پیر , 17 دسمبر 2018

آخر کویت نے ترکی کے ساتھ فوجی معاہدہ کیوں کیا؟

(تسنیم خیالی)
کیا کویتیوں کو خطرہ محسوس ہو رہا ہے؟

کویت اور ترکی کے درمیان حال ہی میں عسکری باہمی تعاون پر مبنی ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے اور ماہر تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ معاہدہ معمولی نہیں کیونکہ جس وقت اور حالات میں یہ معاہدہ طے پایا ہے وہ معمولی نہیں۔

مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیج فارس کا علاقہ کافی عرصے سے انتہائی کشیدہ صورت حال سے گزر رہا ہے، علاقے میں نہ صرف ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کا معاملہ ہے بلکہ قطر کے بائیکاٹ کا معاملہ بھی علاقے کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کے معاملے کو ایک سال سے بھی زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، قابل غور بات یہ ہے کہ اس بائیکاٹ میں تین خلیجی ریاستیں شامل ہیں جنہوں نے اپنے ہی پڑوسی اور بھائی خلیجی ریاست قطر کا بائیکاٹ کیا ہے، بات صرف بائیکاٹ کی نہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب اور امارات قطر کے خلاف فوجی کارروائی کے ذریعے اس پر قبضہ جما کر وہاں کے نظام میں تبدیلی لانے کا منصوبہ بنا چکے تھے مگر امریکی مخالفت نے ایسا نہیں ہونے دیا۔

اس معاملے کے آغاز میں ہی کویت نے غیر جانبداری کا موقف اپناتے ہوئے اس معاملے کو ثالثی کا کردار نبھا کر حل کرنے کی کوشش کی، جو سعودی عرب اور امارات کو اچھا نہیں لگا، دونوں کی خواہش یہ تھی کہ بائیکاٹ میں کویت بھی شامل ہو جائے مگر ایسا نہیں ہوا، جس کے بعد دل ہی دل میں سعودی اور اماراتی کویت سے نفرت کرنے لگے۔

کویت اگرچہ رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ہے البتہ وہ اس چھوٹے رقبے کے باوجود خلیج فارس کے علاج میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اور وہاں کے امیر اور حکمران خاندان کو پڑوسی ممالک کے حکمران خاندانوں کی طبیعت اور کیفیت کا اچھی طرح سے علم ہے۔

کویتیوں کو اس بات کا یقین ہے کہ سعودی عرب اور امارات نے جو کچھ قطر کے ساتھ کیا ہے وہ اسے کویت کے ساتھ دہراتے ہوئے اس سے بدتر بھی کر سکتے ہیں یہی سوچ سلطنت عمان کی بھی ہے جس نے کویت کی طرح غیر جانبداری کو ترجیح دیتے ہوئے قطر کے بائیکاٹ میں حصہ نہیں لیا۔

خیر کویتیوں کو سعودی عرب اور امارات کے قطر کے خلاف جارحانہ رویے کے بعد اپنی فکر لاحق ہوئی اور اب حفاظتی اقدام کی صورت میں کویت نے ترکی کے ساتھ عسکری باہمی تعاون کا معاہدہ کیا ہے تا کہ سعودی عرب اور امارات اس کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رہیں۔

ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں ترکی اپنے کچھ فوجی دستے اس معاہدے کے بہانے کویت بھیجے جو وہاں ایک فوجی اڈہ بھی قائم کر سکتے ہیں ٹھیک اسی طرح کا ترک فوجی اڈہ جو قطر میں بائیکاٹ کے معاملے کے بعد قائم ہوا۔

یہ بھی دیکھیں

ہندوستان کی سیاست پر ہندو دھرم کا مکمل غلبہ

(آصف جیلانی)  بلا شبہ اس وقت ہندوستان ، کٹر ہندوتا کے گھور اندھیرے میں بری ...