالر کی رقم خرچ کردی،اسی سال سعودی عرب کے لیے امریکہ میں لابنگ کرنے والے ادارے اور افراد نے 300 مرتبہ امریکی سینیٹرز اور امریکی وزارت خارجہ کے مختلف عہدیداروں سے رابطے اور ملاقاتیں کی تاکہ کانگریس میں سعودی عرب کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی قرارداد منظور نہ ہوسکے،خاص طور پر ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کے متعلق۔یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی یمن پر جارحیت تاحال جاری ہے اور اس جنگ میں اب تک سعودی عرب کو امریکی ہتھیار وں کی فروخت اور فوجی مدد بند نہ ہوسکی۔

یہ بھی دیکھیں

شملہ معاہدے سے کرتار پور راہداری تک

(محمد افضل بھٹی) پاکستان اور بھارت کی باہمی تاریخ میں صرف چند مواقع ایسے آئے ...