ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

جمال خاشقجی کی گمشدگی میں تیسرا ہاتھ؟

جمال خاشقجی نے کلمہ حق کہا ہے وہ شہید ہے۔ ہیت علمائے سعودی عرب کا بیان
اب تک صورتحال ایسی ہی ہے کہ جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کا ایشو کسی کروٹ بیٹھتا دیکھائی نہیں دیتا رسمی اور آفشلی طور پر نہ تو ترکی نے کوئی بات واضح کی ہے اور نہ ہی سعودی عرب کی جانب سے کوئی چیز سامنے آئی ہے ۔

عالمی و عربی میڈیا میں مسلسل یہ موضوع نہ صرف زیر گردش ہے بلکہ اب مزید گرمی نظر آ رہی ہے جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے بھی اس سلسلے میں سچائی سامنے لانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تو دوسری جانب مختلف انکشافات، بریکنگ نیوز، زرائع کی خبریں اور تجزیات نے میڈیا کے پرائم ٹائم کو گھیرا ہوا ہے۔

ترکی مسلسل سعودی عرب کے قونصل خانے سے یہ پوچھ رہا ہے کہ جمال کے قونصل خانے میں داخل ہونے کی فوٹیج تو ہے لیکن باہر نکلنے کی فوٹیج کیوں نہیں؟ اسی اثنا میں عالمی و علاقائی میڈیا میں مسلسل یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ جمال زندہ نہیں بلکہ وہ قونصل خانے کے اندر ہی مار دیا گیا ہے اور اسے مارنے میں دو طیاروں میں آنے والے وہ پندرہ افراد ہیں جن کے پاس ڈیپلومیٹک پاسپورٹ تھے اور استثنا حاصل تھی۔

ترک سیکوریٹی ادارے ایک ایسی وین کی تلاش میں بھی ہیں جو ان کے ساتھ تھی اور مبینہ طور پر وہ وین باڈی کو نکالنے میں استعمال ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب سے آنے والے پندرہ افراد میں شاہی گارڈ اور خفیہ اداروں کے افراد شامل تھے کہ جن کی تمام تر شناخت کو ترک میڈیا نے سی سی ٹی وی فوٹیج کے زریعے ظاہر کیا ہے۔

اردگان کا کہنا ہے کہ ’’ترکی جمال کے قتل کے بارے میں بالکل بھی خاموش نہیں رہے گا ‘‘جبکہ میڈیا میں سعودی علما کی غیر سرکاری کیمٹی ہیت علما سعودی عرب کی جانب سے ایک بیان جاری ہوا ہے کہ جس میں جمال کو ظالم حکمران کے سامنے حق کا کلمہ کہنے والا شہید اور سید شہید کہا گیا ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کے بارے میں زور دیا گیا ہے۔

ادھر امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک خط میں ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمال کے بارے میں تحقیقات میں کردار ادا کرے اور سچائی سامنے لائی جائے۔ تو جمال کی گمشدگی کا اصل ذمہ دار کس کو ٹھرایا جا رہا ہے؟ اور کیوں؟

الف: اب تک کے تمام تر حالات اور شواہد سعودی قونصل خانے کو اس کا اصل ذمہ دار ٹہراتے ہیں کیونکہ جمال سعودی حکمرانوں پر تنقید کرتا تھا اور گذشتہ چند سالوں میں کئی سعودی علما اور دانشور جیلوں میں ڈالے گئے ہیں جو بدلتے حالات اور ملکی تبدیلی ہوتی صورتحال سمیت طرز حکمرانی پر تنقید کیا کرتے تھے اور جمال بھی ان میں شامل تھے۔ جمال نے سعودی عرب چھوڑا ہی اس لئے تھا کہ وہ وہاں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا اور یہ بات اس نے اپنے کئی انٹریوز میں بتایا تھا۔

دوسری بات جمال پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کو دوبارہ منظم کر رہا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ اخوان پھر سے عرب ملکوں میں فعال ہو جائیں جو یقینا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بہت سوں کے لئے ناقابل برداشت بات ہے۔ لیکن ان باتوں کے سامنے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ جمال سعودی عرب کی حکمران خاندان کا مخالف کبھی نہیں رہا ہے اس نے ان آخری چند سالوں میں تنقید ضرور کی ہے لیکن وہ ایک عرصے تک اہم سرکاری عہدوں پر بھی رہا ہے اور اس کی تنقید کا زیادہ تر پہلو پالیسیز رہا ہے۔ جمال نے کبھی سعودی عرب میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کی بات نہیں کی بلکہ وہ اصلاحات کی بات کرتا رہا ہے۔

ب: ترکی بظاہر کوئی بھی ایسی وجہ دیکھائی نہیں دیتی کہ ترک حکومت کو جمال سے کوئی خطرہ ہو مگر یہ کہ ترکی میں کوئی دوسرا گروہ یا ڈیپ اسٹیٹ ٹائپ گروہ ایسا کوئی قدم اٹھائے جیسا کہ روسی سفیر کے ساتھ ہوا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ جمال نے ترک مخالف اسلام پسند رہنما گولن کے ساتھ ملاقات کی تھی اور وہ گولن کے ساتھ مل کر کچھ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ اہم سوال اب بھی باقی ہے کہ کیا ترکی نے سعودی قونصل خانے میں گھس کر اسے مارا ہو گا؟ جو کہ ناممکن چیز ہے پر اب تک ترکی نے بھی کوئی ایسا واضح ثبوت نہیں دیا کہ جمال کو مارنے میں قونصل خانے کا ہاتھ ہے، اگرچہ ترک زرائع عالمی و علاقائی میڈیا کو مسلسل لیکس کے زریعے فیڈنگ ضرور کر رہے ہیں۔

ج: اب تک سامنے آنے والے ناقابل تردید شواہد اور دلائل اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ جمال کی گمشدگی کی کہانی سعودی قونصل خانے میں ہی شروع ہوئی ہے اور وہیں پر ہی یہ کہانی ختم ہو گی۔ اگرچہ بعض میڈیا ہاوسز قطر پر الزام لگا رہے ہیں کہ قطر اس کے پچھے ہے جو یقینا روائتی نوعیت کا الزام ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کا دُور کا بھی کوئی شائبہ سامنے نہیں ہے۔

آخری بات: جمال کا ماضی ایسا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان، شام و عراق میں داعش و القاعدہ کو اپنی تحریروں میں سراہتا رہا ہے۔ جمال کی گمشدگی کی گتھی کو سلجھانے میں مزید کتنا وقت لگتا ہے یا پھر یہ کتھی سلجھتی بھی ہے یا نہیں اس وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ جمال کی گمشدگی کی اصل وجوہات میں بھی کنفیوژن موجود ہے اگرچہ انگلیاں اس وقت سعودی عرب کی جانب اٹھی ہوئی ہیں لیکن ان انگلیوں کے پیچھے اب تک واضح قانونی کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب کی پوزیشن اس لئے کمزور ہے کہ ان کے پاس جمال کے قونصل خانے کو چھوڑنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ۔ بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب نے صحافی جمالی خشوگی کے قتل کی تصدیق کردی

جمال خشوگی کو استنبول میں سعودی سفارتخانے میں قتل کیا گیا، سعودی عرب نے صحافی ...