جمعرات , 13 دسمبر 2018

بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی اور امریکی رہائشی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ خیال رہے کہ امریکا میں مقیم سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں ترکی میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مذکورہ کیس سے متعلق اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی کا حوالہ دیا۔ خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد نے صحافی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے اقتدار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ امریکی اخبار نے امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا نام بتائے بغیر بتایا کہ خاشقجی کے بارے میں یہ اطلاعات تھیں کہ سعودی عرب ان کو لالچ دے کر قید کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

اخبار کے مطابق جمال خاشقجی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے صحافی سے رابطہ کر کے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ واپس سعودی عرب آ جائیں تو انہیں حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری نوکری بھی دی جائے گی، تاہم خاشقجی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ انہیں اس پر شک تھا۔ امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ امریکا کو خاشقجی کے لاپتہ ہونے کا علم نہیں تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں خفیہ ایجنسی کے معاملات میں نہیں جا سکتا، لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کے لاپتہ ہونے کا ہمیں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل بین الاقوامی صحافیوں کی وکالت کرنے والے ادارہ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے ترکی میں قائم سعودی سفارتخانے سے 2 اکتوبر کو گمشدہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر خود مختار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی کی گمشدگی سعودی عرب کے صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیش نظر سامنے آئی۔

سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے جمال خاشقجی امریکی خبار ادارے واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے جبکہ ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔ صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔ جمال خاشقجی کی منگیتر کے مطابق وہ استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے تھے اور اس کے بعد سے انہیں کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی اطلاعات موصول ہوئیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایسا کام کریں تاکہ دشمنوں میں ایرانی قوم کو دھمکی دینے کی ہمت بھی نہ رہے:آیت اللہ العظمی خامنہ ای

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بحریہ کے ...